
لطیف النساء
مجھے ہر وقت نت نئی چیزوں کی تلاش ہوتی ہےاورواقعی کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمیں دین یا زندگی کا وہ شعور ہی نہیں
جو ہونا چاہئے۔ کہتے ہیں چالیس سال زندگی کا بڑا حصہ ہوتا ہے اور اس کے بعد کی زندگی کا تو حساب ہی حساب ہے ہم واقعی پیدائشی مسلمان ہیں خوش قسمتی ہے مگر اگر ہمارے والدین عملی مسلمان ہوتے، عربی کو اچھی طرح پڑھتے سمجھتے اور ہمیں بھی وہ ماحول فراہم کرتے اور پھرہماری حکومت بھی شروع ہی سے عربی کو سیکھنا سمجھنا لازم کردیتی تو شاید ہمارے روئیے الگ ہوتے لیکن "شکر الحمد للہ " اللہ تعالی والدین اساتذہ اور پاکستان کے حکمرانوں کو جزائے خیردے کہ ہم اتنا بھی پڑھ سکیں، سمجھ سکیں۔
عربی کتنی میٹھی زبان، اللہ کی زبان، اللہ کے کلام کی زبان، تجوید کے قواعد اور وہ خوبصورت الفاظ جب صحیح مخرج کے ساتھ ادا ہوتے ہیں تو تڑپ اور طلب اور لگن رکھنے والوں کا دل چاہتا ہے۔ وہ بھی عربی بولنے لگیں مگر بولنے کیلئے ہمیں تو ابھی بھی رک رک کر سنبھل سنبھل کر عربی پڑھنی پڑتی ہے،جہاں جہاں سے سمجھ آتی ہے دل خوش ہی ہوجاتاہے۔
حج اورعمرہ کے مواقع پر اورایک ماہ عراق میں رہ کر مجھے تو عربی اتنی اچھی لگی کہ دل چاہا کہ اگر میں صبح اٹھوں تو اللہ کرے میں فر فر عربی بول اور سمجھ سکوں یہ میری دعا تھی مگر کہتے ہیں نا کہ ایک لفظ بھی قرآن کا اگر آپ سیکھیں اور سکھائیں تو باعثِ ثواب ہوگا تو سمجھیں آج مجھے ایک ایسا ہی لفظ ملا میرا دل نہال ہو گیا اورشکر ادا کرتے ہوئے مجھے اسے آگے بڑھانے کا دل چاہا ہر ہر ذرائع سے اس لئے یہ بلاگ لکھ رہی ہوں۔ اب چاہے کوئی اسےنقل سمجھے مگر مجھے یہ ایک شعوری اللہ کا پیغام لگا جسے ضرور عام ہونا چاہیے ہرسطح پر مگر بہت خاص ہر فرد کیلئے کہ یہ اللہ کا پیغام ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو عرب ممالک میں رہتے ہیں ۔۔۔ تھوڑی بھی عربی آجائےتوکافی حد تک قرآن سمجھ آنےلگتا ہےہم تو ترجمے کے ذریعے پڑھتےہیں سمجھتے ہیں ،لہجے نہ ہم ترجمے سےسمجھ سکتے ہیں نہ اس کا اثر قبول کر سکتے ہیں،لہجے تو عربیوں سے ہی سمجھ آئیں گے۔
کہتے ہیں کہ اس بندے کے اسٹور میں کوئی بچہ اپنےوالدین کےساتھ شاپنگ کرنےآیااور مختلف شیلف کے سامنے کھڑا ہوا اپنی پسندکی چیز دیکھنے لینے، تو باپ جب شاپنگ کر کے بل ادا کر کے جانے لگاتو بچہ شیلف کے سامنے ہی کھڑا ہے کہتا ہے مجھے یہ لینا ہے اوریہی لینا ہے۔
