
لطیف النساء
ہمارے گورنمنٹ اسکولوں میں ٹیچرصاحبہ اپنا سبق مکمل کرنے کے بعد اس کے اہم نکات دہراتی تھیں اور انہیں تختہ سیاہ پر لکھتی تھیں پھرانہی میں سے
چند سوالات کرکے بچوں کو دہرانے کا موقع دیگرمطمئن ہو جاتی تھیں اور ہم بچے بھی کافی مطمئن ہو جاتے تھے بالکل اسی طرح آج یہ کتاب ہرے رنگ کی طالب علم کے نام کی میرے ہا تھ لگی اور بچوں سمیت مجھے بھی کچھ احساس ہوا کہ واقعی اچھی باتوں کا بڑوں کی کہانیوں اورنصیحتوں کا اور خاص کراچھی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہی رہنا چاہئے۔
جیسے اس میں "چند مشہور آداب " لکھے تھے کہ قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب ہیں ان کا خیال رکھنا چاہئے چنانچہ وہ مشہور آداب یہ ہیں: ۱۔ قرآن شریف شروع کرنے سے پہلے اچھی طرح وضو کریں اور پھر اعوذ باللہ اور پھر بسم اللہ یعنی تعوذ اور تسمیہ ضرور پڑھنا چاہئے۔ صاف ستھری جگہ قبلہ رخ ہو کر بیٹھیں اور محض اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے تلاوت کریں کوئی اور دنیوی نیت دل میں نہ رکھیں۔ ۲۔ مسواک کر کے تلاوت کرنا اس میں قرآن پاک کی تعظیم ہے۔ ۳۔ پڑھنے میں جلدی نہ کریں ترتیل اور تجوید سے پڑھیں۔ ۴۔ کلام پاک کی عظمت دل میں رکھیں کہ ایسا عالی مرتبہ کلام ہے۔ ۵۔ جب نیند آنے لگے تو تلاوت موقوف کر کے سو جائیں۔ ایسا نہ ہو کہیں نیند کے غلبے کی وجہ سے پڑھنا کچھ اورہو اور زبان سے کچھ اور نکلے۔۶۔ دورانِ تلاوت آیت سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہے۔ سجدے کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہو کر بغیر ہا تھ اٹھائے اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں جائیں اور کم ازکم تین مرتبہ سبحان ربی الاعلیٰ کہہ کر پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھا لیں نہ تشہد پڑھیں اور نہ سلام پھیریں۔ ۷۔ ناظرہ پڑھنے کے وقت بغیر وضو کے قرآن پاک کو ہاتھ نہ لگائیں،نہ اٹھائیں اور نہ ہی ورقے ہاتھ سے پلٹیں البتہ بغیر وضو کے زبانی تلاوت میں کوئی مضائقہ نہیں اور ناپاکی کی حالت میں نہ زبانی تلاوت جائز ہے نہ دیکھ کر۔ ۸۔ دورانِ تلاوت جب جمائی آئے تو خاموش ہو جائیں اور تلاوت کرتے ہوئے ھَا ھَا نہ کریں۔ ۹۔ قران پاک کو رحل، تکیہ یا اونچی جگہ پر رکھیں اور قرآن پاک کی تلاوت کے دوران باتیں نہ کریں اور اگر کوئی ضروری بات ہو تو پہلے مناسب جگہ پر وقف کریں اور قرآن پاک بند کرکے پھر بات کریں۔ پھر دوبارہ اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم پڑھ کر جہاں سے ختم کیا تھا شروع کردیں۔
