
لطیف النساء
حکمت اور دانائی کی بات جہاں سے چاہیں حاصل کر لیں کہ یہی گوہر نایاب ہے۔ 6 اگست کو سرگودھا کے انجینئر نذر ملک صاحب نے کیا خوبصورت پیغام
دیا کہ سبحان اللہ اگر اس کو نقل نہ سمجھا جائے بلکہ عملی زندگی میں شعوری طورپراپنایا جائے تو سمجھیں یہ بات ہمارے لئے یوم آزادی تو کیا یوم نجات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس چھوٹے سے موبائل کا یہی تو ایک خاص فائدہ ہے کہ اس کا استعمال درست کیا جائے جو لوگ اخبار پڑھتے ہیں ان تک اس پیغام کو پہنچانا مجھے عزیز لگا۔ اس لیے اسے مزید آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہوں اللہ پاک ہمارے دلوں میں اتار دے،کہتے ہیں کہ اسی پُرفتن دور میں کچھ ناعاقبت اندیش سیاسی لیڈروں نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے اور شتر بے مہار کی طرح جو منہ میں آیابک دیتے ہیں اور بولتے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ عوام الناس اور ان کے اپنے چاہنے والوں کی اخلاقی قدروں پر ان منفی رویوں سے کیا اثرات مرتب ہونگے؟
سیاسی لیڈر توقوم کے معمار ہوا کرتے ہیں اورا گرمعمار ہی منفی سوچ اور بدزبان ہوں تو پھر تو قوم کی تعمیرنہیں ہوسکتی بلکہ اخلاقی اورمعاشرتی تباہی سے اس قوم کو کوئی نہیں بچاسکتا جس کو سُدھرنے کیلئے سال نہیں صدیاں درکار ہوں گی۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ جس کا اخلاق اچھا اس کا ایمان اچھا۔ جب ہی تو آپؐ نے ایک بگڑے ہوئے عرب معاشرے کو اپنے حسن اخلاق سے ریوڑ سے مسلمان قوم بنا دیا۔ سبحان اللہ۔ اے عقل ودانش والے لوگوں ہم تو نبی کریم ﷺ کی میراث کے مالک تھے ہم نبی کریمﷺ کی مرتب کردہ اخلاقیات سے کیوں دور ہوتےجارہے ہیں؟ مرکز گریز ہوتے جارہے ہیں؟ کیا معمار انسانیت نے یہ زبان استعمال کی؟ ہم تو اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت گرانتے ہیں مگر نبی ؐ کی جاری کردہ سنتوں کوتک چھوڑ کر شیطان مردودکے پیرو کار بن بیٹھے ہیں۔ جس سے قومی یکجہتی پارہ پارہ ہونے لگی ہے۔اے قوم رسول ہاشمیؐ آئیے اپنی اصل کی طرف لوٹیں اور اصل کی طرف ایسے لوٹ چلیں کہ نبی کریم کی ان سنتوں پر عمل کر کے پھر سے ایک عظیم قوم بن جائیں۔آمین یا رب العالمین۔ یہ ہیں وہ اسلامی اخلاقیات جو ہم چھوڑتے جارہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں۔ حکم باری تعالیٰ ہےکہ آڑے نام نہ رکھیں، ایک دوسرے پر طعن نہ کریں، پیٹھ پیچھے برائیاں نہ کریں، چغلی نہ کریں، عیب نہ نکالیں، امن قائم کریں اسطرح کہ ایک دوسرے کو سلام کریں۔ ان سے ملاقات کرنے جائیں ان کے پاس بیٹھنے اٹھنے کو معمول بنائیں اور ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آئیں۔مزید محبت کیلئے ایک دوسرے کو ہدیہ و تحفہ دیا کریں کتنی ہی احادیث ہیں کہ جی اگر وہ دعوت دیں تو قبول کریں اور اگر کوئی مہمان بن کرآئیں تو ان کی ضیافت کریں بلکہ انہیں دعاؤں میں یاد رکھیں، غور کریں ہمارا طرز عمل کیا ہے؟ مزید اگر ہم بڑے ہیں تو حدیثؐ کے مطابق بڑے ہوں تو ان کی عزت کریں، چھوٹے ہوں توان پر شفقت کریں بلکہ ان کی خوشی اور غم میں شریک ہوں ایک اور حدیث ہے کہ اگر ان کو کسی بات میں اعانت درکارہو تو اس کام میں ان کی مدد کریں، ایک دوسرے کے خیرخواہ بنیں۔ اگر وہ نصیحت چاہیں تو انہیں نصیحت کریں، ایک دوسرے سے مشورہ کریں، پیٹھ پیچھے برائیاں نہ کریں چغلی نہ کریں، ایک دوسرے کی تکلیفوں کودور کریں، یہ سب احکام الٰہی اور فرمان رسولؐ ہیں ہمارا عمل کیسا ہے؟ اپنے ارد گرد دیکھیں ہم کیا کچھ کر رہے ہیں؟ بلڈینگوں میں اوپر رہنے والے سارا کچرا ہر جانب سے پھینکتے رہتے ہیں۔