باپ کہتا ہے" تعال یا ولد" (آجاؤ بیٹا) بیٹا پھر بھی کھلونوں والی شیلف یا چاکلیٹ شیلف میں کھویا ہواہے اور اسکا بس نہیں چل رہا کہ بس اٹھا ہی لے۔ پھر تو باپ سختی سے کہتاہے"حیی "دوڑ کر آؤ (چلو)،محسوس کیا آپ نے کہ جب تھوڑا سختی سے کہنا ہو، تھوڑا حتمی کرنا ہو تو الفاظ بدل گئے، تعال کی جگہ اب "حیی" آگیا، تعال کےبعد گنجائش ہے "حیی" کے بعد انکار یا ضد کی پھر گنجائش ہی نہیں۔ "حیی"کےبعد یا تو بچہ پٹے گا یا پھر اس کا باپ اسے چھوڑ کر اسٹور سے نکل جائے گا اور گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرے گا کہ آنا ہے تو آؤ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آنا تو اسے میرے پاس ہی ہے۔ بالکل اسی طرح سارا دن بلکہ ساری زندگی ہم دنیا کمانے، جی بہلانے میں لگے ہوتے ہیں کہ بس یہ لے لیں ،وہ بھی لے لیں۔ وہ کما لیں تو ذرا یہ کمالیں اور وہ کمائیں، یہ دیکھیں وہ دیکھیں پانچ بار جب "حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح" کی آواز کان میں پڑتی ہے تو عربی سے نا واقف نا بلد لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ یہ کون سا لہجہ ہے اور کس قدرسختی سے بلایا جا رہا ہے! گویا تنبیہ ہے! صبح بلایا جا رہا ہے۔
دوپہر اور رات ہر آواز، اس "حیی" کی صدا کے انکار کی صورت ہمیں کیاکیا نتائج بھگتنا پڑسکتے ہیں؟ انکار کی صورت یا تو دنیا سے ہی پٹائی کا سلسلہ شروع ہو جائیگا۔ یاخالق نےتو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ ہی دینا ہے کہ آنا تو اس نے میرے پاس ہی ہے، "اللہ اکبر" سوچئے ساتھیوں کیا قابل غور بات ہے؟ وہ صاحب کہتے ہیں کہ "تعال.اور "حیی" والا واقعہ ان کی دکان پر کل ہی پیش آیا۔ جب اسٹور پر ایک والد نے سامان کا بل ادا کر کے اپنے بیٹے کو پہلے"تعال" کہا پھر بچے کی ضد کے جواب میں سختی سے "حیی"کہا اس وقت ان صاحب کے دماغ کی کھڑکی کھلی اور انھیں یہ بات سو جھی اور جب ہم نے پڑھی تو ہمار سے بھی دل دماغ کھلے،لہجے کااثر سمجھ آیا کیونکہ ہم نے سنا ہوا ہے کہ ایکشن اسپیکس لا ؤڈر دین ورڈعمل الفاظ سے زیادہ مؤ ثر ہوتا ہے یا کہہ لیجئے کہ لہجے کا اثر ادائیگی کااثرالفاظ سے زیادہ ہوتا ہے تھوڑے سے الفاظ بدل جائیں تو معنی بدل جاتے ہیں۔ لیکن سبحان اللہ یہاں تو کس خوبصورتی سے تکرار کے ساتھ "حی علی الصلاۃ اورحی علی الفلاح "کا اعلان کیا جارہا ہے! بس اللہ تعالیٰ ہمیں سننے والا سمجھنے والا اور سب سے زیادہ عمل کرنے والا بنادے۔ آمین یا رب العالمین۔ تیرالا کھ لاکھ شکر ہے۔ اس لئے کہتے ہیں جس نے اذان سنی اس کا جواب دینا اور نماز ادا کرنا ضروری ہے خوش قسمت ہیں تمام مسلمان اور خصوصاً مرد حضرات کہ انہیں مساجد جا کر نمازیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور دیگر افرادبھی جہاں جہاں ہوں اس پکار پر لبیک کہہ سکتے ہیں اور کہنا چاہیے ورنہ انجام کے ہم خود ذمہ دار ہوں گے۔





































