
قدسیہ ملک
ضلع کراچی میں تنظیم اساتذہ پاکستان خواتین ونگ کی جانب سے رحمت عالم سیمینارصدر ضلع کراچی اسماء رضوان کی زیرصدارت وی ٹرسٹ کمیونٹی
سینٹر میں منعقدہوا جس میں ضلع کراچی مختلف اسکول وکالج و یونیورسٹی کے پروفیسر استاتذہ کرام و لیکچررز نے اپنے مقالہ جات کے ذریعے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔پروگرام میں کراچی یونیورسٹی، میٹروپولیٹن یونیورسٹی، گلزار ہجری کالج، نیشنل کالج شہید ملت، خاتون پاکستان کالج۔ لیاری کالج، چنیوٹ اسلامیہ اسکول گلشن اقبال و دیگرتعلیمی اداروں کےپروفیسرز نے شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز سورہ فتح کے آخری رکوع کی آیات سے ہوا۔
"محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں کفار پر سخت ہیں ۔آپس میں رحم دل ہیں تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع و سجود کر رہے ہیں۔ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں سجدہ کا نشان ہے، یہی وصف ان کا تورات اور انجیل میں ان کا وصف ہے۔
بعدازتلاوت ترجمہ و نعت رسول مقبول ص کی سعادت ریسرچ اسکالرممبر حریم ادب ورکن تنظیم اساتذہ قدسیہ ملک نےحاصل کی۔ نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر افشین عارف نے اداکئے۔
نعت رسول مقبول کے ذریعے محفل کو پرنور کیا گیا ۔
?افتتاحی کلمات محترمہ اسماء رضوان نے ادا کیے"ذات اقدس پر درود وسلام کے بعد حیات امی جس نے 23 سال کی مختصر عرصے میں انسانوں کی زندگی کے پیمانے فکر کی دھارےخیالات کردار میں ایسی تبدیلی برپا کی کہ روم اور ایران کےبادشاہ مصر کے ایوان اپنی تاریکی کا اعتراف کرنے لگےکہ نبی اکرم کی حکمت انقلاب میں کون سے ایسے راز پنہاں ہیں جس سے انسانیت آج تک فیض اٹھا رہی ہے ۔۔۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین بانو نےبہترین تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصحاب رسول عبرانی زبان سیکھ کر یہودی دستاویزات کے ترجمان بنے۔۔۔۔۔۔ محترمہ ڈاکٹر حسین بانو جن کا تعلق میٹروپولس یونیورسٹی سے ہے۔ آپ نےاپنے دھیمے اور پر اثر انداز میں حاضرین کے سامنے سیرت النبی کے گوشوں کو رکھتے ہوئے اساتذہ کو ان کی منصبی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا۔
?محترمہ ماریہ وکیل نے اشراط الساعۃ ،کے موضوع پرقیامت کی چیدہ چیدہ نشانیوں کو قارئین کے گوش گزار کیا،پروفیسر گلزار ہجری گرلز کالج محترمہ ڈاکٹر افشاں عنایت نے اپنے بہترین مقالے میں ریاست کے اصول و قوانین کو نبوی دور کی مثالوں سے ثابت کیا۔
اس پروگرام میں محترمہ شائستہ مدنی ڈائریکٹر المدنی اسکول سسٹم صدرتنظیم اساتذہ سندھ،محترمہ شائستہ کلیمی پروفیسر لیاری کالج،پروفیسر ڈاکٹر کہکشاں نیشنل کالج ،کریم النساء مرکزی نائب صدر اور محترمہ صائمہ سفیر شریک تھیں۔
?محترمہ کرن وسیم ممبر حریم ادب نے اسلام کا فلسفہ جہاد و عالم میں ہونے والی جنگوں کا جائزہ پیش کیادیگر محققین نےبھی اپنے اپنے مقالہ جات کے ذریعے ذہنوں کو مہمیز اور حاضرین کو سوچنے پر مجبور کیا۔
اس پروگرام میں ججز کے فرائض محترمہ اسماء کلثوم، محترمہ صدف ، محترمہ اسماء رضوان ، محترمہ سائرہ کنول نے ادا کیے۔شرکاء نے پروگرام کو بہت پسند کیا اور اساتذہ اکرام نے تنظیم اساتذہ پاکستان کےمعاون کے فارم بھی پرکیے۔
پروگرام کے آخر میں سابق صدر تنظیم اساتذہ پاکستان خواتین ونگ محترمہ یاسمین جاوید صاحبہ نے تحائف اور سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔ اختتامی کلمات ودعا کے بعد ریفریشمنٹ اور چائے سے پروگرام کا اختتام ہوا۔





































