
لطیف النساء
نیند بھی کیا چیز ہےسارے دن تھکاوٹ کے بعد چند گھنٹوں کی پُرسکون نیند انسان کو دوبارہ چارج کر دیتی ہے۔ ہر بندے کو بلکہ ہر ذی روح کو نیند کی
حاجت ہوتی ہے، چاہےوہ چاہےیا نہ چاہے۔ مگریہ فطری عمل ہے کہتےہیں نا کہ نیند تو سولی پربھی آجاتی ہےاگرچہ موت کا پھندا لگنے کی تیاری ہےمگر نہیں پتا اسی سوچ میں بھی ایک نیند کا جھونکا آجاتا ہے۔
بندہ نماز پڑھ کر سوچتا ہے اتنا پڑھے گا یہ تسبیح کرے گا مگر نہ جانےکب آنکھ لگ جاتی ہےیہ توواقعی موت کی جڑواں بہن ہےلیکن کیاعجیب بات ہے۔ تھوڑی سی نیند بھی آپ کو اتنا چاک و چوبند کر دیتی ہے کہ آپ بڑے سے بڑے کام کیلئے تیا رہو جاتے ہیں۔ کتنا عظیم ہے وہ رب کائنات جس نے نیند اور اسکے اوقات مقرر کر کے زندگی کو چار چاند لگا دئیے ورنہ یہ دنیا اور اس کے جھمیلے،خوشیاں، مسائل، پریشانیاں،بیماریاں اُسے سونے تک کا موقع نہ دیں۔
کتنا مہر بان ہے وہ رب جو ہمیں اتنا پر سکون ماحول بنا کردیتا ہےکہ خود بخود انسان حیوان چرندپرند خود نیند کے چکرٓمیں آجاتے ہیں اور اپنے ہی گھروں میں، گھر نہیں بھی ہو تو بھی دھرتی ماں کے سینے یعنی اس سر زمین پر بھی آرام سے سو جاتے ہیں۔کتنا رب نے اہتمام کیا ہوتا ہے!اپنی مخلوق کو راحت اور سکون کی نیند سلانے کا کہ
مجھے تو چاندسلا تا ہے لوریاں دیکر
میرا نصیب ہے سورج جگانے آتا ہے
کہتے ہیں سب سے پہلےچوکنا ہونے والی بیدارہونےوالی چیز"کان" ہیں کسی بھی آواز پر وہ نیند کو بیدار کر دیتے ہیں مگر چاہے کوئی آواز نہ بھی آئے تو ایک سورج کی روشنی ہے جو ہمیں بیدار کر کے اعلانِ صبح ہی نہیں،ایک نئی زندگی کی نوید سناتی ہے یہ سورج جو کہ تمام تر توانائیوں کا خزانہ ہے۔ ہمارے لئے کتنا اہم ہے اللہ کی یہ مخلوق کبھی اپنے کام سے غافل نہیں،یہ تو کیا ہوا، پانی، چاند،ستارے ہر مخلوق اپنے رب کی تسبیح بیان کرتی ہے اس کے حکم کی تابع ہے۔ اسکا اپنا اختیار نہیں۔ رب کے حکم پر ہی وہ اپنا اپنا کام کرتی ہیں۔ یہ سب مظاہرِ فطرت انسانی فطرت کیلئے بڑا چیلنج اورآ گاہی بھی ہے۔ رب نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا۔ فرشتوں سے سجدہ کروایا۔ اچھے برے کااختیار دیا۔ نیکی بدی کی پہچان دی، شعور دیا، پھر دنیا میں بھیجا الحمد للہ اس کے بعد بھی انسان کو بھٹکنے کیلئے چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کی ہدایت اور راہنمائی کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔
الہامی کتابیں اورر سول بھیجے اور آخر کار رحمت العالمین حضرت محمد مصطفی ﷺکےذریعے عملی نمونہ دِکھایا اور قرآن جیسا ضابطہ حیات رہتی دنیا تک کی راہنمائی کیلئے بھیجا۔ آپؐ نے مدینہ کی ریاست قائم کرکے ہمیں دین کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کی شریعت عطاکی اور اپنی اُمت میں ہمارا شمار کیاجتنا شکر ادا کریں تو کم ہے مگر پھر بھی اے انسان اے بندہئ خدا اپنی فطرت دیکھ!!!اپنے اوپر غور کر، یہ ہاتھ، یہ پاؤں،یہ زبان،یہ کان، یہ قامت ِراست، سب کچھ لاکھوں کروڑوں سے بھی زیادہ قیمتی عظیم تر نعمتیں ہیں جنکا تجھے شعور بھی ہے؟ ایک ایک سانس ایک دھڑکن کے بدلے لاکھوں خرچ بھی کر ڈالو توان مفت ملی ہوئی چیزوں کا بدل ہونہیں سکتا تو ہر ہر چیز ہر عضو کا محتاج ہے پھر بھی تیری اکٹر تیرا غرور!! اے انسان کس چیز نے تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ کیوں فطرت کو بدلتا ہے رات کودن اور دن کو رات بنائے ہوئے ہے تیرا صبح جاگنا، اذان کا اعلان کہ آؤ بھلائی کی طرف، آؤ نماز کی طرف اور پھر تیری لا پرواہی دکھا نا، پلٹ کر سو جانا، دن چڑھے اٹھنا، زوال کے بعد رزق کیلئے نکلنا، دکانیں کھولنا کیا تجھے زیب دیتا ہے؟ زوال پھر زوال ہےاس کا کیا سوال ہے جب قدرت نے للکارا تمھیں نہ ہوش آیا۔
میری پو ری بلڈنگ میں صرف ایک بزرگ مگرماشاء اللہ پھرتیلے فجرکی اذان پرنمازکو جاتےہیں۔ سڑک پراِکا دُکا بندے جاتے یا آتےمسجد سے دِکھائی دیتے ہیں وہی رازق ہے کیا اس کی نہ مانو گے جبکہ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی سڑکوں پر ہجوم ٹریفک اور جمِ غفیر کہ سڑک پار کرنابھی نا ممکن ہو جائے۔ آفس، اسکول، کالج یونیورسٹیز، ہسپتال مزدور سبھی کارش لگ جاتا ہے۔ان میں معمر حضرات اور چند خواتین جنہیں ڈاکٹر نے صحت کے حوالے سے چلنے کا مشورہ دیا ہوتاہے کہیں واک کیلئے جانا تک ناگزیر سمجھتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ ر ازق کیلئے کتنے تھے؟ اور اب رزق کی خاطر کیسے نکلے ہیں؟کتنی پُھرتی ہے کہ لیٹ نہ ہو جائیں! لیٹ تو ہو گئے صاحب! لیکن ابھی بھی وقت ہے سنبھلنےکا، بدلنے کا، سدھرنے کا، سوچنا ہوگا ایک بوڑھے شخص کے چند اشعار یاد آگئے کیا کمال کی بات کی! زندگی کا تجربہ شاید ہم سب کا تجزیہ ثابت ہو کہتے ہیں
کون پرسانِ حال ہے میرا؟
زندہ رہنا کمال ہے میرا!
میرے اعصاب دے رہے ہیں جواب
حوصلہ کب نڈھال ہے میرا؟
چڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھے
بس یہیں سے زوال ہے میرا!
سب کی نظریں میری نگاہ میں ہیں
کس کو کتنا خیال ہے میرا؟
جب ایک معمر بندہ یہ تجزیہ کر سکتا ہے تو بتائیے وہ رب کریم ذات کیاہمیں نہیں جانچ رہی؟ کیا ہمارا ضمیر نہیں ہمارا احتساب کر رہا ہے؟ یہ سورج روشنی ہی نہیں دے رہا یہ تو ہماری اور آپکی فلمیں بھی تیار کر رہا ہے۔اس لیے دنیا میں کہیں دن اور کہیں رات کہیں صبح کہیں شام ہے:
چڑھتا ہوا سورج ہمیں دیتا ہے یہ پیغام
دُنیا ہے عجب چیز کبھی صبح کبھی شام
ہماری زندگی کی صبح تو ہو چکی نہیں معلوم کس لمحے زندگی کی شام ہو جائے، اختتام ہو جائے، انتظام ہے؟





































