
لطیف النساء
دوست نےایک واقعہ سنایا بہت پسندآیا کے بقول اس کےیہ منقول ہےمیں نےسوچا ہو گا مگر ہم سب کوگہری نیند سےجگانے
کیلئے کافی ہے۔ اگر ہمارا ایمان سلامت ہو تو ورنہ جو سویاوہ تو سمجھو کھویا ہی کھویا! کیا کھویا؟ اپنی زندگی کھویا۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ ٹھوکر لگے اور تکلیف نہ ہو تو پھر صاف کہا جا سکتا ہے کہ:
احساس مر ناجائے تو انسان کیلئے
کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی
وہ کہتی ہیں کہ یہ واقعہ ڈاکٹر شعیب سڈل نے سنایا تھا کہ 1992ء میں راولپنڈی میں پولیس کا عالمی سطح کا ایک سیمنارہوا تھا شرکت کیلئے بیرونِ ملک سے بے شمار پولیس آفیسرز پاکستان آئے۔ان افسروں میں جاپان کا پولیس چیف بھی شامل تھا۔ سیمنار کے بعد ڈنر تھا اور ڈنر میں راولپنڈی کے ڈی آئی جی اور جاپان کے پولیس چیف ایک میز پر بیٹھ گئے اور گفتگو شروع ہوگئی۔
دوران گفتگو ڈی آئی جی نے جاپانی چیف سے پوچھا آپ گوں پر کبھی سیاسی دباؤ نہیں آتا؟ جاپانی پولیس چیف نے تھوڑی دیر سوچا اور اس کے بعد جواب دیا: صرف 1963ء میں ایک بار آیا تھا! ڈی آئی جی غور سے سننے لگے تو چیف نے بتایا کہ: 1963ء میں برطانیہ کے وزیر خارجہ جاپان کے دورے پر آئے تھے۔ وہ ایک دن کیلئے اوسا کا شہر چلے گئے دوسرے دن ان کی جاپانی وزیراعظم سے ملاقات تھی۔ انہوں نےاوساکا سے سیدھا پرائم منسٹر ہا ؤس آنا تھا۔راستے میں ٹریفک جام ہو گیا ان کے ساتھ موجود پروٹو کول افسروں نے ہمارے پولیس چیف سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی۔
پولیس کسی خصوصی بندوبست کے ذریعے انہیں ٹوکیو پہنچا دے، پروٹوکول افسروں کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات انتہائی ضروری ہے۔ اگر وہ نہیں وقت پر ملتے تو یہ ملاقات ملتوی ہو جائے گی کیونکہ ایک گھنٹے بعد وزیراعظم چین کے دورے پر روانہ ہو جائیں گے۔ پولیس چیف نے ان کی بات سن کر معذرت کرلی۔ اس کے بعد وزیراعظم نے بذات خود پولیس چیف سے درخواست کی لیکن پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وی آئی پی کو ٹریفک سے نکالنے کا بندوبست نہیں۔ یوں یہ ملاقات منسوخ ہوگئی۔ اس ملاقات کی منسوخی کی وجہ سے جاپان اور برطانیہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی! جاپان کے پولیس چیف خاموش ہوگئے، ہمارے ڈی آئی جی نے شدت جذبات سے پہلو بدلا اور ان سے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ پولیس چیف مسکرائے اور کہا کہ یہ خبر اخبارات میں شائع ہوگئی۔ لوگوں نے وزیراعظم کے رویے پر شدید احتجاج کیا اور پھروزیراعظم کو قوم اور چیف پولیس سے معافی مانگنی پڑی!!یعنی پھروزیر اعظم نے قوم اور چیف پولیس دونوں سے معافی مانگی! ہمارے ڈی آئی جی کیلئے یہ انوکھی بات تھی چنانچہ انہوں نے حیرت سے پوچھا:اگر پولیس چیف کے انکار سے وزاعظم برا مان جاتے اور دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جاتی تو اسکا نتیجہ کیا نکلتا!؟ پولیس چیف نے تھوڑی دیر سوچا پھر بڑے اعتماد سے مسکرا کر بولا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کبھی پولیس چیف کے ساتھ لڑائی نہ کرتے، لیکن بالغرض محال دونوں میں جنگ چھڑ بھی جاتی تو اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا! پولیس چیف سانس لینے کیلئے رکا اور پھر سنجیدگی سے بولا۔ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑتا۔
