
لطیف النساء
فتنوں کےاس دورمیں سب سےزیادہ فساد گھروں اورخاندانوں میں نظر آتا ہے۔رشتوں کا تقدس اورپامالی ایک بہت ہی معمولی
بات بن کر رہ گئی ہے۔ رشتے کتنے اہم ہیں اور کتنے خوبصورت ہوتے ہیں ،واقعی یہ تو رب کی عطا کردہ انمول نعمتیں ہیں جن کی قدر کرنا اورحق ادا کرنا ہی دراصل انسانیت ہے،ورنہ نسل کا بڑھانے کا کام تو جانوروں کے ذمے بھی ہے مگر بےمقصد اور بہت خوبی سےادا کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بناکر اختیار دے کرمقصد حیات دے کر قرآن اور شریعت کے اعزاز سے نواز کر کتنا ہم پر کرم کیا ہے۔
سوچیں کیا کچھ نہ دیارب نےکہ دنیا کی حسین رنگینوں،مظاہرِقدرت میں اورایک دوسرے سے آگےبڑھنے،سب کچھ ہی پالینے کے چکر میں ہم کتنے الجھ کررہ گئے ہیں کہ ذمہ داری تو دور کی بات احساسِ انسانیت ہی ختم ہو گیا ہے!! گھرتو ظاہر ہےا نسانوں سےبنتے ہیں خاندان کی ایک بنیادی اکائی دوافراد پرمشتمل ایک گھرہی توہوتا ہے،جیسے ہی اولاد ہوتی ہےہزارہا رشتے خود بخود اس کا والہانہ استقبال کرتے ہیں۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو صاحبِ اولاد ہوتے ہیں۔رب کسی کو بیٹا دیتا ہے کسی کو بیٹیاں اور کسی کو کچھ نہیں تو کسی کی شادی ہی نہیں ہوتی مگر پھر بھی اس کے رشتہ دار کیلئے سائبان ہوتے ہیں مگر یہ کیسا ظلم ہے کہ اتنی نعمتوں میں سے ایک نیک بیوی ہے جس کو بھری محفل میں ایک پکے عہد کے ساتھ نکاح کرکے اللہ کو گواہ بنا کر ایک مسلمان اپنے لئے اپنی عزت بنا کر لاتا ہےسارے لوگ خوش ہوتے ہیں۔ دعاؤں اور نیک تمناؤں سے اسے رخصت کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں مگر وہی شوہر جیسے اچانک حسین اور جوان بیوی ملتی ہے وہ اس کا محافظ ہوتا ہے، قوام ہوتا ہے اس کیلئے نان نفقے کا انتظام کرتا ہے اور اپنےبچوں کیلئے رحمت اورسا ئبان ہوتا ہے جو زمانے کے سردو گرم سے اسے بچا کر رکھتا اور اپنے سے زیادہ مقبول اور کامیاب بنانے کے چکر میں دن رات محنت کرتا ہے ظاہرہے یہی اسکا فرض ہے مگر کتنا بڑا ظلم ہے کہ دوسری عورتوں کے چکروں میں یا دولت کے چکر میں شیطان کو اس قدر اپنے اوپر طاری کر لیتا ہے کہ برسوں کا بنا بنایا گھرلمحوں میں تین لفظ ادا کرکے فارغ ہوجاتا ہے۔نہ اللہ یاد رہتا ہے،نہ اللہ کا ڈر، نہ رسول، نہ شریعت، نہ وہ دل کا سکون و قرآن اور نہ ہی آنکھوں کی ٹھنڈک اولاد، جب سگے باپ اور شوہر حضرات ہی، نہ ماں کی نہ باپ کی سوچیں اور یہ ظلم ڈھا دیں اور ایک الگ رنگین زندگی جینے لگیں۔سرجھاڑمنہ پھاڑ، تم روٹھے اور ہم ہمیشہ کیلئے چھوٹے،تو کیا یہ ظلم کم ہے؟
