
لطیف النساء
یہ کچھ زیادہ پرانی بات نہیں شادی بیاہ میں ہی لوگ رشتےڈھونڈ لیاکرتے تھے۔ محض ایک نظر دیکھ کروہ اس طرح کہ کسی کو اندازہ بھی نہ ہو صرف
لڑکا اپنی بہن یا ماں کا کہا مان کرمطلوبہ لڑکی کودیکھ لے۔ دوسری جانب لڑکی والےاس بات پر ہی فدا تھے کہ لڑکا کتنا نیک ہےکہ والدین کو اپنی پسند کا موقع بھی دیا اور پھر راضی بھی ہو گیا کہ والدین ظاہر ہے پہلے سےدیکھ ،سمجھ کر ہی فیصلہ کریں گےاور اپنے لحاظ سے بیٹے کیلئے اچھی بہو کا انتخاب کریں گے۔ان کے اسی اعتماد پرہی لڑکے کی نیکی اور کردار کو نہ صرف سراہا جاتابلکہ اس کی ساری زندگی قدر دانی کی جاتی تو اللہ مہر بان قدردان انہیں نہال کر دیتا۔ اس کے بر عکس جیسے زمانہ آگے بڑھتا گیا کیرئیر کےچکر میں لڑکا اور لڑکی اپنا اپنا کریکٹر تک مشکوک کرتے چلے گئے۔ اگر ہرجگہ ایسا نہیں ہے،مگر پھر بھی بے چارے ماں باپ یوں ہی فارغ کر دیئے گئے۔
رشتہ دار آس لگائے، دوست احباب امیدیں باندھےانتظار میں رہے کہ فلاں کےہاں سے بات آئیگی فلاں رشتہ بھیجے گامگر معلوم ہوا کہ بیٹے نے نیٹ پر ہی نٹ گھٹ بنالی!جی اس کی تو اسکول کی فرینڈ نکلی،موبائل سے معلوم ہوا تو اس کے ساتھ شادی ہے یا پھر دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے یا ایک ہی آفس میں کام کرتے ہیں۔ اس کی پسند تھی چلیں ٹھیک ہےمگر پھر بھی روئیے اور اخلاقیات اتنے تباہ حال ہوتےجارہے ہیں کہ اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔آنے والی لڑکیاں عدم بردا شت کا شکارجو ماں باپ کی نہ مانیں تو کسی اور کی کیا مانے؟ حالانکہ یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں کہہ کرہرجوڑے نے رشتہ توڑنے پر کمر باندھ لی ہو تو کیا کیا جائے؟
کہیں میاں نے پوچھ لیا کہ کتنا کماتی ہوں تو بیوی صاحبہ کہیں اترائیں اورکہیں جتا گئیں توکہیں میاں کو ڈی گریڈ کردیا اور یوں ہمیشہ کیلئے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارلی۔باوجود شوہرکی اچھی نیت خلوص ومحبت کے اس کی نظروں سےایسے گری کہ کبھی نہ سنبھل پائیں نہیں صرف یہی نہیں بات بات پر بڑوں کی بے عزتی کرنا لاپروائی دکھانایاگھر میں دل نہ لگانا انتہائی برا سلوک ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں پر تشدد ہوتا ہے کیونکہ والدین اورساس سسر اوردیگرافر ادبھی بہت گلٹی محسوس کرتے ہیں اوراگر بچے ہوں تو پھر تو سمجھو کہ خود ہم نے اپنے ہاتھوں گھر کا دیا بجھایا والی بات ہوگئی کیونکہ بچے رل گئے اور کبھی وہ پراعتماد نہیں ہوتے تو گویا زیادہ تعلیم بجائے سُدھار کے بگاڑ کا ذریعہ بنی جبکہ تعلیم کا مقصد ہی انسانیت،اخلاق، قربانی اور دوسرے کی بھلائی ہے مطلب وہ دوسرں کیلئے منافع بخش ہوناکہ تکلیف دہ، ایسی تعلیم اورکیریئر تو پورے خاندان کو کیا معاشرے کولے ڈوبتا ہے۔اس میں اگرفیشن اور بے حیائی شامل ہوجائے تو سمجھو مزید تباہی۔
