
قدسیہ ملک /جامعہ کراچی
روز بروزکراچی کو سوچے سمجھےمنصوبے کے تحت ایک ایسی آگ میں دھکیلا جارہاہےجہاں شہریوں کےلئےبنیادی ضروریات تودور کی بات ان سے
جینے کا حق بھی چھین لیاجائے۔۔۔۔ہم کبھی کشمیر فلسطین بوسنیا کے لئے روتےتھے لیکن کراچی کےحالات کی سنگینی کو دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ یہ بیک وقت کشمیر، فلسطین جیسےمظالم کا اپنوں کےہاتھوں شکارہے۔۔۔ کہیں مجاہد کالونی جیسی کئی دہائیوں سے قائم شدہ بستیاں حکومتی ایماء پرمسمار کی جارہی ہیں تو کہیں اسٹیٹ اوربلڈرز کے ہاتھوں عوام سے ان کی خون پسینے کی کمائی چھینی جارہی ہے۔ کہیں مہنگائی بے روزگاری ہےتو کہیں اسٹریٹ کرائم جیسے آسیب شہریوں کی زندگیوں پرمسلط کئے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی جنگل کا قانون ہے۔۔۔ جس کا دل چاہتاہے کلاشنکوف اوراسلحے کے زورپرنہتے شہریوں سے جان و مال عزت و آبرو وسائل چھین لیتا ہے۔۔۔ کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔
تین دن پہلے این ای ڈی کےطالب علم کواس کی جامعہ کےسامنےموبائل فون چھننےپرمزاحمت کے دوران دہشت گردوں نےگولیاں مارکرشہید کردیا۔۔۔ انجینئرنگ کے طالب علم 21 سالہ بلال کواسٹریٹ کرمنلز نے قتل کیا جو اس سے موبائل فون اور دیگر سامان چھیننا چاہتے تھےلیکن نوجوان نے ڈکیتی میں مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو ڈاکوؤں نے اس پر گولی چلا دی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
بلال ناصر نے ڈاکوؤں کو کرسی سے مارنے کی کوشش کی جب وہ اپنےدوستوں کےساتھ یونیورسٹی کے قریب چائے کی جگہ پر موجود تھا۔مقتول این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پیٹرولیم انجینئرنگ کے آخری سال کا طالب علم تھا۔ پولیس حکام کے مطابق ڈاکوؤں نے بلال کو دو گولیاں ماریں۔ایک سینے میں اوردوسری ٹانگ میں لگی۔جائے وقوع سے گولیوں کے خول بھی ملے ہیں۔
اس کےفوری بعد آج یعنی ہفتے کی رات شہرقائد میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر ایک اورطالب علم ہلاک ہوگیا۔۔۔ کورنگی نمبر 5 میں 20 سالہ نوجوان اظہرکو ملزمان نے پندرہ ہزار کےموبائل کے لیے جا ن سے مارڈالا۔۔۔ چار دن کے اندر یہ دوسرا واقعہ پیش آیا۔۔اظہر لاء کا طالب علم تھا۔
پاکستان ٹوڈے کی ایک ماہ قبل جاری رپورٹ کےمطابق سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی )کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کےمالیاتی مرکز کو اسٹریٹ کرائم کی لعنت میں خطرناک حد تک اضافے کا سامنا ہے اوراکتوبر کے مہینے میں ڈکیتی اوردیگر وارداتوں میں مزاحمت کرتے ہوئے 57 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
سی پی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں 211 کاریں چھینی یا چوری کی گئیں جن میں سے 49 چوری یا چھینی گئی کاریں پولیس نےبرآمد کر لیں۔ ایک ماہ کے دوران 5000 کے قریب موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کی گئیں جن میں سے صرف 323 برآمد ہو سکیں۔
سی پی ایل سی نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ 2260 افراد سیل فونز سے محروم تھے، جن میں سے 39 کو برآمد کرلیا گیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ متعدد واقعات میں 57 افراد ہلاک ہوئےجب کہ اس دوران اغوا برائے تاوان کے دو واقعات رپورٹ ہوئے۔
ایڈیشنل انسپکٹرجنرل (اے آئی جی) کراچی جاوید عالم، ملک کےمختلف حصوں خصوصاً صوبہ سندھ میں سیلاب کے بعد کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں "خطرناک اضافہ" دیکھنے میں آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے خلاف پولیس کے ردعمل پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ "حالیہ سیلاب کے بعد، کراچی شہر میں اسٹریٹ کرائمز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔
حکمران وقت کو حالات کی سنگینی کا اندازہ کرتےہوئے فوری کراچی کے حالات پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے۔۔۔اس ملک کے معاشی حب سے پورے ملک کی معاشی ترقی کیبڈوریں جڑی ہیں ۔اس شہر کو دہشت گردی سے بچانا اور شہریوں کے حقوق کی ادائیگی حکمرانوں کو اولین ترجیحات میں شامل کرنی ہونگی تاکہ کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنایاجاسکے۔





































