
نگہت پروین
میرے بھوکے پیاسےبہن بھائیوں،بزرگوں اور خاص طور پر میرے پھول جیسےبچوں میں تمہارے لیےاللہ تعالی ٰسے دعا کرتی ہوں اور پوچھتی ہوں کہ اے اللہ کب تک یہ آزمائش، یہ
امتحان ،یہ بھوک پیاس، یہ ظلم،یہ تشدد ،یہ بے انصافی ان یہودیوں کی چلےگی تو میرا اللہ قرآن میں جواب دیتا ہے کہ اس کی راہ میں جدوجہد کرنے اور جان قربان کرنے والوں کا ٹھکانہ جنت ہے ۔کاش مسلمان حکمرانوں اورمسلم ممالک کو بھی اللہ کا یہ فرمان یاد ہوتا۔غزہ کےمسلمان فلسطینی عوام تو قبلہ اول کے لیےاپنےٹھکانے کی طرف رواں دواں ہیں مگر یہ سب بے حسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
میرے پیارو ،میرے بھوکے پیاسےغزہ کےعوام میں تمہارے لیےجو میرے بس میں ہے وہ تو کر رہی ہوں کہ میں نےتمام اسرا ئیلی اوریورپی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔میں گھر گھر جا کر اور خود بھی فنڈ جمع کر رہی ہوں ۔ جب بھی تمہارے لیےمظاہرہ ہوا ،ہمیشہ اس میں شرکت کی کیونکہ میرا دل میراضمیر میری دعائیں سب تمہارے لیے ہیں اور روز حاجات کے نفل پڑھتی ہوں کہ سب سے بہترین مددگار اور مولا تو اللہ ہے ۔ اس کے آگے سجدے میں تمہارے لیے دعائیں کرتی ہوں کہ اللہ تمہیں مزید استقامت ،صبر اور ہمت عطا فرمائے ۔ تم تو اس دنیا میں اور تاریخ میں امر ہو گئے اپنے حوصلے اپنی قربانیوں اور اپنی شہادتوں کی بدولت مگر 75 مسلم ممالک تمہاری مدد نہ کرسکے ۔
یہ ظلم یہ قحط جو موت کا سبب بن رہا ہے،سچ میں تمہارے لیےدل خون کےآنسوروتا ہے۔ میں غزہ نہیں آسکتی مگر میں دل سے تمہارے پاس ہوں تمہارے لیے اب مہم شروع کی ہے۔ سات اگست سے 14 اگست تک تاکہ اس دنیا کو اس مہم کے ذریعے جگانے کی کوشش کی جائےکہ غزہ تو زندہ ہے اور تمام مسلمانوں کو مسلم حکمرانوں کو مسلم ممالک کو بھی اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ۔تمہارے لیے تو اللہ نے جنت ٹھکانہ بنا دیا اور تم ساری امت کے لیےروشن چراغ بن کر سبق دیتے ہو کہ اپنے مرکز اپنے قبلہ اول کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر کے اللہ کے محبوب بن گئے، یہ سبق عالمگیر ہے، یہ سبق اسرا ئیل کے بھی قدم ڈگمگاے اورساری دنیا کو بصیرت کا سبق سکھائےگا،ان شاءاللہ




































