
نگہت پروین
تاریخ ہے حجاب ۔۔۔تعریف ہے حجاب
شناخت ہے حجاب ۔۔حجاب میں حیات
وفا کی پیکر اے بنت حوا حیا کی چادر سر سے نہ سرکنے دینا
کٹھن ہو جتنی بھی ساعتیں نا خود کو بھٹکنے دینا
پہلے شرم کی وجہ سےپردہ کیا جاتا تھا،اب پردہ کرنے میں شرم آتی ہے،زمانہ بدل رہا ہےمگراحکام الہٰی نہ بدلےہیں نہ بدلیں گے۔عورت کو شاعروں نے آبگینے سے تشبیہ دی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہےکہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے، سختی کرو گے تو ٹوٹ جائے گی۔
عورت کی اتنی عظمت،عزت اور وقارصرف اورصرف دین اسلام کی مرہون منت ہے،جبھی توعورت کو دائمی اورلازوال عزت دینےکےلیے قرآن میں سورہ نور اور سورہ النسا میں عورت کے لیے پردے کے احکام نازل ہوئے ہیں۔
مسلم عورت چادر کےھالےمیں محفوظ ہےاورجب مسلم عورت حجاب لیےباہرنکلتی ہےتو قرآن کہتا ہے کہ پہچان لی جائیں اورستائی نہ جائیں ۔عورت جب باہر نکلتی ہے،ساتھ شیطان لگتا ہےاور شیطان کی نگاہ زہر میں تر تیر ہے،اس سے بچت کے لیے حجاب مکمل تحفظ ہے۔حجاب نظریہ ہے،حجاب تہذیب ہے اور حیا وہ قوت ہے جو ستر پوشی سکھاتی ہےاورغیر محرموں کی بد نگاہی سے بچاتی ہے۔
جب حجاب اپنایا توکچھ لوگ کہنے لگےتمہاراحجاب تمہارے لیےکئی دروازے بند کر دے گا ،میں نےکہا جی ہاں ان دروازوں میں سےایک دروازہ جہنم کا بھی ہے۔ وہ یقیناً بند ہوگا ۔ ترقی کے راستے مضبوط ہوں گے،اچھےرشتے نہیں آئیں گے تو میرا جواب یہی ہے کہ ایسی ترقی جس میں اللہ کے احکام کو پس پشت ڈالوں منظور نہیں اور اچھے رشتے پاکیزہ کو پاکیزہ ہی ملےگا،یہی ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے۔
حیا حجاب فطری ہے ،حیا کا تقاضا حجاب ہے اور حجاب میں وقار ہے،اس میں اپنا آپ محفوظ اورقابل احترام لگتا ہے۔
یہ چادر کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ میرے رب کا میرے لیے انعام ہے ،رب کے احکام کی پابندی خیر ،حفاظت اور عافیت ہے ۔




































