
لطیف النساء
انسان اتنا مصروف اوراپنی خواہشات کاغلام ہےکہ انہیں حاصل کرنے اوراپنے آپ کواپ گریڈ کرنے کیلئے دن رات
لگا رہتا ہے مگرخواہشات ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔
بسااوقات وہ سوچتا بھی ہے کہ میں تو بہت آگے نکل گیا ہوں اورکافی ترقی کی سیڑھیاں چڑھ چکا ہوں اوریوں میں ابھی چھبیس سال کا شاہ جوان ہوں مگر پھر وہ مزید رنگینیوں اورمزید طلب عہدہ مقام،پیسہ، گاڑی،اسٹیٹس کہ نہیں نہیں مجھے تو ابھی اوربہت کچھ کمانا ہے!فلاں جگہ اچھی ہے فلاں جگہ کا وزٹ صحیح رہے گا،مگر ارے یہ کیا۔ اب تو میں پچاس کا ہو گیا! پیچھے بچوں کے مسائل، خرچے چلو باہرجا کر کماتے ہیں اور پھر بزنس، ادھر شرائط کہ دوری ہے کوئی مجبوری نہیں چلےگا۔ واپس جائیں گے تھوڑا اور کمالوں، بچوں کو بھی باہر ہی بلالونگا، تقابل، تفاخر، ارے یہ کیا اتنی کمزوری نظریں کمزور اور میری ٹانگوں کوکیا ہوا؟ اوہ۔ ہیپی برتھ ڈے بیٹا! میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو؟ کینیڈا جانےوالاہوں ہائراسٹیڈی کیلئےاوکے بیٹاضرور اچھا اللہ کامیاب کرے اور بیٹیاں اپنے گھروں میں بیاہ چکیں، ایک میلبرن پڑھنے گئی ہے۔ میں آئندہ برس آؤنگا اور مما کہاں ہیں؟وہ تومالی سے نئے پودے لگوارہی ہیں۔اوکے گڈ لک بیٹا! اب گھر پہنچا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں۔
ہاتھوں سے قیمتی وقت پل میں گزر گیا
جب غور سے دیکھا تو منظر بدل گیا!
جاؤنگا ڈھونڈو تو نہ پاؤ گے۔ اپنا تو اسٹیشن آنکلا۔ سامان تو لیں، ارے وہ تو نہیں ملا، اب وہ وقت آنے والا نظر آ رہا ہے نا، اس لئے تو توبہ کر رہے ہیں۔ اللہ کریم ہے ضرور قبول کرے گا انشاء اللہ۔ گڈلگ ڈیڈ، مام گڈ لک، گڈ لک بیٹا، اب تو فرصت ہی فرصت ہے مگر نظر، نہ بیٹھنے کو جی چاہے نہ کھانے کو، یادداشت بھی کم ہو گئی، ہر چیز زیادہ ہے، وقت کم!!!
کس کس کو روئیے کس کس کو جانئے۔
آرام بڑی چیز ہے منہ ڈھک کے سوئیے۔
کسی قبرستان میں جاکر فاتحہ کے بعد قبرکے کسی مردے سے پوچھا کہ آرام سے سورہے ہو؟ جواب آیاسو تو آپ رہے ہو، ہم تو اب جاگے ہیں۔ استغفراللہ سب کہاں گئے؟؟ گھر خالی، اب بجاؤ تا لی، چاروں طرف ہریالی! پرندے، کمرے، نوکر چاکر مگر اپنے ہوئے پرائے، ہر ایک نے اپنی جنگل میں منگل سجا لیا ہے۔ مگر کیا اب بھی سیٹ نہیں؟ نہیں اب تو طبیعت بوجھل ہے، کبھی باپ بیمار، کبھی ماں، بچے من کے سچے باہر خدمت سے بالکل غافل نہیں کیوں؟ پوچھ لیتے ہیں! اسپیشل وارڈ میں ہیں نا، کیئر ٹیکر اچھا رکھنا، صحیح طریقے کا، میں ڈاکٹر سے سے بات کرونگا؟ کانٹیکٹ میں ہوں، گھر میں آرڈرلی ٹھیک کام کر رہا ہے نا؟مما آپ ایک رات والی نرس رکھ لیں، نرس ضرور رکھ لینا خیال رکھے گی! کتنے اچھے بچے ہیں!! کیسا خیال رکھ رہے ہیں؟ جہاں سے تمام ملازمین کو ہا تھ میں لیا ہوا ہے تو پھرفکر کس بات کی؟ سب چل رہا ہے۔ مگر اب میرا تو دل جل رہا ہے کہ اتنا مہنگا علاج، آغا خان نہیں نہیں کوئی بات نہیں پیسہ ہے نا!کس کام آئے گا اس لئے تو کمایا تھا فکر بالکل نہ کریں ہم یہاں سے ڈاکٹر سے رابطے میں ہیں دُور ضرور ہیں مگر آپ کے ہاتھ میں ہیں، آپ کے ساتھ ہیں۔ جی ہاں تھینک یو موبائل! تھینک یو آئی فون! مجھے پہچانو میں کون؟ میں گیا وقت ہوں! لہٰذاآج کے ابھی کے وقت کو پہچا نو قدر کرو اوربھر پور مؤثر اسکا استعمال کریں تاکہ تاریخ بھی اچھی ہوتی جائے اور انجام بھی کیونکہ ہر گزرتا لمحہ تاریخ رقم کر رہا ہے۔ کوئی کرے نہ کرے خود رقم ہو رہی ہے اور قیامت کے دن ہماری گردنوں میں تختی کی شکل میں یہ کتاب اعمالِ زندگی پہنائی جائےگی۔
اللہ ہمیں خوابِ غفلت سےجگا دے اور ہماری زندگی کےمقصد کو بجالانےکی سعادت نصیب فرمادے کہ یہی خوش نصیبی مجھےمطلوب ہےآہ! واقعی سورۃ الانبیاء کیسے شروع میں ہی تنبیہ کر رہی ہے کہ قریب آگیا لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ غفلت میں منہ پھیر رہےہیں!! میں نے کیا کیا؟ اور میرے اللہ مجھے بخش دے میں تو دنیا میں میں ہی گھِر گیا کھو گیا۔ آخرت کو موت کو یاد بھی نہ رکھا! کیسی کیسی خبریں موتوں کی مجھے سُننے کو ملتی رہیں۔ اچانک موتیں۔ ایک محترمہ کہنے لگیں کہ انکے رشتہ دار گھر میں ایل سی ڈی پر فلم دیکھ رہے تھے پورا گھر فلم دیکھ رہا تھا اس میں دادا بھی شامل تھےجب فلم ختم ہوئی سب سمجھے دادا سو گئے ہیں!! بستر پر جانے کیلئے جگایا تو معلوم ہوا کہ وہ تو ابدی نیند سوچکے ہیں۔اللہ اکبر! اسی طرح ایک محترمہ نے بتایا کہ انکے بھائی آفس سے جلد گھر آگئے کہ جی گھبرا رہا ہے گھرمیں بھابی نہیں تھیں۔ بھابی کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تو مارکیٹ میں ہیں۔ کہا میں ابھی آتی ہوں ذرا سی دیرمیں مزید طبیعت گھبرائی اور وہ صاحب اپنے پڑوسی دوست کے ہمراہ ڈاکٹر کیلئے نکلے مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ بھابی پہلے ہسپتال پہنچی اور پیچھے بھائی کی باڈی! یہ ہے زندگی کاا نجام! میرے پرانے محلےکی پڑوسی خوبصورت کشمیری خاتون! اپنی ایک دوست کے ہمراہ گھر سے لگی باغیچے کی دیوار کے گیٹ سے شادی میں شرکت کیلئے داخل ہوئیں اور لڑکھڑا کر گر گئیں وہ سمجھی کہ ٹھوکر لگی ہے مگر وہاں ٹھوکر لگنے کی کوئی چیز نہ تھی۔ بس گریں اور چل بسیں۔ وہیں سے اندر اپنے ہی گھر میں واپس لیا اور شادی کی تقریب جاری مگرکیسا تاثر!نا قابلِ یقین گھروالے ششد ر!ایک دم یہ کیسے؟بس یہی اللہ کی شان ہے اور ہماری غفلت جسے ہم بھولےہوئے ہیں۔
موت ہمارے تعاقب میں ہے، نہیں معلوم ہمارا کونسا کھانا آخری ہو؟ کون سی نماز آخری ہو؟ مگر اگر ہم اپنے انجام کو اپنی آخرت کو فوکس رکھیں ہر دم ہر لمحہ باخبر رہیں، دنیا کے جھمیلوں میں بھی تذکیر، استغفار اور رب چاہی میں لگے رہیں اپنی موت کی اپنے انجام کی فکر رکھیں توہمارے اعمال خود بخود سدھر جائیں اور ایک اطمینان قلب بھی نصیب ہوتارہے۔
ایک لمحے کیلئے سوچیں ہماری حرکات، ہمارے اعمال اگر کسی بھی لمحے ہمیں موت آجائے تو ہم کس کام میں کس حرکت میں ہوں؟ خواہش تو ہماری ہی ہوتی ہے نا کہ اسلام کی زندگی اور ایمان کی موت نصیب ہو! تو پھر ساتھیوں کیا خیال ہے ہمارا عمل اس کے مطابق نہیں ہونا چاہیے؟





