اب تو چاروں طرف اوپر سے نیچے تک رہنے والے لوگ ہمارے پڑوسی ہی تو ہیں! کیاہمیں ان کی تکالیف کا احساس نہیں رکھنا چاہئے؟ سورہ مطففین میں صاف فرمایا گیا ہے کہ ایک دوسرے کو تکلیف دے کر مزے نہ اٹھائیں۔ اپنے بچوں بڑوں کی اچھی تربیت کریں کہ ہماری وجہ سے کسی کو نقصان نہ ہو فرمایا ناجائز مسابقت نہ کریں۔ مسابقت کرکے کسی کو گرانا بری عادت ہے اس سے نا شکری یا تحقیر کے جذ بات پیدا ہوتے ہیں۔ کچرے سے گٹر لائنیں بندہو جاتی ہیں اور گندہ پانی اور اوپر سے مسلسل گرتا ہوا کچرا ملکر تعفن اورٹھہرا ا ہوا پانی انتہائی تکلیف دہ ہوجاتا ہے جو ناقابل برداشت ہی نہیں ہوتابسااوقات بلکہ اکثر نا قابل علاج ہو کر پورے محلے کوروگ لگا دیتا ہے۔ کیا ہمیں خبر نہیں کہ ہم ہر لمحے رب کی نگاہ میں ہیں۔ آن لائین ہیں اور کیسے آن لائین جسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ!وہ رب کی ذات سمیع ہے علیم ہے خبیر ہے آپ کے چاروں طرف ہے:
انسان کی کسی حال میں تحقیر نہ کرنا
پھرتا ہے زمانے میں خدا بھیس بدل کر
نیکیوں میں سبقت اور تنافس جائز ہے جبکہ اس کی آڑمیں تکبر، ریا کاری اور تحقیر کار فرما نہ ہو(المطففین)جب ہم طمع، لالچ اور حرص سے بچیں اور ایثار قربانی کا جذبہ رکھیں، اپنے سے زیادہ آگے والے کا خیال رکھیں اور مذاق میں بھی کسی کا مذاق نہ اڑائیں جیسے قرآنی احکامات کو نہ مانیں اور کسی کو بھی تکلیف دینے کے بجائے ہر کسی کو نفع بخش بننے کی کوشش میں مستقل تکالیف دیتے ہیں،نا جائز تجاوزات کرکے، روڈز بلاک کرکے درختوں کو جگہ گھیرنے کے چکر میں اُگوا کر اپنی اجارہ داری کریں تو کونسا نیک عمل کیا؟ حکم توہے کہ احترام سے بات کریں اور بات کرتے وقت سخت لہجے سے بچیں اور حدیث پاکؐ ہے غائبانہ بھی اچھا ذکر کریں، غصے کو کنٹرل میں رکھیں جب ہی انتقام لینے کی عادت سے بچیں گے۔
ظاہر ہے غصہ تو شرک کی ایک ادنیٰ ترین قسم ہو سکتا ہے جب آپ غصےمیں کسی پر بڑائی جتائیں! بڑائی تو صرف اللہ کو زیب دیتی ہے لہٰذا کسی کو بھی حقیر نہ جانیں اور اس لئے اللہ کے بعد ایک دوسرے کا بھی شکر اداکرتے رہیں یہی رب کی شکرگزاری ہے۔ کتنا اچھا پیغام ہے حدیث نبویؐ ہے کہ اگر کوئی بیما ر ہو تو عیادت کوجائیں، اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو اسکے جنازے میں جائیں۔اب دیکھیں نہ ان حالات میں آج کے تناظر میں ہم سب کہاں کھڑے ہیں؟ ان معمولی باتوں کو عمل کرنا تو دوسری بات سننا تک گوارا نہیں! اگر ہمارے اشتہارات میں ان حقیقتوں کو زبان دے دی جائے ان کا حق ادا کرتے رہا جائے تو یقینا عمل آسان ہوتا جا ئیگا انشا ء ا للہ بس کیا کہوں؟ یہی کہ جو پڑھا آگے بڑھا دیا جو سمجھا سمجھانے کی کو شش کرلی، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے برگزیدہ بندوں میں میں شامل کرلے،عمل کرنے والا بنادے اور نبی کریمؐ کا صحیح پیروکار بنادے۔آمین
lvif





