ہمارے ڈی آئی جی صاحب کا رنگ پیلا ہو گیا اور انہوں نے حیرت سےپوچھا کیا جاپان میں پولیس چیف اتنا مضبوط ہوتا ہے؟ جاپانی پولیس چیف نے ہنس کر جواب دیا: کہ نہیں ہمارے ملک کا قانون انصاف اور سلامتی کا نظام بہت مضبوط ہے۔ ہم نے عوام کی حفاظت کیلئے پولیس بنا رکھی ہے وی آئی پیز کو پروٹو کول دینے کیلئے نہیں لہٰذا جاپان کا ہر شخص جانتا ہے اگر وزیراعظم اور پولیس چیف میں لڑائی ہوگی تو اس میں وزیراعظم ہی قصوروار ہوگا لہٰذا استعفیٰ بھی اسے ہی دینا ہوگا کیونکہ ملک عوام کا حکومت عوام کی خدمت کیلئے!!! بس یہی مضبوط انصاف گویا برابری ایمان کی بنیادی صفات ہیں جو ہم نے چھوڑ دی اور انہوں نے اپنالی پیں اور صرف جاپان ہی نہیں دنیا کے تمام ہی ممالک میں ایسا ہے۔
آسٹریلیا میں الفیصل کالج اسلامی اسکول کے سامنے سڈنی شہر کے اوبن نامی علاقے میں، بارہویں تک کا ایک کالج ہے جو کنڈی سے بارہویں جماعت کے مسلم طلبا ء وطالبات کیلئے ہے اسکول کے گیٹ سے تین قدم پہلے زیبرا کراسنگ ہے جہاں ایک پاکستانی پولیس کانسٹیبل اسکول کے شروع ہونے اور چھٹی کے بعد ایک گھنٹے تک بچوں کو زیبرا کراسنگ کرا س کرواتا ہے۔ اس کے پاس واکی ٹاکی ہوتا ہے۔ اتنا زبردست کنٹرول ہے کہ کنڈی کے بچوں کو چاہے وہ دو ہوں یا ایک ٹریفک روک دیتا ہے اور احترام اور پیار سے السلام و علیکم کہتے ہوئے سڑک کر اس کرواتے ہیں خوشی خوشی! ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی گاڑی مہنگی ترین اس میں ایک جوان پاکستانی یا سعودی لگ رہا تھا انتہائی تیزی سے سڑک کراس کرنا چاہ رہا تھا، کانسٹیبل نے سیٹی بجائی اسٹاپ کا بورڈ بھی دکھا یالیکن وہ چند قدم آگے بڑھ کر رکا۔ کانسٹیبل نے واکی ٹاکی نکالتے ہوئے اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا ارد گرد کے گاڑی والے اور تمام لوگ دیکھ رہے تھے پھر اس مشتعل جوان نے سوری کا اشارہ کرتے ہوئے گاڑی پیچھے کی، کانسٹیبل نے اسے رکوا کر بچوں کو یعنی میرے بچوں کو سڑک کراس کروائی پھر اسٹاپ کا بورڈ ہٹا یا! میں نے اپنے شوہر سے کہا یہ تو زبر دست پاکستانی بندہ ہے جو تقریبا ساٹھ پینٹھ سالہ بزرگ ہے تو میرے شوہر کہنے لگے کہ عوام کی حفاظت کیلئے یہاں قوانین پر عمل ہوتا ہے۔
لمبے چوڑے جرمانے اور سزائیں ہوتی ہیں ہر وقت ہوتی ہیں تو لوگ سیدھے رہتے ہیں ورنہ بتائیے ہم مسلمان الحمد للہ صرف کہنے کہ ہمارا ایمان تو کہیں بھی ہمیں اپنے رب کے قوانین توڑنے کی اجازت نہیں دیتا نہ مجموعے میں نہ تنہائی میں مگر ہمارا کیا حال ہے؟ ہم میں تو اپنے عظیم رب کے احکامات کی پاسداری نہیں۔ قرآنی احکام چومنے پڑھنے سننے کیلئے نہیں بلکہ عمل کرنے کیلئے ہوتے ہیں اورعمل کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہمیں نیتوں پر ہی اٹھایا جائے گا۔





































