
نگہت پروین
ویلنٹائن ڈے کی ابتدا 1700 سال قبل ہوئی۔ اہل روم کے نزدیک 14 فروری کادن "یو نودیوی" کے نزدیک مقدس تھا اور اہل روم "یونودیوی" کو عورتوں اور
شادی بیاہ کی دیوی کا کہتے تھے۔عشق ومحبت،فحش اورغیر شرعی تعلقات رکھنا ویلنٹائن ڈے ہے ۔
ایک پادری جس کا نام والنٹائن تھا اس کو 14 فروری 279 عیسوی کوپھانسی دے دی گئی، بس اس کی یاد میں آج تک ویلنٹائن ڈے منایا جارہا ہے ۔کہتے ہیں ویلنٹائن ڈے محبت کا ایک دن ہے ،یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے بعد محبت ختم ہو جاتی ہے ؟
محبت تو پاکیزہ جذبہ ہےجودل کے اندر ہوتا ہے۔ بحیثیت مسلمان محبت کلی کی حق دار وہ ہستی ہے جس نے ہمیں پیدا کر کےاس دنیا کی نعمتیں عطا کیں اور نگہبانی بھی کر رہا ہے مگر مادیت پرستی کا حال یہ ہے کہ اپنی اقدار کوپس پشت ڈال کر یہ ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے جو سراسر غلط ہے پھر اس میں میڈیا بھی اپنا برا کردار ادا کررہا ہے ،اس دن کے حوالے سے خوب خوب پروگرام نشر کرتا ہے جو کسی طور بھی پاکستانی معاشے کی عکاسی نہیں ہے ۔
ٹی وی چینلز اس سلسلے میں پروگرام پیش کرتے ہیں۔ ڈرامے نشر کیے جاتے ہیں اور مارننگ شوز ہوتے ہیں۔ لڑکیاں اور لڑکے سفید اور لال لباس زیب تن کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو گلاب کے پھول تحفتاً پیش کرتے ہیں اور اس دن گلاب کے پھول اس قدر نایاب ہوجاتے ہیں کہ کسی دکان پر ڈھونڈے سے نہیں ملتے ۔
کیا اسلامی معاشرے میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟ بالکل بھی نہیں کیونکہ محبت اللہ کی ہستی کے بعداپنےوالدین اپنے شوہراپنے رشتہ داروں بہن بھائیوں سے ہوتی ہے تو یہ محبت ایک دن کی تو نہیں ہوتی یہ تو ہمیشہ دل میں رہتی ہے اور اس کا اظہار اکثر ہوتا رہتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کیا چل رہا ہے اور ہم بھی اسی ڈگر پر چل پڑتے ہیں بغیر سوچے سمجھے کہ یہ چال ان لوگوں کی ہے جو اسلام اورمسلمانوں کے خلاف ہیں۔ ہمیں اپنی اقدار اپنانی چاہئیں نا کہ غیروں کی ۔ہمارے دین اورآباؤاجدادنے جو اقدار ہمیں دی ہیں، ان ہی پر عمل کرنا چاہیے ۔محض لڑکے اور لڑکیوں کی دوستی اور اس کے فروغ سے بے ہودگی کا فروغ ہوگا تومعاشرہ برائی کی طرف جائے گا اور تباہی کے سوا اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔
بقول علامہ اقبال
محبت مجھے ان نوجوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند




































