
لطیف النساء
ہم نے بچپن سے سنا ہوا ہے کہ جو دوسروں کیلئے گڑھا کھودتا ہے۔اس میں خود ہی وہ پہلے گرتا ہے۔ سوچتے تھے یہ کیسے
ممکن ہے؟ آج کل ہمیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی دکاندار کے پاس چلے جائیں آپ کو چند دنوں پرانی قیمت پر کوئی بھی چیز ہر گز نہیں ملے گی۔ کوئی بھی ہو سبزی والا، مرغی والا، دہی، ڈبل روٹی تو کیا معمولی روزمرہ کی چیزیں آٹا، نمک، روٹی تک آپ کو بڑھی ہوئی قیمت میں ملیں گی کہ آپ کا خون کھول جائے گا۔ بچے، نوجوان لڑکے، لڑکیاں، باپ بھائی، مائیں سب پریشان ہیں۔
بِل دیکھ لیں! بنا پانی، بنا گیس اور بجلی کےبل بھی باقاعدگی سے آتے ہیں، یہاں تک کہ خالی گھروں کے بھی ٹھیک ٹھاک بل آتے ہیں یہ کیا اندھیر ہے؟ ہر بندہ من مانی کیے ہوئے ہے اور ہےکوئی قانون یا قانون کا نفاذ کرنے والا کہیں نظر نہیں آتا۔ سفر دیکھ لیں بڑی گورنمنٹ کی بسیں توچل بسی ہیں۔
ویگن منی بسیں، پرائیوٹ خان کو چیز وغیرہ،سواریاں بھیغائب ہوتی جارہی ہیں۔ کہنے کو بڑے بڑے پُل، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور نہ جانے کیا کیا بنے ہیں مگر نا مکمل اور نا قابلِ اعتبار کیونکہ روڈز تباہ حال، سائین بورڈز، سگنلز بھی ادھورے کبھی کام کریں کبھی نہ کریں! پُلوں اور بڑی سُنسان سٹرکوں کےکنارے ریفلکٹرز تک نہیں جو ہیں وہ اتنے دُھند لاجاتے ہیں کہ کام نہیں کرتے کیونکہ انکی مسلسل مرمت اور صفائی نہیں کی جاتی۔ کیٹ آئیز بھی چند مخصوص سڑکوں پر ہیں جیسےکہ ائیرپورٹ، ڈرگ روڈز، آرمی ایریاز، ڈیفنس سوسائیٹی وغیرہ میں، باقی سب ناکارہ اللہ کی پناہ!! اسپتال، یونیورسٹیز کیلئے جانے والی روڈیں ایسی کہ اُن سے گزر کر جانا گویا جان ہتھیلی پر لے کرجانے کے برابر، نہ جانے کب سے یہ سلسلہ ایسا ہی چل رہا ہے۔ سڑکیں کیا ٹھیک ہوتی ہیں جیسے نیل پالش لگادی اور ایک بارش یا چند دنوں کے بعد وہ تو بارش کےساتھ ہی بہہ جاتی ہیں اور نیچے اپنی ناہمواری کھڈے پڈے ،ایسی بلاکی۔ اونچ نیچ ،کہیں خشک تو کہیں چشمے وہ بھی گٹر کےاُبلتے نہ صرف گاڑیوں، بسوں اور دیگر موٹر سائیکلوں کا رکشوں کا کباڑا نکالتے ہیں بلکہ سفر کرنےوالے مسافروں اورپیدل چلنے والےلوگوں کی چولیں تک ہلا دیتے ہیں۔
اتوار کو میں ناظم آباد سات نمبراسٹاپ سے میمن ہاسپٹل رکشہ میں کہیں عیادت کےلئے گئی اورواپس آکر آدھےہی گھنٹے میں چکرا گئی کیونکہ زیادہ کرایہ اور جھٹکے! اور مجھے 24 گھنٹےلگے ٹھیک ہونےمیں ۔ کہنےکا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا دارلامتحان توہے ہی مگر لوگوں نے اپنی دین سے دوری اور جہالت سے اسے اور بھی تباہ کر دیا ہے۔لوگوں میں نہ اخوت ہے نہ ایک دوسرے کی بھلائی کی فکر بس یا شیخ اپنی دیکھ بقول امی کے اس وقت امی کی یہ بات نہ سمجھ کربھی کچھ اثررکھتی تھی آج تجرے کے بعد اتنی مؤثر لگتی ہے کہ اسے خود غرض، لالچ اور پیسہ کمانے کی اندھیرنگری میں انسانیت تو ختم ہی ہوگئی ہے اور یہ بات اب حقیقت لگتی ہے کہ واقعی انسانیت اتنی گر گئی ہے کہ اپنے اپنوں کو لوٹتے ہیں۔ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کی فکر تو کیا نقصان پہچانے کے در پر ہے اورخوش ہوتا ہے کہ دیکھا کیسا بے وقوف بنایا؟
