
عالیہ عثمان
نوسالہ حذیفہ کی آوازمستقل میرےکانوں میں رس گھول رہی تھی۔وہ علامہ اقبال کی مختلف نظموں کے شعرلہک لہک کر پڑھ رہا
تھا۔ پھر وہ میرے پاس آ گیا۔ نانو میں نے آج بہت پیارا شعریاد کیا ہےسناؤں آپ کو:
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
خیروہ علامہ اقبال کا دیوانہ بچہ علامہ اقبال کےبارے میں ڈھیروں سوال کر کے ذہنی طورپرتھوڑاسیراب ہو کراپنے کھیلوں میں مگن ہو گیا،اب سوچنے کی باری ہماری تھی سوچوں کے دروا ہوئے۔
اے اقبال! آج تیری قوم تیرا قومی دن ڈری اور سہمی ہوئی جمہوریت کےساۓ میں شان و شوکت کے بغیر منا رہی ہے تو نے انہیں مملکت خداداد پاکستان کا تصور دیا اور قائداعظم جیسےعبقری رہنما کو اس کےحصول پر لگا دیا ۔
پوری قوم تیری عظمت کی احسان مند ہے اورتیری عقیدت کےگیت گاتی ہےہر طبقہ فکرتیرے افکارکا دلدادہ ہےکیونکہ تو نے سب کے لئے ان کی اپنی اپنی جگہ ہر نوع کے موتی بکھیر رکھے ہیں ۔
زندگی میں تجھے گلہ تھا کہ "اپنے بھی خفا مجھ سےہیں بیگانےبھی ناخوش "اب اپنے بیگانےسب تجھ سے خوش ہیں کسی کو بھی تجھ سے کوئی شکایت نہیں ۔اقبال کی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش تھی ۔اس حوالے سے ان کی شیرخوارگی کے زمانے کا واقعہ خاص طور پر بیان کیے جانے کے قابل ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد ڈپٹی وزیراعلیٰ بلگرامی کے ہاں ملازم تھےجو انگریز سرکار کی ملازمت کرتے تھے ۔اس وجہ سے میری ماں کو شبہ ہوا کہ ان کی آمدنی شرعا" مشکوک ہے، لہٰذا انہوں نے اپنا زیور بیچ کر ایک بکری خریدی اورمجھےاس کا دودھ پلانے لگیں۔ یہ بات اچھی طرح میرے فہم میں آگئی کہ رزق حلال ایمان کی جان ہوتا ہے اورمیں سمجھتا ہوں یہی میری والدہ کا مجھ پر احسان ہے _اقبال کو اپنی والدہ سے بے پناہ محبت تھی ان کی والدہ کا انتقال 9 نومبر 1914 کو ہوا ,9 نومبر ہی اقبال کی پیدائش کی تاریخ بھی ہے۔
اقبال نوجوانان ملت کے لئے بہت فکرمند تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کی فکری رہنمائی کی، انہوں نے اپنے کلام میں اپنے "مثالی نوجوان" کو عموما شاہین کہہ کر پکارا ہے،اس لیے کہ ایک مثالی نوجوان میں اقبال جس قسم کے اوصاف دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ وہ انہیں شاہین میں نظر آتے ہیں۔ شاہین خوددار اور غیرت مند پرندہ ہے۔ بے تعلق ہے۔آشیانہ نہیں بناتا،بلند پرواز کرتا ہے چنانچہ اقبال نے جگہ جگہ شاہین کی صفات کا ذکر کیا ہےلیکن اس ذکر سے مراد نوجوانوں ہی کی سیرت و کردار ہے۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
عورتوں کے بارے میں علامہ اقبال کا نظریہ اسلامی تعلیمات کےعین مطابق تھا اقبال کےنزدیک کسی قوم کی بہترین روایت کا تحفظ بہت حد تک عورتیں ہی کر سکتی ہیں۔
علامہ اقبال عورت کی تعلیم پرزوردیتےہوئےفرماتے ہیں کہ فردکی تعلیم توفرد واحدکی تعلیم ہے مگرعورت کو تعلیم دینا سارے خاندان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ اقبال خواتین کی مذہبی تعلیم کے حامی تھے ان کے مطابق خواتین اسلامی تاریخ، گھریلو معاشیات اور وزارت صحت کی تعلیم حاصل کر کے مثالی ماں اور بیوی بن سکتی ہیں۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
اقبال بچوں کی تربیت کےبارے میں فکرمند ہوگئے تو ایک مکڑا اورمکھی، ایک پہاڑ اورایک گلہریں، گاۓ اور بکری، بچے کی دعا، ماں کا خواب ،پرندے کی فریاد اور ہمدردی جیسی نظمیں لکھیں اور یہ سب نظمیں بچوں کے لیے بہت سبق آموز بھی ہیں۔
اقبال ہر قسم کے تعصب سےپاک اور دیانتدار مفکر تھےمغربی تہذیب بھی ان کی فکر میں تبدیلی نہیں لا سکی آپ نے نوجوانوں کو مغرب کی برائیوں سےبچانا چاہتے تھے مگر مغرب کےبارے میں متعصب نہ تھے۔ انہوں نے مغرب کی ترقی کی تکنیک کو سمجھنے پر زور دیا اور مسلمانوں کو مغربی قوت کے اصل راز یعنی سائنس اورٹیکنالوجی اور تنظیم کو اپنانے کی تلقین کی، اقبال کے مطابق جدید علوم کو اپنانا غیر اسلامی نہیں بلکہ یہ وہی میراث ہے جو مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں لی اورخواب غفلت میں گنوا دی۔
مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ





































