
لطیف النساء
برداشت ایک زبردست ایمانی قوت کانام ہےاورجس نےیہ قوت پالی کبھی ناکام نہیں رہا کیونکہ وہ جان چکاہوتا ہے کہ"صلح بہرحال بہترہے" گھر جو ایک
خاندان کی بنیادی اکائی ہے،اس میں بھی اگر کسی عورت کواپنے شوہر سے بد سلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہوتو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں کیو نکہ صلح بہر حال بہترہے کیونکہ نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں۔
سورہ النسا ء کی یہ تعلیم مستحکم خاندان کو اتحاد کی بنیاد فراہم کرتےہیں۔ انسان تو نراجھگڑالو اورجلد باز ہے۔ جلدی نفس کی تنگی کا شکارہو کر نہ صرف خود کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی لے ڈوبتا ہے۔ یہ کیفیت صرف گھر تک ہی نہیں محدود ہرجگہ ہرمعاملے میں صادق آتی ہے چاہے بہن بھائی ہوں، باپ بیٹا ہوں، بھائی بھائی ہوں یا دوست ہوں یا سیاسی حریف یا کھلاڑی ہی کیوں نہ ہوں ہر جگہ نفس پر قابو رکھنا، اعتدال کا رویہ رکھناہی در اصل اخلاق ہے اور انسانیت اسی کا نام ہے۔
ہار جیت مخالفت کا ہی نتیجہ ہوتا ہےجو ہا رنہ تسلیم کرے وہ تو پھربے ایمان ٹھہرا اور جو جیت پراکڑا تووہ بھی گِری ہوئی حرکت کر گیا کیونکہ تکبر تمام ہی برائیوں کی جڑ ہے۔ مقابلہ چاہے کسی بھی میدان میں ہو ایک طرح کی اہلیت کا حامل ہوتا ہےجو دونوں مقابل گروہوں یا افراد میں پائی جاتی ہے۔ ہر میدان میں ہر جگہ جاری رہتی ہے۔
لوگ اچھائیوں کو اپناتے اور برائیوں سے جان چھڑاتے ہیں،کہیں سےکہیں پہنچ جاتےہیں۔ایک دوسرے کےاچھے اعمال جو تقویت دیتے ہیں برے اعمال یا حرکات انکا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ کلاس میں بھی اچھے تیز بچوں سے ہی دوسرے بچے بہت کچھ مقابلے کی خاطر سیکھ جاتے ہیں اور اتنا متاثر ہوتے ہیں کہ اکثرآگے بلکہ بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
بیٹیاں اکثر ماؤں سے زیادہ سلیقہ شعارپھر تیلی اور زیادہ سوشل نکلتی ہیں۔ اس طرح معمولی معمولی افراد کے بیٹے انتہائی مہذب، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے عہدوں پر پائے جاتے ہیں۔ ماں باپ، اساتذہ ان سے جلتے نہیں بلکہ خوش ہوتے ہیں اور مزید دعائیں دیتے ہیں اگر وہ کردار کے مضبوط ہوں اورکھلے دل کے ہوں تو پورے معاشرے کے ہر دل عزیز بن جاتے ہیں۔ سیاسی حریفوں کو بھی ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہونا چاہئے کیونکہ اپنی ہی کمزوریاں خامیاں اجا گرہوں گی توہی درستی کا اہم مرحلہ سامنے آئے گا اور خامیاں دور ہوجائیں گی۔ اسی حد تک معاملات ہوں تو گھر،خاندان، محلہ، شہر،ملک کے حالات پر امن اور پر سکون ہوں گے ورنہ فساد پھر فساد ہے سمجھو کہ وہ اللہ کے عذاب کی تیاری ہے۔
چند دن پہلے پاکستان اور افغانستان کا میچ آرہا تھا۔ اتفاقاً مجھے آخرکےچند منٹ دیکھنے کا موقع مل گیا کہ صرف گیارہ رن ہیں اورایک طرف چھ بالیں جبکہ نو وکٹیں گرچکی ہیں سوچیں کتنی بہترین ٹیم تھی کہ نو وکٹیں لے چکی تھی ٹکرکا مقابلہ تھا۔ اہلیت کی قطعی کمی نہ تھی، ہر بندہ چاک و چوبند اپنی پوری تیاری کے ساتھ تھا۔ ہار جیت بھی کوئی میری اپنی مرضی نہیں کیونکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں کسی چیز کا اختیار ہی نہیں رکھتا بس اپنی محنت اور کوشش اور اللہ سے دعا کا قائل ہوں شکر اللہ کا کہ 2چھکے لگ گئے اور سنسنی خیز مقابلہ جیت میں بدل گیا! ورنہ وہی ایک کیچ آپ کو ناکامی میں بدل دیتا تو جب بھی کبھی فتح نصیب ہو تو کیا کرنا چاہئے؟سجدہ شکر اور تسبیح! مگرہم نے کیاکیا؟ افغانی ہمارے عزیز پڑوسی بھائی اور خوش قسمتی سے اتنے ٹکر کے مقابل ٹیم کے کھلاڑی تھے ہمیں تو ان کی محنت سے بھی مرعوب ہونا تھا۔