یہ تو تھیں چند اہم باتیں مگر آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو آن لائن کی صورت حال کا تو میں بعد میں بتاؤں گی مگر اول تو تلاوت بھی بہت کم ہونے لگی ہے۔ پہلے ہم گھر سے نکلتے تھے تو دوسرے گھروں سے صبح ہی صبح تلاوت کی آوازیں آتی تھیں، گھر میں بھی بزرگ قرآن پڑھتے بڑا خوشگوار احساس دیتے تھے، مگرآجکل موبائل کی، فون کی اورٹائم سیٹ الارم کی آوازیں وقفے وقفے سے اوربعض دفعہ مسلسل آتی ہیں اوربعد میں اس پر بھی ایک لڑائی فساد ہوتا ہے، جبکہ آن لائین کی صورت حال میں ، میں نے اکثر دیکھا ہے کہ بچے جیسے بھی حلیے میں ہوں، جہاں بھی ہوں۔۔۔۔ مس کی کال آتے ہی چلے آتے ہیں اور قرأت، تجوید، ناظرہ کیلئے تیاری پکڑ لیتے ہیں۔ بعض جگہوں پر ان کے والدین یا کوئی بڑا بھی مدد گار ہوتا ہے مگر اکثر بچے دوسری حرکتوں میں زیادہ ملوث رہتے ہیں، ٹیچر کو دِکھائی نہیں دیتا اور اگر دیتا بھی ہے تو وہ بے بس ہے۔ ادھر معلم عجیب عجیب کرتبوں کو ناظرہ پڑھاتا ہے۔
کچھ بچے جو شروع سے رہنمائی میں سیکھتے ہیں اچھےجاتے ہیں۔ پڑھانے والے بھی بہت پیار محبت سے آدھا گھنٹہ لگا کرفل محنت سے سکھانے کی کوششیں کرتے ہیں۔اکثر بیرون ملک پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے جبکہ لڑکے مزید تنگ کرتے ہیں ۔ایسے میں انہیں کسی مسجد یامدرسے میں داخل کروانا پڑتا ہے۔ انہیں لینے اور چھوڑنے جانے میں بھی کافی وقت لگتا ہے مگر پھر بھی والدین اپنا حق نبھاتے ہیں اور بچوں کو راہ راست پر لانا چاہتے ہیں۔ مگر اس میں پھر بھی بڑی محنت اور توجہ کی ضرورت ہے جو صرف اور صرف والدین ہی اپنا حق سمجھتے ہوئے اپنی راہنمائی میں نہ صرف قرآن پڑھناسکھا ئیں بلکہ اس کا ترجمہ تشریح سب پر بیک وقت زور دیں۔ نمازیں سیکھا ئیں، دین دنیا کی فلاح کی دعائیں سیکھیں سیکھائیں تا کہ اس پر آشوب ماحول سے نمٹا جائے سب سے پہلے کرداراور اخلاقی کی تربیت خود گھر کے سیٹ شدہ ماحول سے دیں ورنہ دوسروں کی دیکھا دیکھی بہت کچھ متاثر ہو سکتا ہے۔
ماحول درست نہ ہو، ساتھی منفی رجحان رکھنے والے ہوں تو سلو پوائزن کی طرح برائیاں دھیرے دھیرے ایسے جذب ہوتی جاتی ہیں کہ کچھ خبرہی نہیں ہوتی اور بندہ کہیں سے کہیں نکل جاتا ہے پھر سوا ئے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا ،لہٰذا پہلے مرحلےمیں ہی دعاؤں کے حصار میں نفس کو قابو میں رکھنے کی مسلسل کوشش ہے۔ اب تو ماحول خود ساختہ ہے ایک کلیک پر منا ظر بدلتے ہیں ساتھ ہی آپکے خیالات ارادے اور روئیے بدلتے رہتے ہیں۔ دن رات میں اور رات دن میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں ،بس اسی طرح لمحے گھنٹوں میں گھنٹے دنوں میں دن سال اور یوں عمر تمام کہاں گزاری کیا ہوا، کیا کیا؟ زندگی کا وقت پر لگا کر اڑ گیا اور رہ گیا ہماراعمل بس یہی تو سرما یہ زندگی ہے۔ اس کیلئے تو سب کچھ کرنا ہے۔
سچ بولیں، امانت داری سے زندگی گزاریں، کسی کو دھوکا نہ دیں یعنی جھوٹ نہ بولیں کیونکہ یہ ہی خدا سے بے خوفی ہے اورتمام برائیوں کی جڑ جبھی تو بندہ بے دھڑک جھوٹ بولتا ہے اور گالیاں تک بکتا ہے۔ چند لمحے دل پرہاتھ رکھ کرسو چیں کیا ہمارا عمل ایسا تو نہیں؟ چاہے 100فیصد نہ ہو تو ایک فیصد بھی برا ہے۔ ایک روپیہ چوری اور لاکھ روپیہ چوری کر نا برابر ہے۔ لاکھ روپے چوری کرنے والا کوئی فنکار نہیں ہوسکتا، پھر ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر برائی کا فرق کیسے رکھ پاؤ گے؟ اسکا مطلب ہم نے آزمائش کو سمجھاہی نہیں! تو چلیں سب باتوں کا دوبارہ اعادہ کر لیتے ہیں تاکہ سکون ملے اور کامیابی کیلئے تو مسلسل صحیح عمل آزمائش پرمرتے دم تک پورے اترنا ہے،جس آزمائش میں آپ کوڈالا گیا ہےتو آپ کیا سمجھتے ہیں آزمائش کیا ہے اور کیوں ہے؟ تو سبحان اللہ جو جواب مجھے اس پیغام کے ذریعے ملا وہ پوری کائنات کیلئے ہے لہٰذا آزمائش کو غنیمت جان کر اس پر پورا اتریں اور شکر ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہئے ہمیں لگتا ہے کہ ہم اتنا صبر کرتے ہیں اور اور اتنا برداشت کرتے ہیں پھر بھی کسی کو ہماری تکلیف نظر کیوں نہیں آتی اورہمارا صبر بھی کیوں دِکھائی نہیں دیتا؟ تو پھر غور سے سنیں۔
دنیا بے خبر ہو سکتی ہے لیکن اللہ بے خبر نہیں ہوسکتا۔ دنیانا انصافی بھی کرسکتی ہے لیکن اللہ ناانصافی نہیں کر سکتا! یقین رکھیں کیونکہ وہ سب جانتا ہے اور سب دیکھ رہا ہے اور سب سن رہا ہے۔ وہ آپ کے دلوں کے پوشیدہ راز سے تک واقف ہے۔
آپ جس تکلیف سے گزرتے ہیں اسے آپ کی ہر ایک تکلیف کی خبر ہے وہ تو بس آزما رہا ہے اور آپ کو معلوم ہے صبر کرنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صبر کا اجر بہت ہی خوبصورت رکھا ہے جس طرح آسانیوں کیلئے کی ہمیشہ مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے اسی طرح ایک خوبصورت منزل حاصل کرنے کیلئے ایک اعلیٰ مقام پانے کیلئے صبر سے گزرنا پڑتا ہے اور پتا ہے اللہ صبر کرنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے محسوس کریں سوچیں اگر آپ ان تکالیف اور آزمائشوں پر مشکل وقت پر صبر کرینگے تو پھر اللہ تعالیٰ کو کتنے پیارے ہوں گے!کتنے زیادہ عزیز ہوں گے اور جو لوگ اللہ کی رضا کیلئے صبر کرتے ہیں نا وہی لوگ تو اللہ کو بہت ہی زیادہ پیارے ہوتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ اپنے پیاروں کے صبر کو رائیگاں جانے دے گا؟ اگر آپ اللہ کی رضا کیلئے صبر کر رہے ہیں تو یقین جانئے ایک وقت آئے گا جب آپ کو آپ کے صبر کے خوبصورت اور حسین اجر سے نواز دیا جائے گا اور جب آپ اس صبر کے اجر کو پالیں گے تو سارے غم اور تکلیف بھول جائیں گے۔
آپ کو یاد بھی نہ ہوگا کہ یہ تکلیف آپ پر آئی تھی!کیونکہ اس کا اجر بہت خوبصورت ہو گا اور دل اللہ تعالیٰ کی محبت میں جاگ اٹھے گا آپ کو اس کے سوا کوئی نظر نہ آئے گا۔
دنیا کے جھمیلے آپ کو کبھی نہ بھائیں گے نا آپ کو کسی شخص کی ضرورت ہوگی اور نہ لوگوں کے دلاسوں کی۔ کیونکہ آپ کو ایک ایسا دلاسہ مل چکا ہوگا جو صحیح دل سے آپ کے قریب ہوگا اور بے شک یہ وہی دلاسہ ہے جو ہم سب کو چاہئے لیکن اس کیلئے ایک شرط ہے کہ آپ کو صبر کرنا پڑے گا جس آزمائش میں آپ کوڈالا گیا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اس آزمائش سے آپ کو گزرنا پڑے گا اور پھر آپ اللہ پاک کی محبت پالیں گے اور جس نے اللہ کی محبت پالی اس کو سب کچھ مل گیا۔ اللہ ہم تجھ سے چاہتے ہیں۔





