اب تو وہ زمانہ آگیا ہےکہ بیچ میں کوئی نہ آئے۔ نہ ماں باپ ہم خود اتنےماڈرن ہیں کہ اپنےفیصلے خودکرتے ہیں۔ یہاں بھی وہ گندی بات کہ میں بس میں ہوں جوجی چاہے کروں "مرد ہوں "۔ یہ مردانگی ہےتو وہ ماں کیا کرے۔ کیسے بچوں کو چھوڑے اسی اولاد کی خاطر تو وہ سارے دکھ سہتی ہے۔مرد کی عزت و قار کی وجہ سے ہر دکھ جھیل جاتی ہے۔ مانا کہ تھوڑی ناقص العقل ہوتی ہےمگر مرد کی طرح تنہا بچوں کےساتھ زندگی گزارنا آج کے دور میں بہت دشوار ہے۔ ایسے بچے چاہے ماں کتنی ہی محنت سے پالے۔ بھپرے ہوئے اور کچھ کم اعتماد کے حامل ہوتے ہیں اور کچھ رشتوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے ماں کی تعلیم وتربیت اور کہانی انہیں بہت ڈسٹرب کر دیتی ہے اور انہیں ہی کیا دو خاندانوں میں بھی بے عزتی اور گھٹن کا باعث بن جاتی ہے ۔ آئے دن ایسے واقعات، یہ مرد حضرات اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں؟ صاحبِ حیثیت ہونا کمال نہیں۔ صاحبِ کردارہونا کمال ہے۔کردار کا غازی ہونا قوامی ہے۔ لاکھ جھمیلوں کے بعد بھی اپنی عزت کو برقرار رکھنا اپنی زوجہ کا خیال رکھنا، دکھ سکھ کا ساتھی اور اولاد کا حق ادا کرنا ہی اس کی عظمت ہے۔ان پڑے پڑھےلکھے مگر بے حس لوگوں سے تو وہ صاحبِ ایمان مزدور کسان دکانداراچھے جو لمبے چوڑے کنبوں کے ساتھ سادگی کی زندگی گزارتے ہیں۔ پیار محبت سے رہتے ہیں۔
ہمارا آپ کا سب کایہ تجربہ ہی نہیں مشاہدہ بھی ہےکہ فٹ سے طلاق دے دی۔ بڑا کمال کر دیا!! پہلی رات ہی دھمکی دینا کہ بیٹا نہ ہوا تو مجھ سےبرا کوئی نہیں۔ کتنے کیسزہیں جن میں ایک دوسالہ نئی مائیں اس ڈرخوف میں زندگی گزارتی ہیں کہ کہیں بیٹی نہ ہو جائے! پھر واقعی میری دوست ڈاکٹر نے بتایاکہ آپریشن تھیٹرمیں ڈلیوری کے درد سے زیادہ درد اس بات کا محسوس کرتی ہیں کہ بیٹی ہوگئی تو کیا ہوگا؟ابھی تین واقعات حال ہی میں ایسے گزرے میری ایک دوست نے بتایا جیسے کہ میری دوست کی بہن کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تھی ۔بہنوئی صاحب ماں بیٹی کوساس کے گھر چھوڑ کرچلے گئے۔آج تین سالہ بیٹی کو لئے وہ اکیلی ماں کے گھر ہے۔ کوئی مائی کا لال بچی سمیت اسے بیانے کو تیار نہیں۔ اسی طرح ایک ڈاکٹر فیملی یعنی میاں بھی ڈاکٹر اور بیوی بھی ڈاکٹر، بیٹی پیدا ہوئی اور اسے تو4 مہینے پہلے بھی معلوم ہو گیا تھا باپ کو کہ میرے ہاں بیٹی آنے والی ہے،لہٰذا اس نے اپنے ڈاکٹر بیوی کو اتنا ٹارچر کیا، کبھی پھل فروٹ نہیں، اچھا کھانا نہیں، کام والی نہیں، وہ نوکری کرنے والی، اس پر ہزارہا پابندیاں لگائیں اتناعاجزکیا کہ وہ خود خلع لے لے اور آخر کار اس نے بیٹی کی سالگرہ سے پہلے ہی خلع لے لی۔
