
نگہت پروین
خیبر پختون خوا میں آسمان پھٹ گیا اورایسی بارش ہوئی کہ سیلاب آگیا،سیلاب نہیں تھا اللہ تعالیٰ نےجیتےجی قیامت کا نظارہ دکھا دیا،اس سے کچھ ہو نہ ہو مگر قیامت آئے گی، اس پر
ایمان پکا ہو گیا ۔کیسی قیامت تھی کہ پانی کے بہاؤ میں مکانات ، گاڑیاں اور مضبوط درخت اور انسانوں کی بڑی تعداد بہہ گئی۔
یا اللہ اتنی تباہی موبائل پرویڈیوز دیکھ کردل لرز رہاہے۔پانی کا بہاؤاتنا تیزہےبڑے بڑے مکانات اور بڑی بڑی گاڑیاں کھلونوں کی طرح بہہ گئے۔کتنی محبت اور محنت سےگھر بنتے ہیں اور اس پانی نے سب کچھ بہا دیا ،جو لوگ ملبےتلے دب گئےہیں وہ کتنی تکلیف میں ہیں ۔رضاکار ان کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔اتنی اموات ہو گئیں کہ اعلانات ہو رہے ہیں ۔میت نہلانے اور دفنانے کے لیے لوگ درکار ہیں۔اللہ یہ کیسی قیامت ہے؟ وہ مال و اسباب جو بڑی محنتوں سےجمع کیاتھا،کیسےلمحےمیں بہہ گیا ۔زخمیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔ الخدمت کے ڈاکٹر ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور دوائیں اور حفظان صحت کی تمام چیزیں انہیں فراہم کر رہے ہیں ۔پانی کابہاؤ اتنا تیز ہے کہ کچی بستیاں تنکوں کی طرح بہہ گئیں ،اتنے خوفناک مناظر کہ اللہ کی پناہ ۔۔۔۔
لاپتہ لوگوں کا پتہ لگانا بہت مشکل ہو رہا ہے
اب ہم کچھ بھی راگ الاپتے رہیں کہ یہ حکومت کی لاپروائی تھی،فی الحال ان کی مدد کی بےحد ضرورت ہے۔الخدمت کے رضاکار اور ڈاکٹر اور عملہ پوری طرح مستعد ہو کر ان لوگوں کی مدد کر رہا ہے اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب اور سراج الحق صاحب ان علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔ امدادی سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے اور لوگوں کو خوراک اور دوسرا سامان دیا جارہاہے۔اس وقت عوام اس مصیبت کی گھڑی میں فنڈز کےذریعےمدد کرسکتےہیں اوراللہ سے گڑگڑا کران کیلئےدعابھی ضرورکریں ۔نہ جانے کب تک یہ صورتحال ٹھیک ہو،ضرورت ہےکہ حکومت اپنی پلاننگ کو مضبوط کرے اور ایسے حادثات کی صورت میں فوری اور جامع اقدامات کر کے متاثرہ افراد کی بحالی یقینی بنائیں ۔




































