
لطیف النساء
کتنے انتظامات دنیا کے مختلف ممالک اس نئے سال کے آغاز کیلئے کرتے ہیں پہلے منصوبہ بندی کے تحت پروگرامز! گانے اور ساتھ ساتھ ہلا گلا ہنگامے
اورنہ جانے کن کن چیزوں پر پہلے ہی سے تیاریاں کرنے لگتے ہیں اور بہت ہی پر جوش اور جذباتی ہونےلگتے ہیں ۔ ساتھ ساتھ میڈیاکی حرکتیں مزید جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتی ہیں۔
اگر ہم صحیح معنوں میں دیکھیں تو نیا سال جو کہ ایک انتہائی متبرک مہینہ محرم الحرام کے نام سے سامنے آتا ہے،!جی ہاں مسلمانوں کا نیا سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے جبکہ یکم جنوری شروعات تو عیسوی سال کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہجری سال کی نسبت امام الانبیاء اور اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہی ذات سے بابرکت سے ہے، کیونکہ عیسوی سال کی نسبت تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہی ہوتی ہے۔ محرم کتنا اہم مہینہ ہوتا ہے۔ حجاج تو عجیب ہی تقویت محسوسی کرتے ہیں اور شکر گزاربھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انھیں حج کی سعادت عطا فرمائی۔ حرمت والا مہینہ ایک بار پھر ملا ان مہینوں میں تو باپ کے خون کابدلہ لینا تک منع ہوتا ہے ناکہ ہم نفرتوں اور جنگوں سے تک گریز نہیں کرتے!!کتنے ہی مقدم واقعات اس ماہ میں ہوئے انکو دیکھا جائے تو بھی ایک تاریخ سامنے آ ہی جاتی ہے ،جیسے اسی مہینے میں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی تو اسی مہینے میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ سے ہمکنار ہوئی اور آدمِ ثانی کہلائے گئے کہ جیسے دنیا وہیں سے آگے بڑھی۔ اسی طرح فرعون کو غرق کیا گیا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل سے رہائی ملی تو کہیں حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی، اسی مہینے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو گلِ گلزار بنا دیا گیا یہ سب کتنے انعامات تھے رحمت بھرے!! یہ وہی مہینہ ہے جس میں عظیم فاتح امام عدل و انصاف حضرت عمرؓ بن خطاب نے جام شہادت نوش فرمایا تو پھراس محرم الحرام کو نئے سال کا آغاز توبہ و استغفار سے کریں تو کتنا کرم ہو! کیونکہ دیکھیں نا سال تو نیا ہے، مگر عمر مزید پرانی یعنی کم ہوگئی ہے۔ دولتِ زندگی کم ہونے کی فکر دنیا وی دولت کے ختم ہونے یا کم ہونے سے زیادہ ہونی چاہئے نا؟ پانی کی تنگی ہو اورٹنکی میں اگر وہ پلاسٹک یا لوہے کی چادرکی بنی ہو تو ہم کیسے ٹھونک ٹھانک کر پانی کی سطح کی پیمائش کرتے ہیں اور سوچ سوچ کر احتیاط سے استعمال کرتے ہیں کہ دیر تک چلے لیکن اپنی زندگی کی!!! جو برف کی مانند گھلی جارہی ہے اس کی فکر نہیں کرتے! یہی تو لا پروائی اور زندگی جیسی نعمت کی ناقدری ہے! ہمیں تو فکر ہونی چاہیے رب کی رضا، اس کی خوشنودی کی اورکامیابی کیلئے ہمیں تو گذشتہ زندگی سے زیادہ محتاط، حساس اور ذمہ دار ہونا چاہئے۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئے۔ واقعی امی کتنا سچ کہتی تھیں کہ بس بیٹا آج تمہارا ہے۔
موجودہ زمانہ یعنی حال تمہارا ہے اسے گزرے ہوئے کل سے اچھا بلکہ بہت چھا بنالو کل کس نے دیکھا ہے؟ ہم ماضی میں نہیں جا سکتے،مگرماضی کی غلطیوں کی تلافی تو کر سکتے ہیں۔ یوم حساب بندہ خواہش ظاہر کرے گا کہ اے کاش میں نے اپنی زندگی میں کچھ آگے بھیجتا کیونکہ اس دن جہنم سامنے لائی جائے گی۔
