
لطیف النساء
آج ہماری زبانیں کتنی اچھی ہوگئی ہیں۔اردوکتنی اعلیٰ ہوگئی ہے.اس میں نہ صرف انگریزی بلکہ عربی اوردوسری زبانوں کی
آمیزش نےاسےمزید دلچسپ بنا دیاہےاورعقل تواس سےبھی زیادہ کہ تمام ٹیکنالوجی کی دنیا کو بھی اس کی ٹرمینالوجی کو بھی اپنےاندر سمو کرمزید مؤثر ہوگئی ہے۔
کیسے چکنی چپڑی باتیں کرکے ہم دوسروں کو شیشے میں اتار لیتے ہیں۔ کیسےکا روبار چمکاتے ہیں، کیسے رشتے ناطے جوڑتے اورتوڑتے ہیں؟ یہ سب باتوں کے ہی تو کھیل ہیں، یہاں تک کہ ہمیں اتنے اچھےاور معتبر الفاظ ہندی، فارسی کے الفاظ، عربی کے الفاظ جو اپنے اندرمعنی کا ذخیرہ رکھتے ہیں ،ان کی اہمیت تک ہم کھوتےجا رہے ہیں۔اس لئے ان کا اثر ہمارے کردار میں کہیں نظرنہیں آتا۔ "اقبال "کتنا اچھا لفظ ہے،معنی کتنےمؤثر ہیں۔ شاعر مشرق کے نام سے جانے جاتے ہیں مگرآج ہمارے بچوں کو اس کے معنی بھی نہیں آتے۔ انگریزی، جرمنی اور دوسری زبانیں آتی ہیں مگر اقبال کے معنی اقبال کا لفظ آتےہی میری ایک اردو کی ٹیچر ذہن میں آجاتی ہیں وہ جب یہ شعر سناتی تھیں ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا مگر وہ اکثر دہراتی تھیں کہ خود ہی بلا مطلب جانے یادہوگیا:
اقبال بڑا اُپدیشک ہے مَن باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتارکا یہ غازی تو بنا، کردارکا غازی بن نہ سکا
یہ جب کی بات ہے جب لوگ موبائل کے لفظ سے بھی نا واقف تھے۔ پھر وہ مطلب بتاتی کہ "اقبال "بہت بلند 'اونچا' بلند مقام، اُپدیشک، نصیحت کرنے والا، گفتار،بول چال،کردار، عمل،کام،من، جی، دل پھر سمجھائیں کہ یہ علامہ اقبال بہت بڑے شاعر، مبلغ، مصلح، واعظ، ناصح ہیں۔ گویا نصیحت کرنے والا اور غازی، جنگ، لڑ کر جیتنےوالا۔
آج ہم جب علامہ اقبال کےبارے میں بہت کچھ جان چکےہیں توان کی عاجزی انکساری اورمحاسبتی عمل پر بڑے حیران ہیں کہ واقعی کیسے بلند اقبال معتبر پر خلوص اور پر اخلا ص تھے!یہ شاعر مشرق ان کا کلام تو قرآن کی تفسیربتا سکتاہے۔ کوئی بھی شعبۂ زندگی نہ چھوڑا جس پر انہوں نے شاعری کےذریعے مسلمانوں، نوجوانوں، بڑوں، بچوں کو نہ سمجھایا ہو نہ انہیں تنبیہ کی ہو! خود کو مثال بنا کر اپنا یہی احتسابی عمل پیش کر کے کتنے ہی اشارے مسلمانوں کو دیئے،سمجھنے سنبھلے کے اور تنزلی سے ترقی کی طرف آنےکے، جیسے کہ اسی شعر میں وہ خود اپنا محاسبہ کتنی خوبصورتی سے کرتےہوئے ہربندے کو ہر مسلمان کو دعوت عمل دے رہے ہیں کہ میں بڑاہی گفتار کا غازی ہوں۔ بڑی بڑی باتیں کرتا ہوں۔ واعظ اور ناصح کی طرح لوگوں کا دل موہ لیتا ہوں گویا میں اپنی باتوں کا دھنی ہوں۔ لوگوں کے دل جیت لیتا ہوں لیکن میرا عمل اتنا اچھانہیں کردارمیں ،میں بہت ہی کچا ہوں۔ غازی نہیں ہوں اگر چہ گفتار گفتگو میں غازی ہوں۔ باتوں کا مجاہد ہوتے ہوئے کردار کاکوراہوں، کتنی بڑی بات ہے اپنی مثال دیکر وہ آج تک اور آنے والے لوگوں
کو تک للکار رہےہیں کہ عام سےلیکر خاص یہاں تک کےآج کےمُدرسین،واعظ،نصیحت اورتقاریرکرنےوالوں کیلئےجو باتیں تو بڑی اچھی کرتے ہیں۔ اچھے اندازمیں کرتے ہیں اور لوگوں کو متاثر بھی کرتے ہیں مگر عملی میدان میں ان کاوہ کردار نظر نہیں آتا۔ گویا وہی بات جو بولتے ہو وہ کرتے کیوں نہیں؟ فعل وعمل میں بلکہ قول و عمل میں تضاد ہی آج کا بڑامسئلہ ہے۔
