
لطیف النساء
کیا خوب پہچان ہے مگر حل آپ نےخود ہی اپنی حکمت سے کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔ آمین۔ میری دوست نے بتایا کہ چالیں سال میں
کتنا فرق آگیا ہے۔ میں نے سوچا واقعی عمر ہو گئی ظاہر ہےعمر بڑھ گئی بچے بڑے ہو گئے بلکہ اُن کےبچے بھی تو جوانی کی طرف آنے لگے مگر فرق کتنا آ گیا؟
چالیس سال پہلے بچے مہذب تھے۔ مخلص تھے اپنے والدین کے جبکہ آج ماں باپ ہی مخلص ہیں اپنے بچوں کے، چالیس سال پہلے ہر شخص چاہتا تھا کہ اس کے اپنے بچے ہوں جبکہ آج کل زیادہ نہیں تو اکثر لوگ بچوں کی پیدائش سے تک خوف زدہ ہیں۔
پہلے بچے ماں باپ کی عزت کرتے تھے جبکہ آج کل ماں باپ کو بچوں کی عزت کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح چالیس سال پہلے شادیاں کتنی آسان تھیں، سادہ تھیں جبکہ طلاق دینا انتہائی مشکل کام تھا جبکہ آج شادی کرنا کتنا مشکل کام ہے جبکہ طلاق دینا تو بہت ہی آسان ہو گیا ہے۔ چالیس سال پہلے ہم اپنے پڑوسیوں کو جانتے تھے جبکہ آج ہم پڑوسیوں کیلئے اور پڑوسی ہمارے لئے اجنبی بنے ہوئے ہیں۔پہلے لوگ زیادہ کھاتے تھے کہ زیادہ کام کریں تاکہ انہیں انرجی ملتی رہےجبکہ آجکل مرغن غذائیں کھانا پسند نہیں کرتے کہ کہیں کولیسٹرول نہ ہو جائے؟
چالیس سال پہلے گاؤں کے لوگ شہروں کا رخ کرتے تھے مختلف پیشے تلاش کرنے کیلئے جبکہ شہروں کے لوگ سکون حاصل کرنے ٹا ؤن جاتے ہیں۔ پہلے لوگ موٹے ہوتے تھے تو خوش ہوتے تھے جبکہ آج ہر بندہ صحت مند رہنے کیلئے مرا جاتا ہے! چالیس سال پہلے ایک کمانے والا ہوتا تھا سب گھروالے کھاتے تھے خوش تھے،آج ہر بندہ گھر کا کماتا ہے ایک بچے کو پالنے کی خاطر اور واقعی چالیسں سال پہلے لوگ تعلیم حاصل کرنا کتابیں پڑھنا پسند کرتے تھے جبکہ آج کل تمام ہی لوگ اپنے فیس بک کو اپ ڈیٹ کرنے اور پیغامات کو ہی پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں۔
مجھے بھی اپنی دوست کا یہ پیغام ایک حقیقی بات لگی، واضح کھلی حقیقت لگی جسے قبول کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے مگر ہے،حقیقت آج کی زندگی کی۔ اسی خیال سے کہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو معلوم ہوجائےتحریر میں لا کر مزید آگے بڑھانا ہی چاہتی ہوں تاکہ میرے تمام دوست اور دوستوں کے دوست بلکہ تمام ہی مسلم بھائی بہن اس حقیقت کو جانیں نظریں نہ چرائیں بلکہ حل کی حکمت کے ساتھ کوشش کریں تاکہ وقت کی اہمیت اور زندگی کی قدر بڑھا سکیں ۔ روح کو سکون ملے اور نظروں کو تراوٹ اور اپنی غلطیوں کو تا ہیوں کاکچھ نہ کچھ مداوا کر سکیں۔ اس اکیسویں صدی نے ہمیں کیا دیا؟ ہم نے اس صدی میں ان چیزوں کو خود خوش آمدید کہا۔آسانیا ں کیا کیا بٹوری جیسے فون وائرلیس، کو کینگ بلا خوف وخطراور کار بغیر چابی کی، کھانافری، ٹائر ٹیوب فری، آلات کارڈ لیس،لباس سلیولیس، ہماری یوتھ جاب لیس، ہمارے لیڈرشیم لیس جبکہ ہم سب کا رویہ لاپروائی والا یا سمجھیں کیئر لیں۔
