
لطیف النساء
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم میں عورتوں کی تعداد کو زیادہ پایا ہے۔حدیث کا مفہوم ہےیعنی جہنم
میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے کہ اس کی وجوہات بھی بتا دی گئیں کہ وہ شوہروں کی نافرمان اور زبان دراز ہوتی ہے۔اللہ کے بعد جس ہستی کو " سجدہ کرنے کا حکم اگر ہوتا تو شوہر کو ہوتا" مگر یہاں تو معاملہ ہی اور ہے۔ہم عورتیں ہی ہیں جو سجدہ تو دور کی بات رویہ بھی اتنا برا رکھتی ہیں کہ میں سمجھتی ہوں کہ ان بے چاروں کو دنیا میں ہی جہنم رسید کردیتی ہیں۔ایک تو ناقدری اوپر سے زبان دراز!!وہ بھی ایسی کہ خوداپنے ساتھ ساتھ بچوں کوبھی باپ کا دشمن بنائے رکھتی ہیں اور اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھتی ہیں جوبالکل جاہلانہ حرکت اور تہذیب سے گری ہوئی بات ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ ہرعورت کا یہ حال ہے،نہیں بالکل نہیں اس کے بالکل برعکس بھی ہوتا ہےکچھ وفادار وفا شعار خواتین اتنی معتبراور پختہ ایمان والیاں ہوتی ہیں کہ آندھی طوفانوں میں بھی اپنے گھر کے اندھیروں کودل کے دیئے سے اجالے رکھتی ہیں۔ اپنے شوہروں کی شکرگزار ہمدرد مہربان کہ دنیا کے لئے مثال، ایسے ہی مرد حضرات خوشی نصیب ہوتےہیں اوران ہی کی نسلیں اچھی تہذیب کی وارث ہوتی ہیں۔ نہ محنت سےگھبراتی ہیں نہ بیماری سےنہ تنگی آمدنی سے، بس اپنے کام اور مقصد میں شکرگزاری کے ساتھ جتی رہتی ہیں۔ آخر کار کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ ایک مرد کی تعلیم ایک گھر کی تعلیم ہوتی ہےجبکہ ایک عورت کی تعلیم ایک معاشرے کی تعلیم ہوتی ہے۔ اس میں تربیت کاعنصر تو نمایاں کردارنبھاتا ہے۔ ہم نےاپنے بڑوں سے سُنا تھا کہ دو بچوں والے مرد سے فلاں کی بیٹی بیاہ گئی ۔ ماشا اللہ کتنا اچھا رکھا گھر کو اور کیسے اچھا پروان چڑھایا اُن بچوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے اپنے بچے ہیں؟ ابا ایک اور دویا تین بیویوں کے بچے کئی ،ہر کسی کو برابری کا حق اورآپس میں محبت قابل دید!!!ابھی پچھلے دنوں ایک معمر خاتون کی تدفین میں جانے کا موقع ملا۔
مرحومہ کی خصوصیات کا سن کردل بہت غمگین ہوا۔ ان کی چھوٹی بیٹی جوابھی کنواری ہیں اوراچھی جاب کرتی ہیں کہنے لگیں میری امی کی جب شادی ہوئی تھی تو میرے ابو امی سے بیس سال بڑے تھےاوران کی عمر صرف 14یا 15 سال تھی۔ پھر ہم پانچ بہنیں ہوئیں اتنے دنوں سے ہمیں یہی معلوم تھا کہ یہ پانچ بہنیں ہیں چار شادی شدہ اور ایک کنواری جو ماں کے ساتھ مکان میں رہتی ہیں۔ میں نے پوچھا بھائی کہاں ہیں کہنے لگیں ایک بھائی تو چند سال پہلے وفات پاگئے۔ ایک امریکہ میں سیٹ ہیں مگرہم سب کی خبر رکھتے ہیں اور ہمیشہ خیال رکھتے ہیں۔ ابا بھی 25 سال پہلےمرچکے تھے۔ امی نے ہی ہمیں پڑھایا لکھایا ہم نے نوکریاں کیں، ہماری شادیاں اچھی جگہوں پر ہوئیں اور ابھی ان کی نواسیاں نو اسے سب ماشاء اللہ اچھی پوسٹ پر کوئی ڈاکٹر کوئی انجینئر کوئی کیا کوئی کیا! سبحان اللہ! قربانی دینے والے اور اللہ کی رضا چاہنے والے یہ لوگ ہوتے ہیں۔
