
نگہت پروین
ام ہانی بہت بہادر عورت تھی۔ ماں کی حیثیت سے اس نےاپنی بیٹیوں کو جہاداورشہادت کامفہوم بہت اچھی طرح سمجھایا تھا اور پھرجب اسرا ئیل کے ایک بم نے اس کی ہنستی کھیلتی
زندگی اور پرسکون گھر کو تہس نہس کیا تو اس کی تینوں بیٹیاں جام شہادت پا چکی تھین اور شوہر دونوں ٹانگوں سے معذور ہو چکا تھا مگر بیٹیوں کی شہادت پر شکر الحمدللہ کہا کہ وہ بے حیا اور ظالم اسرا ئیلی فوجیوں کی بے باکیوں بے حیائیوں تشدد سے بچ گئیں اور شوہر کو امدادی کیمپ میں لے کر آگئی اور بہت خدمت کی۔ ایک دن وہ شوہر کی دوا لینے باہر نکلی تھوڑی دور گئی تھی کہ دواسرا ئیلی فوجی درندون نے آ کر اس کوہاتھ اورکندھےسےپکڑااورلےجانےلگے،ان کی زبانیں بھی گند اگل رہی تھیں اور وہ اپنے آپ کو ان سے چھڑا نہیں پا رہی تھی ،پھر بھی نڈر اور جانباز ام ہانی نے اس سخت شکنجے کےباوجود الٹے ہاتھ سے آزادی کا نشان بنایا اور ان فوجیوں سمیت دنیا کو یہ پیغام پہنچا دیا کہ عورت کمزور نہیں۔ اس کے ارادے اور نیت پتھر کی طرح مضبوط ہیں کہ وہ تکلیف کے باوجود مقصد زندگی آزادی نہیں بھولی اور یہ اس کا آزادی کا نشان پائندہ ہو گیا ۔
وہ اسرا ئیل اور دنیا کو بتا گئی کہ بزدل عورت پر ہاتھ ڈالتےہو مگر یہ غزہ کی عورت ہےاور اس کا بچہ بچہ آزادی لے کر رہے گا۔ان شااللہ
فلسطین زندہ باد ۔۔۔۔۔ہمارے جذبات تمہارے لیے ۔




