ہمارے اکثر اسپاؤس یعنی جیون ساتھی فیئر لیں جبکہ ہمارے جذبات یافیلینگ ہارٹ لیس ہماری تعلیم یعنی ایجو کیشن ویلیویس جبکہ ہمارے بیٹے یعنی کڈز سمجھیں مینر لیس، گورنمنٹ یو لیس اور پارلیمنٹ کلیو لیس جبکہ ماسس ہیلپ لیس۔ ہر چیز کی کمی یعنی لیس مطلب زندگی میں ہر چیز کی تنگی اور کمی ہوتی جا رہی ہے مگر پھر بھی ہمارا بھروسہ توکل اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ذات پر نہ ختم ہونے والا ہے۔ یہی بھروسہ ہماری امید ہماراسہارا ہے جو سبحان اللہ کبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔ دراصل ہم خو د اسپیچ لیس ہوگئے ہیں۔
مطلب میری دوست کہتی ہے کہ وہ اسپیچ لیس ہے مگرپھربھی دوست کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے جو انمول ہے پرائز لیس ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ واقعی اگر ہم نے اس پیغام کو پڑھ کر بھی آگے نہیں بڑھایا تو سمجھو یہ پیغام بھی پرائز لیس ہو گیا۔ اس لئے میں نے اسے مزید آگے بڑھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے اور ہر کوشش کے پیچھے نیت کارفرما ہوتی ہے۔
نیت صاف تو منزل آسان، صاف ظاہر ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں، کمیوں،کوتاہیوں کو ضرور جاننا چاہئےاور اسکا حل نکالنا چاہئے کیونکہ ہماری زندگی کبھی بھی بنا مقصد نہیں ہے لہٰذا مقصد کے حصول کیلئے ہر وقت ہر جگہ نیک نیتی کے ساتھ حاصل کرتے رہنے کی ہی کوشش کرنا چاہئے۔ عمل کرنے یا یادرکھنے کی باتیں بقول شگفتہ نقوی یہی ہیں کہ اپنی خوشیوں کو ہی ہم ذرا مختصر کر لیں زندگی پرسکون ہو جائے گی سادگی اختیار کر لیں بوجھ کم ہو جائے گا۔ سامان کم جمع کریں گھر خود ہی کشادہ ہوجائے گا۔
قناعت اختیار کر لیں۔ زندگی آسان ہو جائے گی ہرشخص انفرادیت کا حامل ہےاس کی فوٹو کاپی ہو ہی نہیں سکتی نہ بنائی جا سکتی ہے۔ اپنا منصب پہنچائیے، اپنا کردار سنبھالئے اپنے نفس پر قابورکھیے کیونکہ انسان دنیا میں اللہ کا خلیفہ اور نائب ہے تو اسے اپنے مقام کا شعور رکھتے ہوئے کبھی گرنا نہیں چاہئے۔ ظاہر ہے جو چیز آپ کو اللہ کی یاد سے ہی غافل کر دے وہی تو گناہ ہے۔مطلب اپنی زندگی میں دنیاوی اور اخروی کامیابی کیلئے جدو جہد کرتی ہے۔ ہماری خواہشیں خام ہو سکتی ہیں مگر دینے والے میرے اس رب کا ظر ف بہت بڑا ہے۔ ظاہر ہے اس رب نے ہی تو:
بندہ بنا کہ اپنا ہمیں زندگی عطا کی
اپنی کائنات کی چابی ہمیں تھما دی
ہم کو زبان بخشی، اور راہ بھی بتادی
سوچنا ہے اب یہ! کیا ہم نے بھی وفا کی؟





































