
نگہت پروین
آج عاصم بہت خوش تھا وہ ابھی بازار سےآیا تھا، اس کے تھیلےمیں لیز کے چپس،پیپسی کی بوتل،کیڈبری چاکلیٹ،ٹینگ کا ڈبہ، لیوبسکٹ، کنور کےنوڈلزاور
سیون۔ اپ کی بوتل تھی۔
اس کی بہن سعدیہ نے کہا کہ کیوں اتنےخوش ہواورکیاکیالےآئے،اب جواس نے تھیلا دیکھاوہ ان چیزوں سے بھراہواتھا جن کاہم 12 ،13 مہینےسے بائیکاٹ کر رہے تھے۔
پوچھا یہ سب کیا ہے؟
یہ بائیکاٹ شدہ چیزہےتم نے کیوں خریدیں؟ تمہیں فلسطین میں مسلمان بہن بھائیوں کابہتا خون یاد نہیں آیا۔۔۔ یاپھراسرائیل کےمظالم بھول گئے غزہ کی تباہی بھول گئے۔آخرکیوں تم نےیہ سب خریدا ۔
باجی اب توجنگ بندی ہوچکی تو میں نے یہ سوچ کریہ سب لے لیا ہے۔ بھائی یہ بائیکاٹ صرف جنگ تک نہیں ہمارا مقصد اسرائیل کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے۔
ہم اب کبھی یہ اشیاء نہیں خریدیں گےاوراس طرح ہم اپنےملک کی معیشت کوترقی دےسکیں گےاوریہودی مصنوعات کا بائیکاٹ اسرائیل کو ہمیشہ یاد دلا سکے گا کہ مسلمان مسلمان کی ہروقت مدد کے لیے تیار رہتا ہےاورمسلمانوں کا یہ اتحاد اسے کمزورسےکمزور کرے گا ۔ انشاءاللہ




































