
ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر
اردو شاعری کے اُفق پر چند عنام نام ایسے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیفی انفرادیت ، بے باک انتقادیات اورفکری بالیدگی کے ذریعے اُردو ادب کو نئی
جہات عطا کیں. ایسےہی درخشاں ستاروں میں ایک نام محمد صابر-"جاذب قریشی" کا بھی ہے آپ نے بیک وقت شاعر، نقاد ، معلم، صحافی ، فلمساز اور مدیر کی حیثیت سے اُردو ادب کے مختلف پہلوؤں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ آپ کی زندگی کا سفر 3- اگست 1920 کو کلکتہ سے شروع ہوا ، آپ نے کلکتہ ، الہ آباد ، لکھنؤ، لاہور اور کراچی میں متحرک زندگی گزاری ، کراچی یونی ورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔ جناح کالج میں لیکچرر تعینات ہوئے مگر فلم سازی کے شوق کی وجہ سے خیر باد کہ دیا ۔ لاہور میں ایک پرنٹنگ پریس میں کام کیا ۔ لاہور میں حبیب جالب آپ کے ہم جماعت رہے کراچی کے دوستوں میں عارف عثمانی، شبنم با شمانی، افتخار انور اور زاہد حسین سر_ فہرست رہے۔ کراچی میں شمس زبیری کے نقش" ، ناصر محمود کے نگارش۔ . ، اطہر صدیقی کے سات رنگ اور اور طفیل احمد جمالی کے . "نمک دان کے لیے کام کیا۔ - جامعہ کراچی کراچی کے ساتھیوں میں اقبال حیدر اور سلمی رضا شامل ہیں ۔ کراچی میں کائنات میں بطور مدیر خدمات انجام دیں ۔ ہفت روزہ نصرت میں کالم نگاری بھی کی ۔ پاکستان کے صف اول کے اخبار جنگ میں کافی. عرصہ تک ادبی صفحہ ترتیب دیتے رہے نیز ادبی مضامین مضامین، ، انٹرویو اور تبصره نگاری اورتنقیدی مضامین لکھتے رہے۔ جاذب قریشی نے عالمی سطح پر لا تعداد مشاعروں میں شرکت کی۔
جاذب قریشی کو شاعری کا ذوق ابتدائی طور پر لکھنو کے ادبی ماحول میں ملا ۔ لاہور کے قیام کے دوران وہ شاکر دہلوی کے شاگر رہے ، حلقہ ارباب ذوق لاہور کی نشستوں میں با قاعدگی سے شریک رہے۔ منٹو، اے حمید - مختار صدیقی اور عبادت بریلوی جیسے اساتذہ کی صحبت نے آپ کی فکری تربیت فرمائی ۔ جاذب قریشی نے نہ صرف اُردو شاعری میں گراں قدر اضافه فرمایا بلکہ تنقید نگاری اور کالم نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ آپ کی تنقیدی تحریروں میں ادبی تہذیب ، فکری معروضیت اور تخلیقی زبان کا امتزاج پایا جاتا ہے ۔ آپ کے تنقیدی رجحانات نہ سطحی ہیں اور نہ ہی انتہا پسندانہ بلکہ متوازن ، توصیفی اور بصیرت افروز ہیں . جاذب قریشی کے شعری موضوعات میں انسانی تجربات سماجی مشاہدات اور
اور روحانی احساسات شامل ہیں ۔ آپ کی شاعری میں جدید احساس کے ساتھ روایتی و قار کا حسین امتزاج
نظر آتا ہے۔آپ نے تقدیسی ادب کی جانب توجہ مرکوز رکھی آپ کی نعتیہ شاعری نے جدید اردو نعت میں فکری وسعت اور فنی لطافت پیدا کی ہے۔