ہمارے ایک اور عزیز تھے انکا بیٹا تیرہویں میں پڑھتا تھا اور بیٹی نویں میں والدہ گزر گئیں، فشریز کے ڈائریکٹر تھے۔ ان کی شادی ایک خاندان کی سب سے بڑی ڈاکٹر کنواری بیٹی سے ہوئی اور ان کے پانچ بچے پیدا ہوئے۔ بڑی بیٹی انجینئر بن گئی، بھائی کالج تو کوئی بہن اسکول میں چھوٹا بیٹا نویں میں کہ پہلے والدہ گزر گئیں اتنی اچھی پر سکون زندگی گزاری، پہلے میاں کی بیٹی نے جیسے ہی بی اے کیا اس کا بیاہ کر دیا جب تک وہ پانچ بچوں کی ماں بن چکی تھی کہنےکا مطلب یہ ہے کہ کیسی والدین کی تربیت تھی کہ اس کنواری لڑکی نے کس طرح سب کو لیکر گھرچلایا، پھر بڑے بیٹے کی بھی شادی کر دی تو و ہی بڑا بیٹا بعد میں اپنے بہن بھائیوں کا کفیل بنا کیونکہ والدہ کے انتقال کے چندہی ماہ بعد والد صاحب بھی گزر چکے تھےمگر وہی تربیت کہ اب تک سب بہن بھائی اتنی اچھی طرح رہتے ہیں کہ دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر آج کا جائزہ لیا جائے تو اسی طرح کی مثالوں کا ملنا محال ہے مگر میں ناامید نہیں، اللہ کے نیک بندے مہذب دین پر کامل یقین رکھنے والے ابھی بھی اس طرح کے کردار رکھتے ہیں۔
والدین کی تربیت ہی انہیں دنیا و آخرت میں سرخر وکرے گی۔ بلا تکلیف انعام کیسے مل سکتا ہے؟ کیا ہمیں رب کی ذات اوراس کے دین پر بھروسہ نہیں؟ اب ہمارے کردا راتنے مشکوک اور ظالمانہ سفاکانہ کیوں؟ چند سال پہلے ایک ڈی ایس پی جن کومیں جانتی ہوں بیوی کینسرسےانتقال فرماچکی تھیں ۔تقریباً بارہ چودہ سال بعد اپنی ایک بیٹی کو بیاہ کر دو بیٹوں کو تعلیمی میدان میں سیٹ کروا کر تین بیٹوں کی بیوہ ماں سے دوسری شادی کی جس کی چھوٹی بیٹی صرف چھ سال کی ہے،کوئی کالج کی ہے تو کوئی اسکول کی مگر دیکھیں نا، ہیں نا خدا ترس اور ہمدرد سنتوں کو نبھانے والے مرد! تو ہم عورتیں کیوں نہیں؟ کیا ہمیں ایسا سوچنے کی ضرورت نہیں؟ اگر کسی کی بیوی نہیں ہے۔ یا بچوں کی ماں کسی بھی وجہ سے نہیں ہے تو کیا کوئی کنواری یا مطلقہ عورت اتنا ظرف نہیں رکھتی کہ اپنے شوہر کو دو تین بچوں کے ساتھ بخوشی قبول کرے اور بہترین تربیت کر کے اپنا دینی اخلاقی معاشرتی مسئلے حل کرے۔ کیا یہ تہذیب نہیں؟ اخلاق نہیں کردار نہیں؟ کیا سنتوں کو صرف لکھنے اورسنانے کیلئے رکھا ہوا ہے؟