قابل تعریف وہ بھی تھے انہیں گلےلگا کر کہنا چاہئے تھا کہ واہ! آپ لوگوں نے بڑا ہی شاندار میچ کھیلا مزہ آگیا! آپ کسی سے کم نہیں ہم تو ہارتے ہارتے بچ گئے۔ ان کی ٹیم کے چند معصوم کھلاڑی تو جذبات پر قابو نہ پا کر رو رہے تھے جبکہ ہماری ٹیم اترارہی تھی خوشیوں میں بھی ہروقت حالات کے لحاظ سے ایک اعتدال ایک تحمل مزاجی اورایک مؤدبانہ انداز، عاجزی اور شکرگزاری زیب دیتی ہے۔ چہرے کے بگاڑبد افعال بری زبان اور برے رویے مزید آگ لگاتے ہیں۔ ان کی ٹیم کے بھی چند لوگوں کو شیطان نےآلیا ور نہ وہ بھی مسلمان سب سمجھتے ہیں مگر وقت پر جب صبر برداشت نہ رکھ سکیں تو سمجھو میچ تو کیا ہم خود اپنی ذات میں ہار گئے جو پوری ٹیم بلکہ پوری دنیا کے تماشا ئیوں کیلئے دکھ کی بات ہے۔
ظاہر ہے ہر میچ ہار جیت پر ہی ختم ہوگامگراس کو تسلیم کرنااور بڑی کامیابی اور باعث ِ فخراورعزت کی بات ہے ورنہ بدتمیزی اور بد تہذیبی انسانیت کو زیب نہیں دیتی اور نہ ہی دینی چاہئے۔ مجھے ایک ابنارمل بچوں کا جنہیں ہم "اسپیشل بچے "کہتے ہیں انکا "مقابلہ دوڑ کا"یا د آگیا۔ پندرہ بیس میٹر کی ریس تھی اور گیارہ اسپیشل لڑکے تھے چھ سے دس سال تک کے جب مقابلہ شروع ہواتو سب بچے ذرا تیز، کچھ ہلکے بھاگنے لگے اگر چہ بڑی محنت سے تیاری کروائی گئی تھی۔ جب ریس جاری تھی تو ایک آٹھ سالہ بچہ گر گیا آگے تین بچے تھے وہ وہیں رک گئے اس بچے کی آواز سنی اُس سے اگلے بچے بھی رونے کی آواز پر رک گئے ان تینوں میں سے دو بچے واپس آئے اس گرے ہوئے بچے کو اٹھایا مٹی جھاڑی اور ساتھ لیکر دوڑنے لگے اور پھر سب دوڑنے لگے۔شائقین اس منظر کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے آبدیدہ اور خوب تالیاں بجائیں کہ سب ہی بچے جیت گئے!!! اگر چہ وہ اسپیشل بچے تھے مگر دکھ سمجھتے تھے اور ہم؟؟؟ کوئی غلطی ہو جائے تواسے تسلیم کر لینا ہی ہماری جیت ہے۔ زندگی کی جیت انسانیت کی جیت اور ہمارا دین توہمیں ہمہ وقت انسانیت کی تعلیم دیتا ہے۔ دین تو سراسر اخلاق ہےتواگر ان کی ٹیم سے چند بچوں نے یا چند افغانی لڑکوں نے کچھ غلط کیا، برا کہا تو کوئی بات نہیں برائی کا جواب برائی کبھی نہیں دینی چاہئے۔ صبر! بلکہ انکا جھنڈا بلند جگہوں پرلہرائیں ان سے اچھا برتاؤ کریں وہ ہمارے مسلمان بھائی اور پڑوسی ہیں ہمیں اپنی اوقات میں رہنا چاہئے۔
برائی کو بھلائی سے دور کریں اور فساد نہ ہونے دیں کہ یہی جیت ہے۔ چنگاری سےچنگاری جنم لیتی ہے اورآگ سب کیلئےخطرناک ہوتی ہے۔ کیونکہ تعریف ساری اللہ ہی کیلئے ہےاور عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو وہ شعور عطافرمائے کہ اپنی زبان، ہاتھ، روئیے اور اعمال سے کبھی بھی کسی کو نقصان نہ ہو کیونکہ اچھے مسلمان کی شان اور تعریف ہی یہ ہے کہ جو دوسروں کیلئے خیرہی خیر ہو۔
الحمد للہ ہم مشکل وقت میں جب اتنا اللہ کی مہربانی سےتعاون کرتے ہیں اور ایک دوسرے پرجان تک نثارکرنےکوتیار ہوتے ہیں تو پھر کیوں اپنے اوپر شیطان کو طاری کریں اور برائی کو راہ دیں۔تھوڑا غم ہوتا ہے دُکھ ہوتا ہے ایسے روئیے اور حالات دیکھ کر مگر ہمارارویئہ کیا ہونا چاہئے؟ وہی دعا کہ میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔
یقین جانیے کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے لہٰذایہ دعا یہ چاہ میرے روئیے سے بھی ثابت ہو۔ کھیل میں ہار جیت کا ہونا لازمی ہے اور کا میاب وہی ہوا،جس نے نیک نیتی اورمحض کھیل کی خاطر مقابلہ کیا اور انسانیت سے نہیں گرا۔ہم سب کوہی اپنا احتساب کرنا چاہیے اور جائزہ لینا چاہئے کہ ہم سے کوتا ہیاں نہ ہوں جن کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہو اور جس سے کسی کا کوئی نقصان نہ ہو۔ کیوں کیا خیال ہے؟





































