
ڈاکٹررانا خالدمحمود قیصر / کراچی
افتخار عارف پاکستان کے صفِ اوّل کے اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں
نے غزل، نظم، رباعی اور دیگر اصنافِ سخن میں اپنی فکری بالیدگی اور اسلوبی پختگی کا لوہا منوایا۔ تاہم اُن کی تقدیسی شاعری—حمد، نعت، سلام، منقبت اور رسائی—میں ایک خاص روحانی وقار اور فکری تمکنت جلوہ گر ہے۔ ان کے ہاں عقیدت محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ شعوری وابستگی اور تہذیبی ادراک کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ خصوصاً شہرِ علم کے دروازے یعنی حضرت علیؓ کی بارگاہ میں پیش کی گئی مناقب میں افتخار عارف نے رمزیت، استعاراتی گہرائی اور عہدِ حاضر کی معنویت کو یکجا کیا ہے۔ وہ درِ علیؓ کو علم، عدل اور حریت کا استعارہ بنا کر پیش کرتے ہیں، جہاں رسائی صرف مدح نہیں بلکہ فکری تطہیر اور اخلاقی التزام کا استعارہ بن جاتی ہے۔ ان کی تقدیسی شاعری میں کلاسیکی روایت کی پاسداری کے ساتھ جدید حسیت کی آمیزش ایک ایسا آہنگ پیدا کرتی ہے جو قاری کو محض متاثر نہیں کرتا بلکہ باطن کی سطح پر منور بھی کرتا ہے۔۔
افتخار عارف کی نعتیہ شاعری فکری سنجیدگی، تہذیبی شعور اور باوقار اسلوب کا حسین امتزاج ہے۔ اُن کے ہاں نعت محض جذبۂ عقیدت کا بیان نہیں بلکہ سیرتِ نبویؐ کے اخلاقی و انسانی پہلوؤں کی شعوری تفہیم بھی ہے۔ وہ حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو رحمت، عدل، حلم اور ہدایت کے آفاقی استعارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کی نعت میں لفظیات کی شائستگی، بیان کی متانت اور جذبے کی صداقت نمایاں ہے؛ نہ مبالغہ آرائی ہے نہ خطیبانہ آہنگ، بلکہ ایک دردمند دل کی سنجیدہ وارفتگی ہے۔ افتخار عارف روایت کی پاسداری کرتے ہوئے جدید عہد کے انسان کو بھی سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں اپنا باطن منور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یوں ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول ﷺ کو فکری بصیرت اور اخلاقی التزام کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک باوقار ادبی تجربہ بنا دیتی ہے۔
شہرِ علم کے دروازے پر ادب میں مقام
“شہرِ علم کے دروازے” کا استعارہ اسلامی روایت میں حضرت علیؓ کی علمی و روحانی عظمت سے منسوب ہے، اور اردو ادب میں یہ تعبیر محض عقیدت کا نعرہ نہیں بلکہ علم، عدل، شجاعت اور حکمت کا تہذیبی استعارہ بن چکی ہے۔ منقبت نگاری کی روایت میں اس عنوان نے ایک مستقل فکری جہت اختیار کی ہے جہاں شاعر حضرت علیؓ کو بابِ معرفت اور سرچشمۂ حکمت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اردو ادب میں اس استعارے کا مقام اس لیے بھی بلند ہے کہ یہ محض مذہبی عقیدت تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی اقدار—انصاف، وفا، جرات اور حق گوئی—کی علامت بن جاتا ہے۔ کلاسیکی شعرا سے لے کر جدید دور تک، مناقب میں “درِ شہرِ علم” کو علم و آگہی کے دروازے کے طور پر برتا گیا ہے؛ یوں یہ استعارہ فکری تطہیر، باطنی رسائی اور اخلاقی بالیدگی کا نشان بن گیا ہے۔
ادبی اعتبار سے “شہرِ علم کے دروازے پر” ایک ایسا موضوع ہے جس میں رمزیت، استعاراتی گہرائی اور روحانی جمالیات یکجا ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منقبت کی صنف میں اسے ایک مرکزی اور دائمی مقام حاصل
رہے گا ۔ اور یہ اردو کی تقدیسی شاعری کو معنوی وسعت عطا کرتا رہے گا۔۔




