میرے کہنےکا مطلب یہ ہےکہ کوئی بھی بندہ یا بندی کسی وجہ سے بچوں کے ساتھ ہےتواس کواچھی طرح اپنایاجائے،دل جیتے جائیں انعام وہاں ملے گا انشاء اللہ، یہ اللہ کا وعدہ ہے والدین اولاد کو سب کچھ دیتے ہیں اتنا جذبہ اتنا نیک رتبہ دینے کی ترغیب کیوں نہیں دیتے؟ دنیاوی تعلیم روپیہ کمانا کوئی بڑی بات نہیں،اصل بات تو کردار نبھانے کی ہے جو موقع سےملتی ہےاور بندے کی اوقات دِکھا دیتی ہے۔ بڑائی یہ ہے کہ بڑی سوچ ہو بڑا دل جگراہو۔
رب کی رضا اور خوشی کیلئے قربانی کا سچاجذبہ اور نیک نیتی ہو،پھر تو مسائل خود بخودحل ہو جاتے ہیں،خوشیاں سنبھالے نہ سنبھلیں گی! رب وہ عطا کرے گا۔ پہلا قدم تو بڑھائیں یہ دنیا توہے ہی امتحان اس میں پاس ہوئے بنا کوئی کامیابی مل سکتی ہے؟ بالکل نہیں۔ دین سے جڑیئے رب کو بھی منائیں، رب کی ہی مانیں یقین جانیں مقصد ِزندگی کو ادا کرنے کی ضرورت نہیں وہ تو خود بخود ادا ہو جائے گی۔
پچھلے سال محلےمیں ایک جگہ درس میں گئی مُدرسہ نےآخر میں کہاآپ دعا کریں میں نے عمومی دعا کر لی، پھر دیکھا کچھ عورتیں ایک چار ماہ کی بچی کو گود میں لئے رو رہی تھیں۔ میں ان کے پاس گئی اور پوچھا کیا ہوا ہے مجھے اس واقعے کا قطعی علم نہ تھا بتایا گیا کہ ہم چاروں بہنوں میں سب سے چھوٹی اس بچی کی ماں تھی جو الٹیوں اور موشن کا شکار ہو کر انتقال کر گئی۔ مزید دو بھائی ہیں۔ اب بتائیں دو پھو پیوں نے ایک ایک بچہ لے لیا اور ایک خالہ جس کا بچہ ابھی 2 سال کا ہے اس نے اس بچی کو رکھ لیا۔ بتائیے اب معاشرے کا رشتہ داروں کا جوان سال ان بیاہی لڑکیوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟ جو رشتے کی خالہ یا کزن ہو کیا وہ ان بچوں کی دوسری ماں بن کر باپ کیلئے تقویت کا باعث نہیں بن سکتی؟ آج کل تو لڑکیاں کتنے کٹھن کام کر لیتی ہیں۔ اس کےمقابلے میں یہ کام کتنا مسحور کن ہوگا اگر اللہ کی رضا کو دیکھاجائے دگنا اجر، زندگی توصرف ایک بار ملتی ہےاور نیکی کے مواقع بھی چنیدہ لوگوں کے حصے آتے ہیں۔
ایسے میں دیگر خواتین کا تعاون ہوناچاہئےیامخالفت؟ کوئی بیوہ یا مطلقہ کیا یہ کردار نہیں نبھا سکتی؟ بس اللہ سمجھ دے، والدین کو چاہئے کہ بیٹے بیٹیوں کی تربیت اس اس انداز سےکریں کہ ہر طرح کے حالات کو بخوشی اوربارضا قبول کرلیں، بس یہی میرا مقصد تھا یعنی بقول میری دوست کے اپنی اولاد کو اپنا دوست بنا دو، ورنہ برے لوگ انہیں اپنا دوست بنا کر انہیں برا انسان بنا دیں گے۔ اچھی صحبت اور اللہ سے جڑے لوگ ہی دراصل ہمیں صحیح زندگی کا شعور دیتے ہیں جس کے لئے ہمیں ہر وقت شکر گزارہونا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ سب کو عقل و شعور دے حکمت ودانا ئی دے کہ وہ اپنی مختصر حسین زندگی میں حسین دنیا میں رہ کر حسین کام کریں اور دنیا اور آخرت کی حسین کا میابی سمیٹیں۔ آمین یا رب العالمین





































