
نگہت پروین
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو پاکستانی عوام کا سلام
ڈاکٹرعبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو انڈیا کے شہربھوپال میں پیدا ہوئے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1976 میں پاکستان واپس لوٹے۔
ہمارے ہیروز میں سب سے زیادہ چمکتا دمکتا ستارہ ڈاکٹرصاحب پاکستانی دفاعی لائن کو مضبوط کرتےہوئےایٹم بم کا بہترین لاجواب تحفہ عوام کو دیتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محنت ،محبت ،جاں فشانی اور وطن عزیز سے پیار پر نازاں ہیں جنہوں نے تمام اسلامی ممالک کو پاکستان کے حوالے سے تحفظ فراہم کیا ۔ڈاکٹر صاحب کی بدولت پاکستان دنیا کےنقشے پر ایک اسلامی ایٹمی قوت بن کر ابھرا ہے۔
ڈاکٹر صاحب محسن پاکستان ہیں ۔انہوں نے پاکستان کے دشمنوں کو للکار اہے کہ خبردارمیلی نظرسےپاکستان کو دیکھنے والو! پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا ہے ۔پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر دنیا کے لیے ناقابل تسخیر کر دیا ہے ۔28 مئی 1998 کی ایک گرم دوپہر کو چاغی کا پہاڑ ایٹمی دھماکے سے لرز اٹھا، اس کامیابی پر بادشاہی مسجد سے لے کر تمام مسلمان ملکوں کی مسجدوں میں کپکپاتےہاتھوں سے ڈاکٹر صاحب کے لیے دعا کی گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا۔
حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ڈاکٹر صاحب کے ایٹمی کارنامےکورہتی دنیا تک یاد رکھا جائےگا۔پاکستان کومحفوظ بنانے والےاور عزت دلانے والے ڈاکٹر صاحب آج ہم میں موجود نہیں مگر وہ اپنے اس بہترین اور ناقابل فراموش کارنامے کی بدولت ہر پاکستانی اور ہر مسلمان کہ دل میں محسن پاکستان کے طور پر زندہ رہیں گے۔
ڈھونڈو کہ اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم




































