
ڈاکٹر رانا خالد محمود/کراچی
دنیائے ادب میں وہ شخصیات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جنھوں نے اپنی ذاتی محنت، تحقیقی و
تنقیدی،بصیرت، تحقیقی دیانت، علمی استقامت اور فکروفن کے ذریعے نہ صرف علمی سرمائے میں اضافہ کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بنیادی ماخذ، حوالہ جات اور تحقیقی مواد بھی مکمل دیانت داری سے فراہم کیا ایسے ہی نابغہ روز گار شخصیات میں ڈاکٹر محمد ایوب قادری کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ ایک محقق، مدون، مورخ، مخطوط شناسی -کتب شناس اور علمی اداروں کے معمار کے طور پر یکساں طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کی علمی قابلیت، علمی وسعت، حوالہ جات کی پختگی، تاریخی شعور اور تحقیقی جستجو نے اُنہیں اپنے معاصرین میں منفرد مقام عطا کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد ایوب قادری کا تعلق بدایوں سے تھا آپ کی تاریخ _ پیدائش 28 جولائی 1926 ہے۔ آپ بریلی ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبے آنولہ میں پیدا ہوے۔ آپ نے بر عظیم پاک وہند کی علمی روایت سے براہ راست فیض حاصل کیا۔ آپ کی ابتدائی تربیت علمی ذوق، اور مطالعاتی عادت نے آپ کو آغاز سے ہی تجسس، تحقیق و تدوین کی طرف مائل مل کر دیا تھا۔ پاکستان میں آپ کی وابستگی وفاقی اُردو کالج آج کی وفاقی جامعہ اردو،ایجوکیشنل سوسائٹی و دیگر تحقیقی اداروں سے رہی۔ آپ کی شخصیت میں ایک خاص وقار، سنجید گی، سادگی اور تحقیقی مزاح کا امتزاج تھا،آپ ایک وسیع المطالعہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ مستند حوالہ جات اور مستند اسماء الرجال کے متلاشی رہے۔ آپ کا اسلوب نہایت سادہ مگر علمی جلال لیے ہوئے ہے، پاکستان اور ہندوستان کی درسگاہوں، دینی اداروں اور تحقیقی اداروں میں آپ کی علمی قیادت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے اور دیکھا جائے گا۔ڈاکٹر محمد ایوب قادری کی بنیادی شاخت محقق، مترجم سوانح نگار اور تدوین نگار کے طور پر ہوتا ہے۔ جن میں براعظم پاک و ہند کی علمی میراث، مذہبی تحریکات، قدیم مدارس، تصوف کے سلسلے،تہذیبی رویے، تاریخی مکاتب_ فکر، دیگر تحقیقی مضامین شامل ہیں۔
ڈاکٹر محمد ایوب قادری کی علمی و ادبی مزاج میں سب سے اہم مطالعہ رہا ہے۔ یہ مطالع ہمیں تاریخی شعور کی منازل سے روشناس کرواتا ہے۔ دستاویز کا مطالع اور اسماء الرجال پر گہری دسترس اپ کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مخطوطہ جات کی متن فہمی اور نسخہ شناسی میں کمال مہارت نے آپ کے تراجم کو اعلی نثری نمونہ بنا دیا ہے۔
سوانح نگاری اور تذکرہ نگاری میں آپ کی علمی، فکری اور تاریخ پر مبنی سوچ نے طبقات کبری، مآثر الامراء اور تاریخ علمائے ہند جیسے تراجم کرنے کی استطاعت عطا کی جسے علمی و ادبی دنیا میں اعتبار حاصل ہے
ڈاکٹر قادری نے اپنے تحقیقی کام اور مطالعے کی غرض سے سندھ یونی ورسٹی جام شورو، سکھر بہاولپور - لا ہور، جھنگ و دیگر مقامات کا سفر اختیار کا جہاں آپ نے لائبریریوں، خانقاہوں. علمی مراکز اور ذاتی کتب خانوں سے استفادہ کیا۔ ان مطالعاتی دوروں میں آپ نے مخطوطات کے ماخذ، تاریخی کتابت اور نسخوں کے باہمی تقابل میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی کم و مش ۵۲ تصانیف کی فہر ست دستیاب ہے جبکہ مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے والے مضا مین،تقریضات، مقدمات، پیش لفظ و دیباچہ جات کی تعداد لگ بھگ300 ہے۔ آپ کی اہم تصانیف و تالیفات و تراجم میں طبقات اکبری، ماثرالامرا,تذکرہ علما? ہند، اروان_ رفتگاں، جنگ آزادی 1857ء(واقعات و شخصیات)، حیات و تعلیمات حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، عہد بنگش، غالب عصر_ غالب، مولا نا فیض احمد بدایونی، اُردو نثر کے ارتقاء میں علماء کا حصہ۔۔شمالی ہند 1857 تک (مقالہ برائے پی ایچ ڈی) تبلیغی جماعت کا تاریخی جائزہ، مولانا محمد احسن نانوتوی،لولو? از غیب (شیولال) ترتیب، علم و عمل (جلد اول) مقالات یوم عالمگیر، مجموعہ و صایا اربعہ۔۔ترجمہ۔۔، خط و خطاطی، سیر العارفین، مرقع شہابی، سید الطاف علی بریلوی: حیات و خدمات و دیگر گرانقدر نگارشات شامل ہیں
پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے ڈاکٹر محمد ایوب قادری کی علمی، تحقیقی و ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے روزنامہ ڈان کراچی 25 نومبر،2008 کی اشاعت میں لکھا ہے '' اگر آپ مجھ سے۔ کچھ ایسے اسکالرز کا نام پوچھیں جنھوں نے اُردو میں میں خاص طور پر سوانحی تحقیق کی روایت کو آگے بڑھایا ہے اور عمومی تحقیق کے معیار کو بڑھانے میں اپنا کردا ادا کیا ہے تو میں بلا جھجک پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری کا نام شامل کروں گا۔ ڈاکٹر قادری ایک نامور اسکالر،مورخ اور مترجم تھے لیکن بنیادی طور پر وہ ایک محقق تھے۔ ان کے تمام کاموں پر تحقیق کے اعلی معیار کی مہر ثبت ہے۔ سو انحی تحقیق کے علاوہ وہ بر صغیر کی اسلامی تاریخ اور مذہبی اور اسلامی تحریکوں پر ایک اتھارٹی تھے۔ اپنی تقریبا پوری زندگی تحقیق پر صرف کرتے ہوئے انھوں عقیق نایاب کتابوں کی تدوین، تشریح اور ترجمے میں نہ صرف مہارت حاصل کی بلکہ تحقیق کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب بھی کیا جو عموماً غیر واضح اور دوسرے اہل علم کی پہنچ سے باہر تھے''۔ ابن انشاء خمار گندم صفحہ 190 پر لکھتے ہیں ''
پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری ایک محقق آدمی ہیں۔ شجرہ نسب مانگ رہے تھے۔ ہمارے ہاں کہاں سے آتا؟ ہم نے کہا بزرگوں میں ہمیں۔ اپنے والد کا نام یاد ہے یا ایک اور مورث اعلی کا کہ اپنے زمانے کے مشہور پیغمبر تھے بولے کون؟ ہم نے حضرت آدم علیہ السلام کا نام بتایا تو عقیدت سے ادھ مو? ہو گئے۔۔۔۔!!''
جسٹس محمد تقی عثمانی، نقوش رفتگان صفحہ 198 پر لکھتے ہیں ''جن حضرات کا تذکرہ
مقصود ہے اُن میں سب سے پہلے جن صاحب کی وفات ہوئی وہ جناب پروفیسر محمد ایوب قادری صاحب مرحوم تھے جو بر صغیر کی تاریخ کے موضوع پر ہمارے ملک کی گرانقدر ترین متاع کی حیثیت رکھتے تھے۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جنھیں ''فنا فی العلم ''کہا جا سکے اور جن کی نشست و برخاست سے لے کر سوچ بیچار تک کا محور علم ہی علم ہو.... مرحوم پروفیسر ایوب قادری اپنے موضوع کے تعلق سے ایسے ہی افراد میں سے تھے۔ بر صغیر کی علمی و ادبی تاریخ ان کے مطالعے اور تحقیق کا خاص موضوع تھا اور اللہ نے اُن کو حافظ بھی برا قوی بخشا تھا ''
ڈاکٹر محمد ایوب قادری جیسی فکری سوچ اور فکری زاویے تاریخی و روایتی فکر نسل_ آئندگان کے لیے جدید فکر کی بنیاد مہیا کرتے ہیں۔ یہ جدید فکر اپنی بکھری ہوئی تاریخ سے منہ موڑنے کی بجائے جدید طرز تحقیق سے قریب کر دیتی ہے۔ یوں ڈاکٹر قادری کا انداز تحقیق، روایتی تحقیق اور جدید تحقیق کا امتزاج ثابت ہوا ہے
پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری کو اُن کی زندگی میں مختلف اداروں کی طرف سے پذیرائی حاصل ہوئی، اکادمی ادبیات پاکستان نے''اکادمی ادبی انعامات۔۔ڈاکٹر محمد ایوب قادری ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے'' اُردو نثر کے ارتقاء میں، علما کا حصہ۔۔ شمالی ہند 1857 تک، 1509 ھ میں ایوارڈ سے نوازا جبکہ یونی کیرینز نے 19 نومبر ۱۹۸۴ کو سند_ امتیاز ''ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی یادگاری تحقیقی اعزاز سے نوازا۔
اردو علم و ادب کا یہ عظیم اور دمکتا ہوا ستارہ ۲۵ نومبر 1983 کو ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ اللہ غریق_ رحمت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔۔




































