
نگہت پروین
یہ اٹل حقیقت ہے کہ لوہا بہت سخت چیز ہے، اس کو اگر کسی شکل میں ڈھالنا ہو تو آگ میں تپا کر اسے موڑا جاتا ہے
پھر مطلوبہ شکل ملتی ہے۔ عام ہاتھ اسے نہیں موڑ سکتے کیونکہ یہ سخت ترین شے ہے لیکن غزہ کی عورت یہ کیسی ہے؟ اس کا عزم اس کے ارادے اس کی اولاد کی تربیت اس کی سوچ لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
اللہ نے عورت کے دل کو بہت نرم بنایا ہے ،وہ بہت حساس ہوتی ہے مگر جب القدس کی آزادی کی بات ہو،کافر سےلڑائی مقصودہوتو یہی عورت فولاد (لوہا )بن جاتی ہے ۔اپنے گھر کی تباہی،اپنے شوہر اپنے بہن بھائی اور پھر اپنے ننھے معصوم بچوں کی شہادت پر بین نہیں کرتی کیونکہ غزہ کی عورت کہتی ہے القدس کی آزادی تک ہر قربانی دینی ہے۔
کیا اس کا دل نہیں دکھ رہا ہوگا؟ غزہ کی عورت اس وقت تاریخ رقم کررہی ہے۔معصوم بچے جو شہادت پا گئے ،سفید کفن میں ملبوس ماں ماتھے پر پیار کرکے کہتی ہے تم جنت کے پھول ہو ۔۔۔۔ہم جلد تم سے ا کر وہاں ملیں گے۔یہ ان عزیمت اور بلندی کی مثال ہے ،اس کا یقین اس ہستی پر ہے جو ہمیشہ انصاف کرتا ہے ۔بندوں کی شہ رگ سے بھی قریب ہے اور ہر بندے کی استطاعت جانتا بھی ہے، اس کی ڈالی ہوئی آزمائش پر غزہ کی عورت پوری اتر گئی۔
کافر حیران اور لرزاں ہیں ،کیسے یہ عورتیں بجائے سینہ کوبی کے یا چلانے"حسبی اللہ"کا ورد کرتی ہیں اور اپنے جانے والوں کی رخصتی پر کیسےخاموش ہیں اور ان کے چہروں پر تو اطمینان نظر آتا ہے۔۔۔۔ تو سن لو کافروں!!!۔۔۔۔غزہ کی عورت سمیت ہر مسلمان یہ جانتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنت مختص کر دی ہے جواہل ایمان کیلئے ہے اللہ کی راہ پر عزیمت سے چلنے والوں کیلئے ہے جو انبیائے کرام کی سرزمین کی حفاظت کیلئے مرمٹنے والوں کیلئے ہے ۔
تمہاری بزدلی اور کمزوری ظاہر ہو گئی ہے ۔ تم کیا مقابلہ کرو گے فلسطین کے عوام کے جذبہ شہادت کا؟ تمہارے لیے تو ایک نازک سی عورت ہی مثال ہے۔ جو ڈٹی ہوئی ہے ، کھڑی ہوئی ہے ، تمہاری کمزوری اور بزدلی نے اسے اور نڈر بنا دیا ،وہ چٹان کی طرح مضبوط بن گئی ،جس سے تم ٹکرا کر پاش پاش ہو گئے ہو۔ غزہ کی عورت آج بھی مضبوط عزائم کے ساتھ القدس کی آزادی کیلئے ڈٹی ہوئی ہے۔ یاد رجھو کہ شکست تمہار مقدر بنے گی اورجہنم تمہارا ٹھکانہ ہو گا ۔




































