
نگہت پروین
لشکر فیل جہالت پر اتر آیا
اے خدا پھرسے ابابیلوں کو کنگ کر دے دے
بربریت،ہٹ دھرمی،نا انصافی اورجنگ بندی اورامن معاہدوں کو توڑنا اسرائیل کی روایت بن چکی ہے ،امریکہ کے بل بوتےپریہ ناخدابناہواہے، اسرائیل کےمقاصد کو تو قرآن پہلے ہی بتا چکا ہےکہ یہ خود کچھ نہیں کسی کی مدد مل جائے تومل جائے۔
اسرائیل غیروں پرتکیہ کیےآگ وخون کی ندیاں بہارہاہے،بچوں کو یتیم اورعورتوں کو بیوہ اورخاندانوں کو تباہ وبرباد کرکےاپنے آپ کوجیتا ہواسمجھتا ہے، اللہ کی رسی جب کھینچ جائےگی توسارا غرورخاک میں مل جائےگا مگر جتنا نقصان جتنا غم واندوہ اورتہس نہس کاکھیل اس نےرچایا ہےاس کاعذاب اسے بھگتناہوگا۔
بچوں کے بھی خواب ہوا کرتے ہیں
جنگ کرنےکےبھی اداب ہوا کرتے ہیں
ایک تہذیب یافتہ،تعلیم یافتہ قوم ایک مستند ادارےاقوام متحدہ کی قراردادوں کااحترام کرتےہوئےاس پرعمل کرتی ہےاور عمل کرنا فرض بھی ہےمگرطاقت کے نشے میں مست اسرائیل اپنےپیروں تلےان تمام قراردادوں کو کچلتا رہا ہےاورکسی جنگ کا مقصد اس جگہ پرقبضہ حاصل کرنا ہوتا ہے،مگریہ اندھا دھند آبادی کواپنا نشانہ بنا کر جنگی اداب کو بھی تہہ وبالا کررہا ہےاورفلسطین کی آبادی کوختم کرنےکا خواب اس کا کبھی پورانہیں ہوگااورفلسطین پرقبضہ تووہ کرہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ کی مدد نشان زدہ کنکروں سےبھی ہوتی ہے، اسرائیل انسانی حقوق کی پامالی کرکےسمجھتا ہےکہ وہ مکمل طور پرانسانی آبادی ختم کرسکتا ہے،اس کا یہ حربہ خوداس کے لیےباعث شرم ہے۔
اہم بات تو یہ ہے کہ مسلم دنیا خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟اصل وجہ یہ ہے کہ اقتدارکا نشہ بہت براہے،اللہ پربھروسہ و توکل کی کمی نےدنیا کی طاقت کےآگے،لب سی دیےہیں،یہ پتہ نہیں کہ اوپرجوہستی ہےوہ مکرومکراللہ واللہ خیرالماکرین ہے ۔دشمن اپنی چال چلتا رہےمگر اللہ اپنی چال چلتا ہے اوراسی کی چال بہت بہترین ہے ۔
اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا رحجان کم ہوتا جا رہا ہے،مسلم عوام کوسوچناچاہیےکہ ایک فلسطینی کے خون کے بدلےوہ بائیکاٹ کو اہمیت نہیں دے رہےجو کہ افسوس کا مقام ہےہمارے لیے بائیکاٹ مشکل ہے،وہاں ہمارےمعصوم پھول بھوک سے تڑپتے ہوئے ایک ایک روٹی کو ترس رہے ہیں کیوں نہ شر م سےسر جھکے؟
جب فلسطین فنڈ کی بات کی جاتی ہے تومہنگائی کا رونا شروع ہوجاتا ہےہم توچاروقت کھا رہےہیں پرہمارے فلسطینی بھائی ایک وقت کےکھانے کوترس رہےہیں،اس صورتحال میں مہنگائی کی رونے کی بجائے کسی کی بھوک کااندازہ کرکےفنڈز کی حمایت کرنا چاہیےاورفنڈزدینےچاہئیں اورہم اتنی دوربیٹھ کردعا کریں گے، اللہ تعالیٰ مسلم حکومتوں کوجھنجوڑکر بیدارکردے پھرفلسطین اکیلا نہیں ہوگا، وہ اکیلا تھا بھی نہیں کیونکہ اللہ اپنےوعدے کےخلاف نہیں کرتا اوراللہ کا وعدہ ہےکہ جنگ میں پیٹھ نہ پھیرنے والوں کی مدد اللہ ضرور کرے گا اورفلسطینی عوام نےاس کوثابت کردیا،اتنے مسائل مشکلوں اتنی شہادتوں کےبعد بھی آج تک ڈٹے ہوئے ہیں۔
اسرائیل اوریورپی طاقتیں حیران ہیں کہ ان کوموت سےڈرنہیں لگتاشہادت پرروتے نہیں شکر اداکرتےہیں اورجہد مسلسل کی تصویربنےہوئے ہیں،بےخبرمسلمانوں اور حکمرانوں جان جاؤان کواللہ پرپورابھروسہ ہے،اگرتمام مسلم حکمران اللہ پر بھروسہ اور توکل کرتےہوئے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہوں تو دشمن کا خاتمہ مشکل نہیں ۔




