علامہ اقبال مسلم سماج کو بتارہے ہیں کہ عمل میں کچےرہ کربڑی بڑی باتیں کرنا بڑائی نہیں بلکہ بڑے بڑے اچھے کام اچھے کردارسے اچھے عمل سے ہی تبدیلی آتی ہے۔ دل بدلتے ہیں سوچوں کا دھارا بدلتا ہےجو انقلاب لاتا ہے۔ اگر چہ اپنی مثال دیکرانہوں نے واضح کر دیا کہ اچھا صاحب کردار متقی بندہ ہوتا ہی وہ ہےجو ہر وقت برائیوں سے بچتا رہتا ہے۔ صالح عمل کرتا رہتا ہے پھر بھی ڈرتا رہتا ہے۔رب کی پکڑ سے کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے؟ پکڑ نہ ہو جائے یہی ڈر اور خدا خوفی اس میں کردارسازی پیدا کروا دیتی ہے اس کو ناموربنا دیتی ہےمگرجتنا وہ بلند اقبال ہوتا جاتا ہے اس کے اندراتنی ہی عاجزی انکساری اورحکمت آتی جاتی ہے۔ آج معاشرے کا کیا حال ہےہم تو نیکی کرنا تو دور کی بات برائی پر بھی اکڑتے ہیں بگڑتے ہیں۔ اتراتے ہیں اوریہی نہیں تسلیم بھی کرواتے ہیں مگر پھر بھی حق حق ہے ۔
اللہ نے انسان کی سرشت میں نیکی لکھ کراسے بچائے رکھنے کاانتظام کیا ہوا ہے۔ لوگ گزر جاتےہیں سب کچھ چھوڑ جاتے ہیں دھن دولت، مکان دکان،رشتے ناطے مگر باقی رہ جانے والی صرف نیکیاں اوراچھے اعمال گویاکردارہی رہ جاتا ہے جو بولتا ہے ہرجگہ ہر ایک کے لیے کیونکہ سچ کو آنچ نہیں پھرمزید اپناہی جائزہ لیتے ہوتے فرماتے ہیں کہ:
اقبالؔ بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے؟
مطلب واقعی انسان کبھی بھی یہ نہ سمجھے کہ وہ بہت بڑی چیز ہے یہی تو تکبر ہے جو توحید کی نفی ہے۔ ہر چیز میرے رب کی دین ہے۔ میں اپنی ذات سے کچھ بھی نہیں، یہ کوئی مذاق بات نہیں، ہنسی اور بیوقوفی کی بات نہیں، میں کیا ہوں ۔ مجھے بھی نہیں معلوم میرارب مجھے جتنا جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا کیونکہ میرے قول وعمل کے پیچھےمیری نیت ہےجو رب ہی جانتا ہے۔ وہ سب جانتا ہے۔ سمیع وبصیر اورخبیرجو ہے۔ آج بھی یہ شعر مجھے اقبال کے نام پر یاد آتا ہے۔ پوری کلاس کا منظرسامنے ہوتا ہے۔ پوری زندگی سامنے ہوتی ہے تو میں بھی اپنا جائزہ لیتی ہوں کہ کہیں میں بھی! گفتارکی غازی تو نہیں،نہیں میرے اللہ مجھےاور میرے تمام مسلمان بہن بھائیوں کو کردار کاغازی بنادے۔ ہمارے اعمال سدھار دے اور ہمیں اپنے چنیدہ بندوں میں شامل فرما۔ آمین۔ کیونکہ میں کبھی بھی مایوس نہیں ہوتی پرامید رہتی ہوں کہ میرے شاعر مشرق علامہ اقبال نے ہی بارہا فرمایا ہے:
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بند ے
جنہیں تو نے بخشاہے ذوقِ خدائی
بے شک مسلمان آج بھی اپنا سدھار چاہتے ہیں اورکوشش بھی کرتے ہیں کاش کہ ہم اور ہمارے تمام مسلم بھائی بہنیں کردار کےغازی بننے کیلئے اپنا عمل بد لیں اور اللہ سے مدد چاہتے ہوئے اپنے مقصد حیات کو اپنانےکی پوری کوششیں کریں۔ اللہ کی معرفت شعوری طور پرحاصل کریں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنا ایمان شعوری طور پر مستحکم رکھیں اس پر قائم رہتے ہوئے فطرت کے مطابق شریعت پر عمل پیرا رہیں نفع نقصان کا خالق رب ہے۔ وہی ہماری راہنمائی فرماتاہے۔ بس ضرورت ہے وقت کو صحیح استعمال کرنے کی اور اپنے عقیدے کو درست رکھنے کی اور ایمان پر قائم رہنے اور ہر وقت اس کو بڑھانے کی تو میرا یقین ہے کہ ان شاء اللہ ہم آج کی دنیا کے ہزارہا مسائل اور بے عزتی کی زندگی سے نکل سکتے ہیں بشرطیکہ کہ:
آج بھی ہو اگر ابراہیم کا ایمان پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
آج کے مسلمان موجودہ تہذیب کےزوالی ایندھن سےنکلنے کیلئے صرف اور صرف اپنی شریعت کواپنا کر اور قرآن کی روشنی اپنا کر ہی غلاظت کے بکھیروں سے نکل سکتے ہیں۔ اب یہ ہمار اکام ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہمارا مقصد دنیا میں اس کے بکھیروں میں رہتے ہوئے آخرت کی کامیابی ہے یا نہیں؟





