ایک بوڑھی بیمار ماں باپ کےسپرد بچی نہیں اس کاتو بیٹا تھا اس کوچھوڑکر نوکری کرنے جاتی ہے۔ ہے کوئی مائی کا لال جو اس بیٹے سمیت اسےاپنائے؟ ایک بھائی وہ بھی باہر رہتا ہے اپنی فیملی کے ساتھ وہ ماں کو دیکھے یا بستر پر پڑے باپ کو دیکھے یا اپنےبیٹےکوئی وقت دے۔ اسی طرح اتنی پیاری میری دوست کی بیٹی ڈاکٹراچھی جگہ دیکھ کر شادی کی۔ میاں جی چور نکلے اسی کا مال چرائیں بینک سے پیسے نکلوائیں اوربنابتائے گھر کی اشیاء بیچ دیں اوپرسے ہزار کام بیوی سے کروائے۔ بےعزتی الگ کرے۔ اس کی بھی اور اس کے والدین کی بھی کیا یہی مردانگی ہے؟ نہیں یہ حیوانیت ہے،تو پھر اچھی طرح کے اچھے انسان کہاں ہیں؟ قوام کہاں ہیں؟ ہے کوئی جو اس کا ذمہ سگی اولاد کی طرح رکھنے کے وعدے پراس سے شادی کرے؟ لڑکے تو پھر دو بچوں کے باپ دو دو تین تین شادیاں کر لیتے ہیں۔
حال ہی میں ایک صاحب نے ا پنی بیوی کو جودو بیٹوں کی ماں تھی اسےطلاق دے دی۔ دونوں بیٹوں میں 8 سال کا فرق تھا۔ ان بیٹوں کا بھی خیال نہیں کیا اورایک 18 سالہ لڑکی کی ماں سے شادی کرلی۔ ساتھ رہنے والیاں لٹ پٹ کر بھی مجبوراً زندگی ان کے قدموں میں رکھ دیتی ہیں کیونکہ مجبورہوتی ہیں جب آج کے شوہر جو اپنی عزت بیوی اور اولادجیسی نعمت کو ٹھکرائیں تو پھر ان کے دوسرے رشتہ داروں سےکیا توقع ،کیسا بھائی اور کیسا بہنوئی، کیسا ماما، کیسا تایا سب مطلب کے سوائے جنہیں خوفِ خدا ہو، جنہیں رب کی اطاعت اور شریعت کی پاسداری ہو، اعمال کی جوابدہی کا احساس ہو،تو کون ایسا کرسکتا ہے؟جبکہ لڑکیا ں ان کے سائے میں رہتے ہوئے کچھ تو مستقل محنت کرکے جان پر کھیل کراپنےدو دو، تین تین بچوں کو پالتی ہیں لیکن ماحول کی گھٹن اور زمانے کی نظروں سے اپنے آپ کو بچاتے بچاتے خود کو ہی روگ لگا بیٹھی ہیں۔ ایک لڑکی تو بیچاری چھ مہینے کی حاملہ بیمار ہوگئی اسے کینسر ہوگیا۔ شوہرصاحب نے ماں کےگھر لاچھوڑاکہ میں اس کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا۔ اللہ حافظ!! تو بتائیے اس طرح کی خواتین اوردیگر کسی بھی وجہ سے طلاق یافتہ بچوں والی عورتوں کا حق کون ادا کرےاور کیسے؟ کہاں گئی مرد کی غیرت اور رشتوں کی محبت۔ مجھ سمیت سوال ہے پورے مسلمانوں سے کہ اللہ کےبعد پہلا حق رشتہ داروں کا ہے جب مائیں سکون میں نہ ہوں گی تو یہ حضرات دنیا و آخرت کے سکون سے فارغ ہیں کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کےٓساتھ ہے۔





































