
لطیف النساء
واقعی اللہ کی طاقت سبحان اللہ،اللہ اکبر کوئی سوچ نہیں سکتا! لمحوں میں کیا سےکیا ہو جاتا ہے کیسا ہے قدرت کا
توازن؟ بس یہی توازن کا نام لگتا ہے زندگی ہے!لیکن ہم پڑھ لکھ کر سوچ سمجھ کر بھی بھول جاتے ہیں بھٹک جاتے ہیں جانتے بوجھتے وہ کچھ کر جاتے ہیں کہ بس! ہمارے شکوے شکایات ہی ختم نہیں ہوتیں۔
قدرتی آفات سے پوری دنیا کہیں نہ کہیں متاثر ہوتی نظر آتی ہے مگر ہم وہی حسین دنیا کی لذتوں یا پھر خود غرضیوں میں یوں ملوث ہوتے ہیں کہ اگلے کی فکر ہی نہیں لگتی مطلب دوسرے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ قدرت مہربان ہر موقع مناسبت سے موسم اجناس، پھل سبزی فروٹ ہمیں برابر نوازتی رہتی ہے۔ وسائل بھی بے پناہ دیتی ہے لیکن ہم خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں حق مار کر، بے ایمانی کر کے، لوٹ مار سے تو کہیں بے حیائی اور فحاشی سے اپنے اوپر شیطان نہیں بلکہ شیطانوں کو طاری کیا ہوا ہوتا ہے۔ پھر وہ بھی اتنا سر چڑھا کہ کسی کی بھلی بات، خیر کا جملہ، نصیحت وصیت اس پر بے اثر ہو جاتی ہے۔
ظلم زیادہ عرصہ ظلم نہیں چلتا؟ یہ قدرت کا قانون ہے ظالم زیادہ عر صہ بچ نہیں سکتا دراز ر سی کو وہ تو کھلی چھوٹ اور نعام سمجھتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے عزت، شہرت، دولت، عیاشی، فنکاری بس ایک حد تک ہی کامیاب رہ سکتی ہے حد سے حد سے گزرا کہ سمجھو زوال شروع:
صبر، صفر،غلط خبر یہ جان لے بشر
مصیبتیں ہیں اپنے ہی گناہوں کا اثر
ہم تو اپنےکرتوتوں کا کبھی جائزہ ہی نہیں لیتے!اورنہ ہی غلطی کا احساس کرتےہیں نہ نادم ہوتے ہیں بلکہ قیامت کی نشانی کہ غلطیوں پراکڑتے ہیں تو پھر قدرت کا کوڑا!!! اللہ معاف کرے ہمیں ہمارے گناہوں کو، مسلمان ہونے کے باوجود ہمارے اندر وہ تمام غیر مسلموں والی وبائیں لگی ہیں۔ صبح کا اٹھناہی بھاری ہے، فطرت کے خلاف چل کر بھی شرمندہ نہیں، جن کاموں کو رب نے کرنے سے روکا ہے وہی ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں اور نہ کرنے والے کوبے وقوف اور جاہل سمجھتے ہیں۔
انسان کے حالات ساری عمر ایک جیسے نہیں ہوتےہرگزرنےوالے لمحےکاشکراداکریں جو آپ سکھ اور چین سے بسر کر رہے ہیں۔ ہمیشہ اپنے سےنیچے والوں کو دیکھیں پر کھیں اور اللہ کی دین اوروسائل پر شکر گزارر ہیں۔ آج کل مجھے محسوس ہوا کہ ہر بندہ شکوہ شکایت میں ہی لگا ہوا تھا، مہنگائی مہنگائی،یہ، وہ، شکر کا کہیں نام نہیں، حالانکہ بے ایمانوں نے ہی نہیں، اپنوں نے ہی اپنوں کو لوٹنے کا بازار گرم کررکھا تھا۔ سانپ بچھوؤں کے زہریلے خطرناک بلوں سے زیادہ بجلی، پانی، تعلیم، گیس اور میڈیکل کے بل آرہے تھے۔بارشیں رحمتیں ہیں اور ہوتی ہیں اگر شکرگزاری سے اسکو قابل استعمال بنایا جائے پہلے سے دعاؤں کے ساتھ منصوبہ بندی کی جائے ہر فرد اس کیلئے اپنا سا کام کرے، کچرا کونڈی نہ بنائے۔ایمان داری سے تعمیری کام کرے، دو نمبر کاکام کرکے اپنے آپ کو مجرم بنا نا خودکشی کےمترادف ہے ڈبل سزا اور ہمیشہ کی سزا! دنیا بھی تباہ، آخرت بھی تباہ! اپنی سستی کاہلی، لا پروائی سے اور ڈنڈی مارکام سے ایک دوسرے پر الزام لگا کر ہم کبھی نہیں سدھر سکتے۔کیسے یہ بارشیں رحمت کی جگہ زحمت بن گئیں۔
وقت پر جب صحیح کام نہ ہوگا تیری میری لگی رہےگی تو پھر گُھن کے ساتھ جو بھی پِس جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو خود فرمایا ہے کہ تمہار ا دستور خدمت ہے،منشور خدمت ہے۔ مگرہم کیا کر رہے ہیں؟ کیاکررہے تھے؟ چار مہینے بعد جب میں پاکستان آئی تو وضو کرتے ہی شکر ادا کیا کہ ہمارا پانی جوبر سوں کی محنتوں اور خرچوں کے بعد انتہائی کھارا تھا میٹھا ہو گیا سبحان اللہ اور ہرنل سےآرہا ہے جو ہم پھونک پھونک کر استعمال کرتے تھے۔ شکر الحمد للہ رحمت برسات بارشوں نے کنویں بھر دیئے، زمین سوکھی مری ہوئی کو جلا بخشی مگر انتظامیہ کی غیر منظم حرکتوں سے کئی حادثات رونما ہوئے۔ بے شک سیلاب قدرتی آفات ہیں ۔اللہ ہمیں اس سے بچائے جو نقصان ہو چکااس کی تلافی اللہ پاک اپنے کرم سے کرے۔ لوگوں کو نیک ہدایات دے کہ وہ راہ خدا میں اپنے ان متاثرہ لوگوں کیلئے دل وجان سے ایسے مدد کریں جیسےانصار نے کی تھی۔ کسی کی انامتاثر نہ ہو، کسی کادل نہ دکھے،ہر کسی کی دل جوئی ہو، کوئی دِکھا وا نہ ہو، صرف اور صرف رضائے الٰہی کیلئے کام کریں امداد دیں۔ جو ان کا حق اور ہم سب کا فرض ہے۔ چاہے ہمیں بھی آدھا پیٹ کھانا پڑے۔ کسی کی خودداری کبھی متاثر نہ ہو۔ کتنے عظیم لوگ ہوتے ہیں کتنے ہی خوددار لوگ ہوتے ہیں اللہ ہی جانتا ہے واقعی:
خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا
راشن تو بٹ رہا تھا وہ فوٹو سے ڈر گیا
فوٹو بنانے، ویڈیو زبنانے اور پھیلانے سے کہیں زیادہ اہم اچھی سچی نیک نیتوں سے کرنے والے کام ہیں۔ اجر تو اللہ ہی دے گا۔ بے غرض اور بے لوث ہوکر اپنا کام خدمت خلق مخلوق خدا کی بھلائی کرتے جائیں۔ وہ رب بڑا کریم ہے رحمت کے بادل سدا آپ پر برساتا رہے گا بس اپنے مشن سے اپنی زندگی کے مقصد سے کبھی غافل نہ ہوں اور احساسِ بندگی اور دردمندی سے وفا شعاری کرتے رہو۔ دعا ئیں کریں، استغفار کریں اور سب کے حق میں رحمت کی دعائیں کریں کہ رب راضی تو سمجھو سب راضی۔
آخر مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اپنی زبان اور ہاتھ سےدوسرے کو محفوظ رکھنے کا حکم ہے اور ہم کیا کر رہے تھے؟ کیا اموات ہی ہمیں سدھاریں گی۔ کیسے کیسے مناظر قدرت نے دکھائے؟ کیچڑ سے نومولود زندہ سلامت تو گھنٹوں دبی بند گاڑی سے پیک فیملی کے پانچوں زندہ افراد معجزاتی مظاہرے نہیں؟ کیا اب بھی ہمیں اللہ کی قدرت بڑائی کبریائی پر شک ہے؟ نہیں ہر گز نہیں اے رب جلیل ہمیں بخش دے ہماری کمیوں کوتاہوں کو بخش دے اسی اسلامی ملک کے ہرفرد کو دین کا صحیح شعور اور مقصد حیات سمجھا دے، ہم پر ایسے حکمران مسلط فرما جو تجھ سے ڈرتے ہوں اور ہم پر رحم کرنے والے ہوں، یا اللہ ہمارے ایمان میں صحت میں قابلیت میں رو زی روزگار میں برکت عطافرما اورہمیں اپنے سوا یعنی تیری ذات کے سوا کسی کا کبھی بھی محتاج نہ بنا مالک یقینا ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ ہمیں عبرت کی نگاہ دے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں محمد کی جان ہے!مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے جو پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ چیز نکالتی ہے۔ وہ جہاں بیٹھتی ہے نہ تو کسی چیز کو توڑتی ہے اور نہ اسے خراب کرتی ہے۔ سبحان اللہ اس کے تناظر میں اپنے اعمال دیکھیں، کیسی کیسی ناجائز تجاوزات، درختوں کے نام پر روڈوں پر قبضے۔ درخت کے بہانے اس کے سائے تک کی جگہوں کو گھیر گھاٹ کر عوام کے راستوں کو ٹریفک اور پیدل چلنے والوں تک کو تنگ کر دیاہوا ہے۔ صرف تخریب ہی تخریب ہےکوئی تعمیری کام کرنےکو گناہ سمجھتا ہے اور اگر کوئی بندہئ خدا پارک وغیرہ بنا دے تو بجائے اسک ی حفاظت کرنے کے اس کی گرلیں، جالیاں دروازے یہاں تک کے پھل پھول درخت تک توڑ پھوڑ کر اس کو کچرا کونڈی بلکہ آسیب زدہ بنا دیتے ہیں۔ اس طرح صدقہ جاریہ کو بھی گناہ جاریہ بنانے میں کسرنہیں اُٹھا تے۔ پھر بھی میرارب رحم کیے جارہا ہے ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ، مہنگائی برسات گرمی سردی، کی شکل میں یا کوئی بیماری کی شکل میں آزمائش دے رہا ہے کیونکہ یہ تو امتحان گاہ ہی ہے نتیجہ تو اس کے ہاتھ سے اختیار ہمارا ہے عمل ہمارا ہے یہ کیسا ہونا چاہئے فیصلہ ہمارا ہے؟ تمھارا ضمیر تمہارا گواہ ہوگا۔ عزت غیرت حمیت بے معنی نہیں، اسی لیے بٹتے راشن کی پرواہ نہ کی اور فوٹو سے ڈر گیا۔ بتا ئیں وہ کیا کر گیا؟





