اللہ نہ کرے ایسا ہو! ہم سمجھتے ہیں نا۔ پڑھا بھی ہے سنا بھی ہے، جانا بھی ہے مگر ہم نیا سال یعنی نیوا یئر کیسے مناتے ہیں؟ ہم تو مناتے بھی نہیں، نیو ائیر جو غیر اسلامی سال کا پہلا دن یعنی یکم جنوری ہے بلکہ اسے تو اب عالمی سطح پر ہی منایا جا رہا ہے، رات 12 بجے سے شروع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی ہمارے ہی قیمتی دن ہیں ہمارا ہی زندگی کا قیمتی وقت ہے اور سرکاری کام کی ابتدااس سے ہوتی ہے مگر اس پر بھی ہمارا طرز عمل وہی ہونا چاہئے جو ہمارے یکم محرم کو ہو مگرہمارا یا غیرمسلموں کا طرز عمل دیکھیں؟ احتساب کریں، جائزہ لیں اپنے کرتوتوں کا! کیا دیکھتے ہیں کیا کرتے ہیں؟ اور کیوں کرتے ہیں؟ پابندیوں کے باوجو ہلا گلا کہ بس کیا دھما کے، کیا پٹاخے اور فائر ورکس! میڈیا اتنا مصروف اورمستعد!اس سے زیادہ شیطان اور اس کے بھائی بندے! اللہ کی پناہ! پہلی دفعہ مجھے سونامی کے بعد والے 31 دسمبر کا دن اور رات یاد ہے جب تنکوں کی طرح کچرے کی طرح لوگ اور انکی قیمتی اشیائیں بہے تھے،کیسے لوگ بے بس تھے اور پانی نے کیسا روپ دکھایا تھا؟ سب نے ہی رب کو پکار اہو گا؟ اسکے بعد سے مجھے ہروقت یکم جنوری کو خصوصی طور پر زیادہ ڈر لگتا ہے اور میں کہتی ہوں کہ ہمارے نئے سال کو بلکہ ہر صبح کوزندگی کی نئی صبح سمجھ کر شکر گزاری اور آخرت کی تیاری کو مد نظر رکھکر گزارنی چاہئے۔
کتنے گنہگار بندے ہیں؟ قرآنی قصوں کو خاطر میں نہیں لاتے! کتنی قوموں پر عذاب آئے! کہیں ناپ تول میں کمی پر تو کہیں بے حیائی اوربیہودگی پر تو کہیں غرور و تکبر پر! اللہ کی طاقت کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا؟ یہ قصے ہمیں بہلانے کیلئے نہیں سمجھانے اور راہنمائی پانے کیلئے بتائے گئے ہیں جبکہ یہ عذاب الٰہی تو صرف ایک گناہ پر دیئے گئے تھے جبکہ آج کل تو ہم ہر گناہ میں ملوث ہیں ہر طرف ہر طرح کے گناہ پھیلے ہوئے ہیں۔ بندے ہر برائی کا شکار ہیں اور شکار بھی کر ہی رہے ہیں۔ پھر بھی بے حسی سے بعض نہیں آرہے! یہ کتنی بڑی سزا ہے؟ جس کا ہمیں ادراک نہیں۔
آج صبح میں اٹھی تو اپنے ہی ماحول میں اتنی نافرمانیاں، خودغرضیاں، لاپرواہیاں اور بے ادبیاں دیکھیں، رزق کیلئے، دنیا کیلئے، قلبی سکون کیلئے میں اور صرف میں کیلئے خود اپنے ہی گھر میں خالق کیلئے فرمانبرداریاں کیوں نہیں؟ کہ دل پھوٹ پھوٹ کررویا!آنسو آئے مگر مجھے تو کسی کی آنکھوں میں دوا کے قطرے ڈالنے تھے اتنی معصوم سی معمولی ناراضگی مجھ سے برداشت نہ رہ سکی۔ یقین جانئے اللہ ہی نے صبر دیا ہے پیار کا دوسرا نام صبر ہے یہ بھی سمجھا دیا کیسے رب نے زخم کا علا ج کیا؟ سب کو صبح رخصت کرکے جب رو دھو کر موبائل کھولاتو دوست کا پیغام تھا جو دوست کا تو تھا، اسی نے بھیجا تھا مگر وہ ہمارے ولی اور حقیقی دوست ربِ کائنات کا پیغام تھا۔ آنے والے نئے سال کیلئے بھی میرا یہی پیغام ہے انشا اللہ! پیغام یہ تھا کہ تم کیوں پریشان ہو کیا میری قدرت پر یقین نہیں ہے تم کو؟ میں تو تمھاری شہ رگ سے بھی قریب ہوں۔
تم مانگو مجھ سے۔ تمہارا مانگنا اچھا لگتا ہے،مجھے تمھارامانگنا اچھا لگتا ہے۔ اللہ کی شان! جب تم اپنی ماں کی نیت پر شک نہیں کرسکتے تو اس پر کیسی بے یقینی جو تم سے 70 ماؤں سے بڑھکر محبت کرتا ہے۔مجھ سے مکمل یقین کے ساتھ مانگ کر تو دیکھو، عرش پر" کن "کہ کر پوری دنیا کو تمھارا وسیلہ بنا کر تمھیں نہ نو از اتو کہنا.. سبحان اللہ اتنا سکون ملا کہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ خوب دعا کی اللہ پاک دعاؤں کو قبول فرمائے۔ آمین، ساتھ ہی میری ایک اسکول کے زمانے کی ٹیچر کا ایک شعر یاد آگیا:
میرے ہم سفر تجھے کیا خبر، میرے دل میں جذب ہیں کتنے غم
وہی آنسوبن کے نکل گئے، جنہیں دل نے میرے سہا نہیں
یہ ہمسفر کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ عزیز رشتہ دار، بیٹا،پوتا، دوست، چاچی، نانی، شوہر،دادی، پوتی، پوتا یا کوئی ڈاکٹر مریض یا کوئی بھی لہٰذاسوچ کر بات کریں، روئیے اچھے رکھیں جو الفاظ سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں جبکہ الفاظ زہر سے زیادہ! تو ان کی نوبت کبھی نہ آنے دیں کیونکہ زندگی واقعی مختصر ہے اور مقصد لئے ہوئے ہے ورنہ بے مقصد اور بے بندگی زندگی، شرمندگی ہی شرمندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین و دنیا میں ہمیشہ کامیاب فرمائے۔ آمین۔ محرم کا استقبال ایک نئے عزم سے کریں امر بامعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ۔ جزاک اللہ۔





