بسا اوقات مرد حضرات بھی اپنے آپ کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں اوراپنی انا کے چکر میں ایک قابل اورنیک صاحب کردار اور اچھے کیریئر والی لڑکی بلا وجہ پستی رہتی ہےمحض اپنے گھر اور بچوں کی خاطر اورلوگوں کو اس کے دکھ دردکا احساس تک نہیں ہوتا یہ بھی ظلم ہے۔ ہمیشہ لڑکیاں ہی مظلوم نہیں ہوتیں آجکل لڑکے بھی سست، لالچی ہیں اورغیرت مند نہیں،اگرچہ ان کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہے،مگر وہ نمک سے بڑھ کر زہر بلکہ زہر قاتل بن کر معاشرے میں بگاڑ کرتے جارہے ہیں کچھ تودوسرے ہی مہینے نوکری چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اوربیوی پر حکمرانی کرتے ہیں کہ یہی مرد انگی ہے؟ جبکہ یہ حیوانگی ہے کیونکہ انہیں دین کا شعور نہیں۔ نہ وہ قوام کے فرائض نبھانےکے لائق، نہ باپ کی ذمہ داریاں اٹھانے کو تیار، ہر وقت تلوار! کیسے نہ ہو کنبہ پریشان! ہرماں ہر باپ یہی چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی کو بہترین زوج ملے۔بے شک چاہے چور کی ماں ہو یہی چاہتی ہے کہ اس کے بیٹے کو نیک اور صالح بہو ملے اور بیٹی کو بھی نیک صالح سہاگ ملےکیونکہ انسان کی سرشت میں نیکی ہے،اس لیے اچھے کام بھاتے ہیں۔
رشتے کے انتخاب میں لوگ ظاہری خوبصورتی،اعلیٰ خاندان، مال ودولت اورلڑکی کی دینداری اور تقویٰ دیکھتےہیں اورظاہر ہے حسنِ سیرت کا پلہ ہمیشہ بھاری ہوتا ہے چاہے لڑکی ہو یا لڑکا کیو نکہ دینداری ہی مقدم ہے کیونکہ دین دار خوف خدا رکھتا ہےاور یہی خوفِ خدا دونوں کیلئے سیدھے راستے پر چلنے کا مضبوط ترین محرک ہوتا ہے۔اس لئے وہ ایک دوسرے کی عزت کرتےہیں اوردنیا کے عارضی فائدے کیلئے یا دنیا کی چکا چوند رونقوں کی وجہ سے اپنی آخرت برباد نہیں کرتے۔
ظاہر ہے سیرت ہی ہے جو ہر قدم پر بندے کو برے کام سے روک کرانسان کو دنیا اورآخرت کی فلاح سے ہمکنار کرتی ہے۔ آج کا ایک بڑا مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ لڑکیاں لکھ پڑھ گئی ہیں اور کسی بھی وجہ سے لڑکے تھوڑا پیچھے رہ گئے ہیں مگر دوسرے ہنرسیکھ کر اپنے والدین بہن بھائیوں کو سہارا دیتے ہیں کیونکہ اس کمر توڑمہنگائی میں جبکہ حکومت نہ ملازمتیں دے رہی ہے نہ ہی مراعات، ایسے میں بھی بے چارے کسی نہ کسی طرح محنت مزدوری کرکے تو کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کرعزت کی روٹی کماتے ہیں۔ کوئی اے سی ٹھیک کرنےوالا ہے تو کوئی فریج، ڈیپ فریز رکا ماہر ہے ۔ کوئی غضب کا الیکٹریشن ہے، تو کوئی میٹرک کے بعد ہی انٹرنیٹ، ایل سی ڈی اور لیپ ٹاپ ڈیل کرتا ہے تو کوئی موبائل مارکیٹ میں موبائل ریپئر کرتا ہے، کا روباری دنیا سے ہزا رہا لوگ منسلک ہیں مگر وہی بس میٹرک یا انٹر پاس، ایسے میں اگر وہ شائستہ ہیں مہذب ہیں اپنی اقدار میں ہیں حلال روزی کما رہے ہیں تو اگر لڑکیاں نصیب سے لکھ پڑھ بھی گئیں۔ ہیں تو اچھا ہے اپنی اولادوں کیلئے بہترین مائیں ثابت ہوں گی اورباپوں کی ادھوری تعلیم کو مشن سمجھ کر زیادہ اچھی طرح فیملی کو سپوٹ کریں۔ تھوڑی بہت اونچ نیچ کیلئے اچھے رشتے چھوڑنا ایک طرح سے خود اپنے آپ پر بھی ظلم ہے اوران لڑکوں کی تشنہ زندگی پر ظلم ہے کیونکہ وہ بھی یہی چاہتے ہوں گے کہ ان کے بچے ان سے اچھے تعلیم یافتہ ہوں اپنی کمی وہ اپنی اولاد میں بذریعہ ماں چاہتے ہوں اور خوشی محسوس کرتے ہوں بلکہ فخر بھی محسوس کرتے ہوں یہ تو خوش نصیبی کی بات ہوگی۔ چند کلاسز کے پڑھ لینے سے تو اور بھی انکساری اور کردار میں عاجزی آنا چاہیے ناکہ اکٹر یا تکبر۔اگر نیت خالص ہو تو سمجھو آپکی ہر جگہ جیت ہی جیت ہے۔
قاسم علی شاہ کے پروگرام میں ایک لڑکی کا سن کرافسوس ہواکہ جب اسی چکر میں طلاق ہو گئی تواس کی سمجھ میں بات آئی وہ رونے لگی تو انہوں نے کہا بی بی جائیں آپ نے تو اپنا کیس جیت لیا تو اس کا جواب تھا کہ کیس تو جیت لیا مگر بنا شوہر بچوں کے میں نے تو زندگی ہاردی تو کیا فائدہ ایسی انا کا،نہ مرد میں ہو نہ عورت میں شادی ایک مقدس رشتہ ہے۔ اچھے رشتے پنپ ہی جب سکتے ہیں جب تک ایک دوسرے کے لئے قربانی نہ دیں، احترام نہ کریں تعاون نہ کریں۔
بے عزتی سے بڑا تشدد نہیں اوربے ایمانی اورمکاری سے بڑا گناہ نہیں۔ چاہے کوئی بھی ہو اچھے رشتےاستوارہی جب ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں ۔ ایک دوسرے کیلئے قوت بنیں ذلت نہ بنیں۔ احترام سے رہیں۔ قدردانی اپنائیں، بچوں کو پیار محبت سے پالیں تھوڑے میں گزارا کرلیں تا کہ آگے اپنی اولاد کیلئے بہترین نمونہ بنیں۔ماڈلز بن کر فنکارانہ زندگی دکھاوا، انا، حسد، جیلسی، یہ سب شیطانی حربے ہیں۔ ان سے دور رہیں انسانیت بڑی چیز ہے۔
دلوں کو نفرتوں سے پاک رکھیں اور ہمیشہ اسلامی ماحول میں رہنے کی کوشش کریں کیونکہ جن کے والدین با عمل مسلمان ہوتے ہیں،ان کو تر جیح دینی چاہیے تاکہ والدین کا عمل، گھر کا ماحول اور تربیت زندگی میں اپنا اثر ضرور دِکھاتی ہے۔یاد رکھیں ہم پہلے مسلمان ہیں ،اس لئے اگر ہم اسلامی تعلیمات کو یاد رکھیں تو یقین جانئے رشتوں کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ زمین، زر، جائیداد ان پر نگاہ نہ رکھیں۔ یہ ہمارے ساتھ قبر میں نہیں آئیں گے صرف ہمارے اچھے اعمال اورکردار ہمارے ساتھ جائے گا۔ مرداکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ان پڑھ سلیقہ شعاراور قبول صورت لڑکی سے ایک تعلیم یافتہ شخص بیاہ کر کے کامیاب زندگی گزار لیتا ہے تو یہ کام ایک تعلیم یافتہ لڑکی بہت ہی اچھی طرح کر سکتی ہے اوراکثر کر بھی رہی ہیں۔اب تو گھر بیٹھے آن لائن جاب بھی ایک نئی دنیا لئےحاضر ہے،لہٰذا ہمیں اچھے رشتوں کو سمجھنا ہوگا اور ذہن بنانا ہو گا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔





































