
نگہت پروین
اکیس اگست 2025 کےجسارت اخبارمیں چھپی خبر نےبے چین کردیا خبر تھی کہ دنیا کےتمام اسکالرزاورفتاوی سینٹرز کا اتفاق ہےکہ مستقل نس بندی شرعا حرام ہے "کیا یہ خبر اللہ
تعالی سے لڑائی یا مخالفت مول لینے والی نہیں ؟
اللہ نے اپنے دین کو اس دنیا میں قائم کرنے کے لیےحضرت آدم علیہ السلام اورحواعلیہ السلام کو پیدا کرکےنسل انسانی کی ابتدا کی اور اسے شرفیت بخش کر اشرف المخلوقات بنا دیا اور پھر ارادے اور عمل کا اختیار دے کر انعام میں جنت اورسزا میں جہنم بھی تیارکر دی پھر آج کی دنیا کے انسان نعوذ باللہ کہتے ہیں کہ آبادی نہ بڑھے، معاش کے مسئلے کے ساتھ اور بہت سارے مسائل ہوں گے تو وہ یہ بھول گئے کہ تخلیق کائنات کی رب نے نگہبانی اور نگرانی نہیں چھوڑی ، وہی رازق ہے ،وہی مسبب الاسباب ہے ۔
پھر یہ نس بنتی کیوں ؟
اللہ کی تخلیق میں کوئی کمی تو نہیں ہےجو یہ اس کمی کو پوراکرنےکےلیےنئی نئی باتیں کرتے ہیں۔نس بندی سے مرد یا عورت سے تولیدی صلاحیت ختم کرنا شریعت میں ناجائز اور حرام ہے ۔اللہ کے دین میں بڑی آسانیاں ہیں ،کبھی کبھی بیماریوں کی وجہ سے مانع حمل کے لیے دوا اور انجیکشن کا استعمال جائز ہے مگر مستقلا ًنس بندی اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔
ہمیں قران کی سورہ بقرہ کی آیت 171 کے مطالعےسےپتہ چلتاہےکہ اللہ نے یوں فرمایا ترجمہ۔۔
یہ ہے لوگ جنہوں نے خدا کےطریقے پر چلنےسےانکارکیاان کی حالت بالکل ایسی ہےجیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے۔
"ورہ بقرہ ایت 223 کی تشریح تفہیم القران میں ہے کہ "اللہ نےاس آیت میں فرمایا کہ نسل انسانی کےلیےشادی ذریعہ بنایا اور شادی کے نتیجے میں جو اولاد ہوگی وہی دین کے کام کرائے گی، آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے مستقبل کی فکر کرویعنی اپنی نسل انسانی کوبرقرار رکھنے کی کوشش کرو تاکہ تمہاری دنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری جگہ دوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں ۔دوسرایہ کہ تم اپنی جگہ جس نسل کو چھوڑنے والے ہو اس کودین ،اخلاق اور آدمیت کے جوہر سے آراستہ کرنے کی کوشش کرو بعد میں اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر دونوں فرائض ادا کرنے میں تم نے قصد،کوتاہی کی تو اللہ تم سے باز پرس کرے گا ۔
ایک اور دلیل قرآن سے یہ بھی ملتی ہے کہ سورہ بقرہ میں جب سبت کاقانون نہ مانا تو نافرمانی کے نتیجےمیں اللہ نےبندر بنا دیا،اللہ تعالیٰ کی اتنی ہدایات کے باوجود شرعا حرام کام سے سندھ حکومت مردوں کو نس بندی کے لیے سہولیات فراہم کر رہی ہے،اس ذریعے سے نقصان کا اندازہ لگا ئے بغیر فوائد سمیٹنا کم عقلی ہے ۔انسان کی فطرت بدلتی رہتی ہے، نس بندی کے بعد اس کو ذہنی دباؤ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے یہ کیا کیا ،میں نے حکم اللہ کو روندا تو پھر یہ سوچنے کے بعد کوئی چارہ تو نہ ہوگا اس کے پاس ؟معاش پر بوجھ کیسے بن سکتا ہے؟ سورہ آل عمران میں آیت 191 میں اللہ تعالی فرماتا ہے "اللہ تعالی نے کوئی چیز عبث نہیں بنائی، پاک ہے تو بس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ۔
تو یہ اللہ کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے پھر کیوں فکر اور کیوں حکم الہیٰ کےخلاف حرام کام کی ترویج ہو۔فطرت کےخلاف جو عمل ہوگا، اس میں پیچیدگیاں تو ہوں گی، ہمارے دین میں تو یہ بھی ہے کہ ایسی عورتوں سے شادی کرو جو زیادہ بچے پیدا کر سکتی ہوں تو یہ اللہ کا حکم ہےمذاق تو نہیں ؟
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد رضائے الہی ٰکے لیے اس کی سرزمین پراس کا دین قائم کرے تو نس بندی اللہ کی نافرمانی ہے اور نافرمانی کی سزا جہنم ہے ،قران کے واضح احکام نس بندی کو حرام قرار دیتے ہیں اور فطرت سے بگاڑ کا نتیجہ فسادہے۔




































