
لطیف النساء
زندگی میں اکثر والدین یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے سدا خوش رہیں اور واقعی خو ش گوار زندگی ہی دراصل کامیاب زندگی ہوتی ہے۔مگراس کامیابی کے
پیچھے سچےاور پر خلوص پختہ پاکیزہ جذبے اوراحساسِ ذمہ داری سے لبریز ہونا ضروری ہے۔
دراصل ہررشتہ قربانی مانگتا ہے،جس سے محبت کی جاتی ہے اسے کسی صورت دکھ نہیں دیا جاتا۔ اس کی ہر جائز تکلیف قابل برداشت ہوتی ہے،مگر ہمارے خوبصورت معاشرے کا المیہ ہی اور ہے! زندگی تو حادثات سے بھری پڑی ہے۔ شادی کے وقت تمام ہی لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ نئے جوڑے سدا سکھی رہیں ،پھلے پھولیں،مگر دشمن جو ساتھ لگا ہے کو ہم خود اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں ،اس کی میں کو میں بنالیتے ہیں توخاندان کی یہ اکائی بکھرجاتی ہے اورمزید درد بھرے حادثات رونما ہوتے ہیں۔
ایسی صورت میں ایک نہیں دو نہیں کئی افراد انتہائی کرب سے گزرتے ہیں۔ رشتوں کے ٹوٹنے کا غم، لوگوں کی بے لگام زبانوں کا دکھ تو بےعزتی کا غم اور اگر واقعتاً کسی ٹھوس وجہ سے علیحدگی عمل میں آئی ہے تو پھر بھی معاملہ ذرا دوسری نوعیت کا ہوتا ہے اورلوگ بھی زیادہ غمزدہ نہیں ہوتے مگربلاوجہ جوازبنا کر دوسروں کو ذلیل کرنا، نیچا دکھانا بد تمیزی بھی نہیں بد تہذیبی بلکہ ظلم ہے۔ دینی تعلیم کا فقدان اور اللہ کی ذات سے بے خوفی بندے کو احساس زمہ داری سے نیچے گرا کر اسے خود بے وقعت کر دیتی ہے۔ وہ بالکل بھول جاتا ہے کہ
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر
چلیں چھوڑیں جب یہ حادثہ ہو ہی گیا کہ خاندان کی اکائی بکھر گئی تو اس سےکیسے نمٹا جائے؟ اگر لڑکی کے پاس چھوٹے بچے ہیں دودھ پینے والے، یا جو سات سال سے کم کے تو ماں کو بہر حال انسانیت دکھانی ہوگی، بچوں کی وجہ سے باپ کو تنگ نہیں کیا جانا چاہئے، جبکہ وہ بچوں کا نان نفقہ دے ہا ہو پھر وقتا فوقتا اس سے ملتے رہنے کا موقع یعنی بچوں سے ملنے کا موقع دینا چاہئے اور پھر ان کی مرضی کے مطابق جن کے ساتھ وہ رہنا چاہیں رہنے کیلئے کھلے دل سے دے دنیا چا ہئے۔ اسی طرح باپ کو بھی محض بیوی پر غصہ اتارنے کیلئےبچوں کو ماں سے مکمل طور پر دور رکھنا اور ملنے نہ دینا ظلم ہے۔
انسانیت کے ناطے بچوں کو آہستہ آہستہ سمجھایا جاسکتا ہے اور انھیں ایک خوشگوارماحول دیا جا سکتا ہے۔ اور اپنی اپنی زندگیوں کو دوبارہ دوسری شادی کر کے پچھلی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے بچوں کی تربیت کرتے رہنا چاہئے ناکہ مظلوم بن کر ہر جگہ ڈھنڈورا پیٹتے رہیں اور دوسروں کی زندگیوں کو بھی اجیرن کر دیں۔ برائی کونیکی سے دور کریں احساسِ ذمہ داری اور خودداری کا، محبت اور انسانیت کا پہلو تھام کر کام کیا جائے تواللہ پاک بھی مدد فرماتے ہیں اورمعاشرے کا سدھار عمل میں آتا ہے۔ اسی طرح دوسری شادی کرنا کوئی جرم یا
گناہ نہیں بعض دفعہ مرد یا خاتون ان حالات کا شکار ہو جاتے ہیں کہ دوسری شادی کے علاوہ کوئی صورت نہیں ہوتی! ایسے میں خاندان کے لوگ خود بیٹے بیٹیاں، بہوئیں رکاوٹ نہ بنیں بلکہ لوگوں کونہ دیکھیں اپنے مطلوبہ بندے یا بندی کو دیکھیں کہ وہ کیسے آگے زندگی اکیلے گزاریں؟
ضروری ہے کہ اس کی شادی کروائیں اور انہیں ایک پرسکون ماحول دیں،لالچی اور خود غرض نہ بنیں، یقین جانئے ہر شخص اپنی ہی قسمت کا کھائے گا۔ مثلاً باپ نے چار پانچ بچوں کی شادی کر دی مزید دوتین کی یعنی باقیوں کی شادی ہونے ہی والی تھی کہ والدہ صاحبہ کرونا کا شکارہو گئیں، ہٹی کٹی مضبوط متحرک خاتون!اللہ کی مرضی ۔۔۔۔میاں کا اچھا کاروبار ہے۔سب بچوں کو برابر حصّہ دے رہے ہیں۔ اب ایک سال میں باقیوں کی بھی شادی کر دی۔ اب اگر 4، 5 بیٹے اور تین بیٹیاں شادی شدہ ہیں، بہوؤں میں نہیں بنتی تو پھر تو بیٹوں کا فرض ہے کہ سب مل کر باپ کی دوسری شاد ی کروادیں اگر وہ صحت مند اور قابل ہیں تاکہ وہ سکون سے پہلے کی طرح رہ سکیں بلکہ انہیں بسنے میں مدد کریں۔ اللہ دیکھ رہا ہے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں!اچانک بیوی کا گردے فیل ہونے سے انتقال ہو گیا۔صرف دو جوان بیٹے ہیں شادی شدہ چھ سال یا سات سال شادی کو ہوئے ہیں۔ اب داد ااس لائق ہے کہ دوبارہ زندگی دوسری شادی کرکے آرام سے بغیر کسی پر بوجھ نہیں گزار سکتا ہے۔ ان کا حق ہے اسے ایسا کرنے میں تعاون کرنا چاہئے ورنہ وہی خود غرضی والی بات! میں نے اکثر دیکھا ہے۔ بے چارہ باپ اور بسا اوقات اس کا بڑا بیٹا جو پہلے ذمہ داریاں نبھاتا رہا پھر خود بڑی عمر کاہو گیا ،اس کا کسی کو احساس نہیں بلکہ آنے والی کماؤ بہوئیں ان کو نوکروں کی طرح رکھیں! اُن کی چلنے نہ دیں، ان کے گھروں میں وہ کماتے ہوئے بھی بے کسی اور بے بسی سے عزت کی زندگی بسر کریں اور کچھ لوگ تماشا دیکھیں؟ نہیں یہ صورت حال بالکل غلط ہے؟اپنی ذاتی غرض کی خاطر ایسا کرنا ظلم ہے۔ ان سے کام بھی لیں اور ان کی پرواہ بھی نہ کریں، نہ ایسی عزت دیں گو یا ایک محترمہ دو دو، تین تین پر محض حکمرانی کریں کسی کی مجبوری کا یوں فائدہ اٹھانا ظلم ہے۔ اپنی سی کوشش کرکے انکا دوسرا گھر بسائیں یہی انسانیت ہے۔ اسلامی تہذیب ہے اسی میں پیار ہے اور جذبوں کی طاقت اور خوبصورتی ہے ورنہ تو:
اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد، اوروں کے کام آنا
اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی؟ بچے کیا سلوک سیکھیں گے؟ خود کریں عیش دوسروں کو دے طیش! یہ نہ بہوؤں، بیٹوں کاحق نہ ہی بیٹیوں کا کیونکہ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ اگروہ مضبوط ہیں بیمار نہیں ہیں خود کفیل ہیں جو چاہے بندہ ہو یا بندی اسکو اکیلے نہ چھوڑیں بلکہ شرعی طور پر دوسری شادی کروائیں اور معاشرے کو خوبصورت اور خوب سیرت بنائیں۔ اللہ بڑا قدردان ہے وہ کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ اسکے صلے میں آپکو نہال کر دیگا، آپ کی سوچ سے بھی بڑھکر اور اگر وہ خاتون ہیں تو بھی اسکی پوری زندگی کو اپنے لئے اور اپنے بچوں کی خدمت کیلئے مختص نہ کریں بلکہ حتی الامکان کوشش کرکے اسکا دوسرا بیاہ کروادیں۔اللہ دیکھ رہا ہے آپ کو آپ کی نیتوں پر ہی اٹھایا جائیگا۔ اگر وہ مجبور ہیں بولتی نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنا فرض بھول کر حق جتائیں اور ان متاثرہ افراد یعنی مجرد لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی خودداری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ایک سچے جذبے اور احساس کے ساتھ اپنے رشتوں کو نبھائیں ناکہ اپنی بے تکی اور بے غرضی لا لچوں میں آکر دوسروں کا جینا اجیرن کرنا، فساد ہےاورفساد قتل سے بڑا جرم ہے جسے رب کبھی نہیں پسند کرتا۔
دوسری شادی کرنے والے خواتین اور حضرات کو بھی نیک نیتی کا حامل ہونا چاہئےاوراپنانے والے کو اسکی خوبیوں اورخامیوں سمیت قبول کر کے حکمت اور پیار سے زندگی کی گاڑی چلانا چاہئے۔ یہ زندگی کوئی مزاق نہیں! ہر لمحہ کا حساب دینا ہوگا یہ تو ہے ہی امتحان! اللہ کے بندے ہو تو اسکی بندگی ایسے کرو جیسے اسکا حق ہے وہ ہر طرح سے آزماتا ہے دے کر بھی لے کر بھی تمھارا کیا ہے؟ تو تم کیا لائے؟ جو کچھ دیا اللہ نے دیا جو تمھارا نہ تھا۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ کسی اور کا تھا۔ اب تمہارا ہے کل کسی اور کاہو جائے گا۔
زندگی کو غنیمت جانو یہ تو دکھوں اور خوشیوں کے بچھڑنے اور ملنے کا نام ہے جو رات کی طرح تاریک ہے اور دن کی طرح روشن مگر حق تو آپ کو حاصل ہے۔ اپنے چاہنے والوں کا خیال رکھیں انکا حق زندگی میں ہی ادا کریں کیونکہ جو حق ہے وہ فرض بھی ہے زندگی کا کیا بھروسہ آج ہے کل نہیں۔ ضروری نہیں کوئی سوبار آپ کے آگے روئے مجبوریاں دِکھا ئے! آپ سمجھیں کہ انکے آنکھ کے سوراخ بند ہیں تو آنسو آتے ہی نہیں!
یہ کوئی روکے دکھائے یہ ضروری تو نہیں
خشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں
خوش رہیں اور خوش رکھنا سیکھیں۔





































