
مقابلہ مضمون نویسی میں شامل تحریر
نگہت پروین / کراچی
ٹی وی ابلاغ کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی اسکرین سے جو کچھ نظر آتا ہے وہ فوری اثر کرتا ہے۔ ڈرامہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے لوگ بہت شوق سے
دیکھتے ہیں اور پھر وہ فوری اثر انداز ہوتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ کوئی جمع تو ایسا ہے کہ دیکھنے والے کے گھریلو حالات ایسے ہوتے ہیں یا وہ شخص جو ڈرامہ دیکھ رہا ہے اصل زندگی میں ایسا نہیں کر سکا تو اسے اس ڈرامے میں اپنا عکس نظرآ رہا ہوتا ہے اور نتیجتا وہ اس ڈرامے کا اثر لے کر اسی طرح کا سوچنے اور کرنے لگتا ہے یا پھر جو کچھ اس کے خواب اور خیال میں اس کی زندگی کو رنگین بنانا چاہتا ہے وہ ان ڈراموں سے اثر لے کر چاہے اچھا چاہے برا عمل کر لیتا ہے ۔مثلا ایک ڈرامے میں خواتین بہت ازادانہ ایک دوسرے کو کمینی،ذلیل جیسے گندے الفاظ استعمال کر رہی ہیں اور بھی بہت سے دوسرے بہت غلط اور گندے الفاظ استعمال کر رہی ہیں اور ازادانہ تھپڑ بھی ایک دوسرے کو مارتی ہیں بڑوں کے ساتھ چھوٹے بھی یہ دیکھ کر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اب ایسا ہی بولنا چاہیے کیونکہ یہ تو پڑھے لکھے لوگ اس طرح بول رہے ہیں تو اپ بھی بول سکتے ہیں۔ یہ تو کوئی بری بات نہ ہوئی پھر ایک ڈرامے میں اپنی سہیلی کے شوہر سے چکر چل رہا ہے۔ عوام کو نیا سبق دینا کہ سہیلی کی غیر موجودگی کا کس طرح فائدہ اٹھایا جائے کیا یہ دکھانا صحیح ہے ؟
ایک جام جس میں لڑائی جھگڑا خون خرابہ دکھایا جا رہا ہے ہے اس ڈرامے کی مخصوص لائن ہے کہ اس جگہ کی خاصیت خون پینا ہے یہ معاشرہ ویسے ہی برائیوں کی آ ماجگاہ بنا ہوا ہے اس میں یہ لائن خاندانی زندگی پر بڑی بری اثر انداز ہوتی ہے کہ لڑائی جھگڑا خون خرابہ اپس کے تعلقات میں یہ چیز زہر ہے مگر ٹی وی ڈرامہ یہ تصور پیدا کر کے گھریلو تعلقات بکھیرنے میں کردار ادا کر رہا ہے ۔ماں باپ اولاد کی تربیت کرتے ہیں انہیں اپنی تربیت پر اتنا تو یقین ہوتا ہے کہ میرے بچے کس طرح کے ہیں اور بچے کی بات پوری سن کر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے بعض دفعہ اگ جو دکھاتی ہے وہ سچ بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اس وقت شاید کوئی مصلحت پیش نظر یا جو کچھ دکھ رہا ہے اس میں وہ سچائی نہ ہو جو اپ کو نظر ارہی ہو تو اس ڈرامے میں دیور بھابھی کو بھتیجے کی حفاظت کے لیے کسی محفوظ جگہ لے جاتا ہے وہاں دیور کی بیوی اور بچے کا باپ پہنچ جاتے ہیں اور بات کو غلط رنگ دے کر اور بھائی کی بغیر بات سنے فرمان جاری کر دیا کہ تم نے بھائیوں کر میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے اس ڈرامے سے بھی جو پیغام عوام کو مل رہا ہے کہ شوہر کے ہوتے ہوئے شوہر کے بھائی کو ورغلانا اور ان کی اچھے خاصی زندگی میں در اندازی کر کے اس گھر کو توڑ کر اپنی دوست کے ساتھ مل کر خود یہ شوہر کے باعث شادی کرنا اور والدین کا اپنے بیٹے سے اس سلسلے میں بات نہ سننا کیا پیغام دے رہا ہے یہ ڈرامہ؟
ٹی وی ڈراموں میں پڑھے لکھے گھرانوں کے لوگ ہوتے ہیں اب اپ کے نزدیک ہے بالکل ٹھیک کام کر رہے ہوتےہیں توپھرعوام کے کرداراورعمل پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں ۔
یہ تو چند ڈرامے ہیں جو ہم موبائل پر دیکھتے ہیں کیونکہ اج کل گھر میں ٹی وی پر یوٹیوب لگ چکا ہے لہذا پتہ ہی نہیں کس طرح کے پروگرام پیش ہو رہے ہیں .ایک ڈرامے زبردست مسئلہ کا حل بھی بتایا کہ مرد کے ساتھ بے عزتی والا معاملہ ہو تو 48 گھنٹے کے اندر اندر پولیس اسٹیشن میں ایف ائی ار کٹوائے ورنہ بعد میں کوئی شنوائی نہیں ہوگی اور اسی طرح میں نے باپ کی ڈانسر سے شادی نہیں ہو پاتی مگر وہ اپنی بیٹی کی اسی ڈانسر کے بیٹے سے شادی کر رہا ہے بتانے کون سا سبق عوام کو دینا چاہتے ہیں؟
آج کل معیاری ڈرامے جس میں رشتوں کا احترام محرم رشتوں کی عزت والدین کے ساتھ سلوک خاندانی روایات کی پاسداری تو دکھاتے نہیں طلاقیں ،بھائی کی بیوی سے عشق ، جیٹھ سے محبت،والدین کو جواب دینا،ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہنا بھلا عوام کیا سیکھ رہے ہیں؟برے اثرات برے معاشرے کا ائینہ ہوتے ہیں اور وہ ہمیں ہر جگہ نظر بھی ارہے ہیں اس ادارے کو اس بات پر ایکشن لینا ہوگا کہ ہمیں اپنی ثقافت، تہزیب،خاندانی روایات،اور اپس کے تعلقات کو بہتر بنانے کی اختیار کرنا ہوگی ۔




































