
قدسیہ ملک
سرورکونین،رحمت العالمین،خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کےبارے میں کچھ لکھنا کچھ محسوسات کی ادائیگی کچھ دلی کیفییات کو
لفظوں کا جامہ پہناکراپنےقاری کے گوش گزار کرنابلاشبہ سمندرکو کوزےمیں بند کرنےکے مترادف ہےلیکن یہ جاننابہت ضروری ہےجس ہستی پرمیرا دعوی ہےکہ میرا تمام مال ومتاع،عزت وآبرو،میرے ماں باپ،میری اولاد میری ہر سانس میری دنیاکی ہرعزیزترین شے قربان ہےجس کی اتباع ہی میں دونوں جہانوں کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے اس کے لیے میرے احساسات کیا ہیں؟
ایک دفعہ کہیں پڑھا تھا کہ اگر آپ کو جاننا ہو کہ آپ سب سے زیادہ کس سےمحبت کرتےہیں تویہ جاننے کا ایک آسان طریقہ یہ ہےکہ زندگی کے ہرموڑ پرآپ اسےموجود پائیں گے۔اس سے پہلے میں محبت کے مفہوم سے نا آشنا تھی لیکن اس کسوٹی پہ خود کو پرکھنے کے بعد میں نے اپنے محبوب کو پا لیا۔وہ میراغم خوار،میری بخشش کےلئے رب کے آگے گڑگڑانے والا،اپنی اس امت کے لئے راتوں کو طویل سجود و قیام کرنے والا،انسانیت کا سب سے بڑا محسن،حقوق نسواں کا سب سے بڑے علمبردار،خاتم النبین عظیم ترنبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
میری زندگی کے ہر موڑہر سانس ہر آنسومیں اس نبی کریم کااسوہ میرے ساتھ ہے۔ میرےہردکھ سکھ، پریشانی، تنہائی، ہجوم،ہنسی، آنسو، سب میں اس کی سنتیں میرے ساتھ موجود ہیں۔ہروقت میرامخاطب، میری روح کا ساتھی، میرا بیسٹ فرینڈ،میرا ہمراز،میرااستاد، میرا پیرِ کامل، میرامرشد،میرا حقیقی غم خوار،میراراہ نما میرے ساتھ اپنی سنتوں کے ساتھ موجود ہے۔
مجھےلگتا ہے وہ اشارے کنایوں میں مجھ سےباتیں کرتا ہے۔۔ ہرغلطی پہ ڈانٹتا، ہراچھائی پہ شاباش دیتا، ہر برائی کرنےسے بچا لیتا ہے، ہرتکلیف ہرغم میں جب میں سیرت کے صفحات کھولتی ہوں تو اپنا پہاڑ جیسا غم اس عظیم ہستی کےغموں کےسامنے رائی کے دانے کا سامحسوس ہوتاہے۔چاہے بڑی سے بڑی پریشانی کیوں نہ آجائے، اللہ سے جڑی میری امید کبھی ٹوٹنے نہیں دیتا۔ مجھے نبی کریم ص کے اسوہ کا سہارا ہمیشہ پرامید رکھتاہے۔
اگرمیرا رب مجھ سے میری پسندیدہ چیزاچانک سے مجھ دورکر دے تومیں گھبراکر پلٹ کر نبی کریم کی سیرت کا مطالعہ کرتی ہوں تومیں دیکھتی ہوں میرے محسن نےتو پیدائش سے یتیمی کا دکھ اٹھایا،پھروالدہ،پھر پرورش کرنے والے دادا کا دکھ سہنا پڑا۔جوان ہوئے شادی کے بعد اولاد نرینہ کا دکھ پھرپسندیدہ بیوی کا دکھ۔ ایسے میں مجھے اپنا دکھ بہت ہی چھوٹامحسوس ہوتاہے۔
میں جب بھی کسی دکھ کسی مشکل میں مبتلا ہوتی ہوں بنی کریم ص شعیب ابی طالب کی گھاٹی سے مجھے آواز دیتے ہیں کہ ذرا اپنا دکھ تو لاؤ آو موازنہ کریں۔پھر دل میں ایسا خیال آتاہے کہ اس میں ضرور میرے اللہ پاک کی طرف سے کوئی بہتری اور حکمت پوشیدہ ہے کیونکہ میں نے نبی کریم ص کو اسی نمونے کی پیروی کرتے پایاہے۔ میرے نبی نے اپنی اولاد کے غم میں اللہ سے کبھی شکوہ و شکایت کا حرف بھی کبھی زبان مبارک سے ادا نا کیا تو میں اس کی پیروی کرنے والی کیسے اسکی سنتوں سے روگردانی کرکے اپنی مصیبتوں میں کسی کو قصوروار ٹھہرا سکتی ہوں؟
پھر وقت مجھے اس پریشانی کی حکمت کا کسی نہ کسی موڑ پر ادراک کروا دیتا ہے اور میرے منہ سے بے ساختہ درود پاک اداہوجاتاہے۔مجھے ہر انسان اس لئےخوبصورت لگتا ہےکیونکہ میرے نبی ص نے طائف کے بازار میں سنگ زنی اور خون آلود جوتے ہونے کے باوجود ان کے حق میں دعا کی۔ ہمیشہ ہرانسان سے محبت کا درس دیا۔مجھے ہر برا اور بد اخلاق انسان قابلِ رحم لگتا ہےکیونکہ اسے میرے جیسا راہ نما،ملنسار،محسن اور غم خوار نصیب نہیں ہوا یاپھر اس نے ایسی عظیم ہستی کو کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔
مجھے ہر نیک انسان نبی کریم کے اسوہ کی پیروی کرنے والا لگتا ہے۔ یہ سوچ کرکہ یہ میرے محبوب کےنمونے کو اپناتے ہوئےکٹھن راہوں پر نیکی اور اسوہ کی راہ پر قائم ہے۔میرا فخر میرا نبی ہے۔ فداک امی وابی۔ میں خوش قسمت ہوں جو اس نبی کی امتی ہوں۔
درود اس پر، جسے شمع شبستان ازل کہیے
درود اس ذات پر، فخرِ بنی آدم جسے کہیے





