خاص طور پر عام آدمی بھی اندر سےپکا ہوا ہےمگرکیوں ایساہو گیا؟ کرونا،زلزلے،سیلاب کسی نے بھی ہم پر اثر نہ کیا؟ سدھار کے بجائے ہم بگڑتے ہی جارہے ہیں مغروراور خود سر، دوسروں کو تکالیف دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ پہلے تو صرف مرد حضرات ہی اس کے ذمہ دارٹھہرائے جاتےتھےکہ جی ان کی مجبوری ہے۔ بے روزگاری ہے۔تعلیم کی کمی ہے۔ میڈیاکی ماری اور موبائل کی ڈسی ہوئی ہے ۔یہ آدمیوں کے حربے ہیں مگر اب تو عور تیں تو کیا لڑکیاں، چھوٹے بچے بچیاں بھی سب کو مات دیکر دونمبری میں ٹاپ کر چکی ہیں۔ اس بات سے بے فکر کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ کوئی فنکاری نہیں کر رہے نہ ہی بہت اسمارٹ اور چالاک ہوگئے ہیں؟ کسی کا کوئی میٹر ہی نہیں۔ رکشہ ٹیکسی کامیٹر نہیں۔ اس کی بے ایمانی کواللہ سمجھے گا!! لیکن میرے ضمیر کا میٹر کیوں چارج نہیں؟ دوسروں کی برائیاں کرکے دوسروں کی بے عزتی کرکے، دوسروں کے پیٹ پر لات مار کر،ماں باپ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آنسو دے کر، بےعزتی کرکے، تشدد کرکے کیا کوئی چین سکون سے بیٹھ سکتا ہے؟
کب تک کتنے دن تک؟ کتنا جی لوگے؟ کیا کر لو گے؟ یقین مانیے لمحوں کی زندگی نہیں۔ پیدائش سے پہلے ہی بچے کے آنے کی خوشیاں منائی جاتی ہیں، انتظار کیا جاتا ہے، مہینوں جبکہ موت کیلئے کوئی وقت نہیں، کل تو کیا پل کی خبر نہیں! پھر ہم اتنے غافل اورلاپرواکیسے؟ یاد رکھیں کسی کی راہ میں نا حق مشکلات پیدا کرنے سے پہلے سو بار سوچ لیں کہ آپ اُس کی تو صرف دنیا خراب کر رہے ہیں مگر خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی آخرت تباہ کر رہےہیں؟ پھر وہی امی والی بات جوبو گے وہی کاٹو گےیہ کیسے ممکن ہے کہ برا کرو بھلا ملے نا ممکن! دیکھیں کتنے معصوم صاحبِ ایمان لوگ اس دنیا میں بھی ہیں جیسے قطر میں خطیب کی تاخیر سے آنے پر ایک عام مزدور نے امام کعبہ جیسی شاندار عربی میں جمعہ کا خطبہ دیا۔
نماز پڑھائی اور اللہ نے کیسےاس کو عزت شہرت دی کہ لمحوں میں پوری دنیا میں عزت پائی کیونکہ وہ صاحبِ ایمان باکردار صاحبِ قرآن بندہ! سبحان اللہ گویا ایک یوگینڈا کے گیس اسٹیشن کا ایک مزدور اس موقع پر آگے بڑھ کر خطبہ دیکر تو کیسے قرآن کریم کی چند آیات پڑھ کر دنیا میں اتنی عزت پا سکتا ہے!سبحان اللہ۔ تو آخرت میں وہ قدردان رب کیوں نا جنتی لباسِ فاخرہ پہنوائیں گے؟ اس لئے قرآن اور شریعت سے جڑ کر ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں کہ قر آن پڑھتا جا عمل کرتا جا اور عروج کے منازل طے کرتا جا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار ایسے مواقع دیگر مسلمانوں کو تنبیہہ کر رہے ہیں اپنی محبت ہم جیسوں پر بھی نچھاور کر رہے ہیں۔ اللہ نے ہمیں مسلمان اور صاحبِ قرآن بنا کر کتنا ہم پر کرم کیا ہے!کیا اب ہمارا فرض نہیں کہ ہم اس رب کی قدردانی کریں اسکا حق ادا کریں اور شریعت کو تاحیات اپنائیں؟





