اگر ہم جاذب قریشی کے شعری عہد کا جائزہ لیں تو آپ کے ہاں عصری آگہی تہذیبی و فاداری اور روحانی طمانیت کے دل کشی نمونے ملتے ہیں ۔آپ احساسات کو فکری وقار کے ساتھ بیان کرنے پر قدرت رکھتے تھے ۔اپ کا تنقیدی شعور نئی نسل اور عصر موجود کے لیے رہنمائی کا سر چشمہ ہے۔ جاذب قریشی کا شمار اُردو ادب کے اُن اہم نمائندہ ادباء میں ہوتا ہے جنھوں نے نہ صرف لفظوں کو اپنی انفرادیت سے معنویت عطا کی بلکہ ادب کے قاری کو سوچنے محسوس کرنے اور پرکھنے کا سلیقہ بھی عطا کیا ہے آپ کی شاعری اُردو ادب میں تہذیبی تسلسل، تخلیقی جستجو اور فکری و فنی دیانت کی علامت ہے۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ جاذب قریشی کا نام اُردو شاعری کی تاریخ میں ہمیشہ تخلیقی روشنی کے استعارے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔۔
جاذب قریشی کی شاعری کے بارے میں مشاہیر کی رائے :-
قمر جمیل:- جاذب قریشی استعاروں کو اُن کی داخلیت اور معروضی دنیا کے درمیان آئینوں کی طرح قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ وہ اکائیوں کو جوڑ کر وحدت بنا دینے کا فن جانتے ہیں"۔
_سلیم احمد نے آپ کی شاعری کو آئینہ سازی کا عمل قرار دینے ہوئے کہا ۔ یہ آئینہ جاذب کے ہنر کا المیہ بھی ہے اور طربیہ بھی ۔
-- حسین مجروح کے مطابق ہیئت سے حسییت اور اظہار سے موضوع تک ہے تشکیلات کی شاعری ہے۔ وہ روایت کے قائل ہیں مگر اس کی انگلی پکڑ کر نہیں چلتے بلکہ اُس سے ایک قدم آگے رہتے ہیں.
دانشور، شاعر اور نقاد پروفیسر سحر انصاری کے مطابق جاذب ادب اور گرد و پیش کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔ جاذ ب کو منافقتوں کا بھی اور محبتون کا بھی۔ اس لیے میں نے محسوس کیا ہے کہ اس کی شاعری ایک نئے آہنگ کے ساتھ سامنے آیی ہے۔ اس میں قوت بھی ہے توانائی بھی اور تاثیر بھی ، قوت توانائی اور تاثیر سچائی اور باخبری سے آتی ہے۔ جاذب نے جو علامتیں اور استعارے اختیار کیے ہیں وہ رسمی اور رواج_ وقت کے مارے ہوے نہیں ہیں۔ ان میں جاذب کی انفرادیت پوشیدہ ہے جس کے بغیر وہ شاید ایسے بطون کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔
جاذب قریشی کے چند منتخب استعار
اس دشت میں سیلاب مجھے چھوڑ کیا ہے
مجھ میں مریی تہذیب کے آثار تو دیکھو
میری تہذہب کا باشندہ نہیں ہے وہ شخص
جو درختوں سے پرندوں کو اُڑا دیتا ہے
ہے ترے لمس کی خواہش مجھ میں
زرد موسم کو بدلنا ہے مجھے
وہ پرندے بھی جزیروں میں اتر تے چاہیں جن میں تقسیم نہ ہونے کی علامت دیکھوں
خیال بن کے وہ مجھ میں اُتر بھی آتا ہے
کہ رفتہ رفتہ دعا میں اثر بھی آتا ہے۔
ہجاذب قریشی نے اپنی انفرادی سوچ کے ذریعے ایک منفرد شناخت بنائی ہے
اور یہی انفرادیت ان کی پہچان بھی ہے۔ آپ کی زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت رہی ۔ آپ منفی رویوں میں گھر کر مثبت زاوہے بناتے رہے ۔ عصر_ موجود کا تحقیقی افق اس بات کا متقاضی ہے کہ جاذب قریشی کے شعری موضوعات ، لفظیات اور تنقید نگاری کا فنی تجزیہ کرتے ہوئے محققانہ انداز میں ان کے کام کو آگے بڑھایا جائے ۔
اردو ادب کا یہ روشن ستار ۲۱ ، چون 2021 کو کراچی میں انتقال فرماگئے، اللہ اپ کی بے حساب مغفرت فرمائیں ۔۔آمین۔۔
راr




































