
ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر/کراچی
خالد احمد اردو ادب کے اُن صاحبِ اسلوب شعرا میں شمار کیے جا سکتے ہیں جنہوں نے فنی جرات اور فکری وقار کو یکجا کر کے اپنی انفرادی شناخت قائم
کی۔ اُن کی طویل تقدیسی نظم ’’پہلی پو پہلی پروائی‘‘ بجا طور پر ایک معرکہ آرا تخلیق ہے جو ہیئت، زبان اور موضوع—تینوں سطحوں پر غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ نظم بیک وقت نظم، غزل اور مثنوی کے پیرایوں کو سمیٹتی ہوئی ایک ایسی ہئیتی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے جس میں داخلی ربط بھی برقرار رہتا ہے اور تنوع بھی قائم رہتا ہے۔ سب سے نمایاں پہلو اس میں سات زبانوں اردو، فارسی، عربی، عبرانی، ہندی، سنسکرت اور پرتگالی—کا مہارت اور خوش اسلوبی کے ساتھ استعمال ہے، جو نہ محض لسانی نمائش ہے اور نہ محض فنی تجربہ، بلکہ ایک تہذیبی مکالمہ ہے۔ اس کثیر اللسانی ساخت کے ذریعے شاعر نے سیرتِ نبویؐ کو آفاقی تناظر میں پیش کیا ہے، گویا حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو محض ایک مذہبی مرکز نہیں بلکہ انسانی تاریخ اور عالمی تہذیبوں کے محور کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ عربی کے جلال و وقار، فارسی کی نغمگی، اردو کی سلاست، سنسکرت اور ہندی کے ثقافتی اشاروں، عبرانی کے مذہبی پس منظر اور پرتگالی کے تاریخی حوالوں کو ہم آہنگ کر کے شاعر نے یہ تاثر دیا ہے کہ سیرتِ طیبہ کی روشنی کسی ایک خطے یا زبان تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمگیر پیامِ رحمت ہے۔ اس نظم میں عقیدت اور فکری بصیرت کا امتزاج اسے محض مدحتیہ کلام نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک ادبی اور تہذیبی دستاویز کی حیثیت عطا کرتا ہے، جو اردو نظم کی روایت میں ایک منفرد اور قابلِ اعتراف اضافہ ہے۔
خالد احمد کی یہ طویل نظم تخلیقی و فکری جہات کا ایک جامع تعارف فراہم کرتی ہے۔ اس میں اُن کی ادبی شخصیت کو محض ایک شاعر کے طور پر نہیں بلکہ ایک صاحبِ شعور مفکر اور عہدِ حاضر کے حساس قلم کار کے طور پر نظر آتا ہے۔ آغاز میں اُن کی ہمہ جہت صلاحیتوں—اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر دسترس—کا ذکر کر کے اُن کے علمی پس منظر کو نمایاں کیا گیا ہے، جب کہ بعد ازاں اُن کے شعری مجموعے ’’پہلی بارش‘‘ کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے اس کی فکری و موضوعاتی وسعت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مجموعے میں اسلام کے آفاقی پیغام، سیرتِ نبویؐ سے وابستہ عقیدت، انسانی اقدار، جبر کے خلاف مزاحمت، اور عصری زندگی کے نشیب و فراز جیسے موضوعات نہایت سلیقے سے برتے گئے ہیں۔
تخلیقی سطح پر خالد احمد کی شاعری میں سادگیِ بیان، فکری پختگی اور داخلی کرب کی جھلک نمایاں ہے، جب کہ فنی اعتبار سے غزل اور نظم دونوں اصناف میں اُن کی مہارت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ترتیب و اشاعت کے مراحل کا ذکر اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ یہ مجموعہ محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ادبی منصوبہ ہے جس میں شعری انتخاب، ترتیب اور نظرِ ثانی کا خاص اہتمام کیا گیا۔ یہ طویل نظم خالد احمد کی ادبی خدمات کی عمدہ مثال ہے۔۔اس نظم کی مدد سے ہم اُن کی شاعری کو فکری، تہذیبی اور روحانی تناظر میں سمجھنے کی ایک معتبر کوشش بھی کر سکتے ہیں ۔
وہ صرف غزل کے قادرالکلام شاعر نہ تھے بلکہ نظم، حمد، نعت اور منقبت میں بھی یکساں مہارت رکھتے تھے۔ ان کی غزل میں جذبے کی لطافت اور فکر کی گہرائی ملتی ہے، تو نظم میں عصری شعور اور باطنی کرب کی منظم صورت سامنے آتی ہے۔ حمد میں عقیدت کی شفافیت اور عجز و انکسار کا رنگ نمایاں ہوتا ہے، جب کہ نعت میں محبتِ رسول ﷺ کی وارفتگی اور ادب کا حسین امتزاج جھلکتا ہے۔ منقبت میں اہلِ بیت و اولیائے کرام سے قلبی وابستگی ایک روحانی سرشاری کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یوں ان کی شاعری مختلف اصناف میں بکھر کر بھی ایک ہی درویشانہ مزاج کی آئینہ دار دکھائی دیتی ہے، جہاں لفظ عبادت بن جاتے ہیں اور سخن دعا کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔
خالد احمد واقعی ایک درویش صفت شاعر تھے؛ اور درویش کی دعا نہ وقت کی اسیر ہوتی ہے نہ زندگی کی حد بندیوں کی محتاج۔ ان کی شاعری میں جو روحانی سچائی، باطنی کرب اور انسانی خیر خواہی کا دریا موجزن ہے، وہ قاری کے دل میں دیرپا تاثر چھوڑ جاتا ہے۔ جمشید چشتی کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے اس طویل نظم کو نہ صرف مرتب کیا بلکہ اپنے بصیرت افروز پیش لفظ کے ذریعے اس کے فکری و فنی محاسن کو بھی اجاگر کیا۔ یوں یہ تخلیق محض ایک نظم نہیں رہی بلکہ اردو شاعری کے افق پر ثبت ایک ایسا شاہکار بن گئی جس کے نقوش وقت کی گرد سے ماند نہیں پڑتے۔ یہ نظم آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی طرح رہنمائی، تازگی اور روحانی توانائی کا سرچشمہ بنی رہے گی، جیسے درویش کی دعا صدیوں تک اثر رکھتی ہے




































