
نگہت پروین
موت یا تو طبعی ہوتی ہے یاحادثاتی، مگرآج تاریخ ایک نیا باب رقم کر رہی ہےکہ موت بھوک سے بھی ہوتی ہے۔ غزہ میں آج خوراک کی صورتحال نہایت
سنگین ہو چکی ہے۔وہاں امداد کوروکاجارہا ہے۔اسرائیل کےظالم چیلےنسل کشی کی تمام حدیں پارکرکےوہاں کےعوام کوبھوکاماررہے ہیں۔ نہ کھانے کو کچھ ہے، نہ دانے کا پتہ، نہ پانی دستیاب ہے، نہ دوا۔ ہر ضرورت کی چیز وہاں پہنچنےسےروکی جا رہی ہے۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ بوڑھے اور بچے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں، مگر انسانیت سوئی ہوئی ہے۔
امریکہ خود کو خدا بنا بیٹھا ہے۔جنگ بندی کےمعاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے۔ناتواں اوربھوکےعوام پربم برسائےجارہےہیں۔اسرائیل اب انسانیت کی فہرست سے باہر ہو چکا ہے، اور تمام مسلم دنیا خوابِ غفلت میں مبتلا ہے۔
غزہ میں بھوک سے بچے، بوڑھے، سب بلبلا رہےہیں اوراقوامِ متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔نہ اسرائیل پرکوئی پابندی لگتی ہے،نہ امریکہ پر، کیونکہ ویٹو پاور کے سامنے سب بےبس ہیں۔ لیکن اس تمام صورتحال میں انسانیت لرز کر رہ گئی ہے کہ آج غزہ میں بھوک اور افلاس موت کا سبب بن چکے ہیں۔
غزہ میں امداد کی لائن میں کھڑے، جب ایک بوڑھے شخص کی باری آئی، تو وہ بھوک سے نڈھال ہوکرزمین پرگرگیااوراللہ کو پیاراہوگیا۔ بچوں کی ترستی آنکھیں، کمزور جسم، جن میں بولنے کی بھی طاقت نہیں—اور دنیا اب بھی خاموش ہے؟ زبانیں کیوں بند ہیں؟ ان کے حق میں آواز بلند کیوں نہیں کی جارہی؟ ان کے لیے کوئی چیخ کیوں نہیں اٹھتی؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہےکہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔اگرجسم کےایک حصےکوتکلیف ہوتوپوراجسم بےچین ہوجاتا ہےتو پھرغزہ کےبچے، بڑے، عورتیں، سب بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔جان دے رہےہیں اورہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں؟ ہمارے حکام، ہمارے مسلمان ممالک کیوں چپ ہیں؟ ان کے کان کیوں بند ہو چکے ہیں؟ ان کا ضمیر کہاں سو گیا ہے؟ آخروہ ضمیر کب جاگے گا؟ ان کا ایمان کیسے انھیں چین سے بیٹھنے دے رہا ہے؟
اٹھو مسلمانوں! بیدارہوجاؤ
اسرائیل کے اپنے عوام بھی غزہ کے بھوکےعوام کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔ اُنہیں احساس ہوچکا ہےمگرمسلمانوں کا ایمان کیوں نہیں جاگ رہا؟ مسلم حکمرانوں کی خاموشی آج شرمناک ہے۔
خدارا! اب وقت ہے اتحاد کا۔ تمام مسلم ممالک اور صاحبِ اقتدار افراد متحد ہو کراسرائیلی ظلم کےخلاف کھڑے ہوں۔امدادپہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
اللہ کا وعدہ ہے۔"حق غالب آکررہےگااورباطل مٹ جائےگا۔"
اور اللہ کی مدد اسی کےساتھ ہوتی ہے جو نیک نیتی سے باطل کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔




































