
لطیف النساء
یہ خواہش ہے یاضرورت؟ آپ ہا ہرجانا چاہیں گے مگر کیوں؟ اس سوال کے جواب میں مستقبل کےاس معمار نے جو بمشکل اٹھارہ
یا انیس سال کا ہوگا کہا کہ یہاں میری فیلڈ کے ماسٹر نہیں ہیں اورجاب نہیں ہے اور میں سو چتی رہی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں گھرکے اکلوتے نوجوان باوجود تمام تر ذمہ داریوں اور رشتہ داریوں کو چھوڑ باہر کیوں جانا چا ہتے ہیں؟چند کالج اور یونیورسٹی کے چند طلبا ءسے ان کا فیوچر پلان پوچھنے پران کے مسائل بھی سامنے آئے اور تجاویز بھی جو انتہائی متوسط بلکہ بعض اس سے بھی نیچے کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے پہلے تو میں نےکہا کہ آپ شکر ادا کریں کہ آپ نے اچھے گورنمنٹ کالجوں میں تعلیم حاصل کی اے ون گریڈ لیا اور اب اچھی یونیورسٹیزمیں ہو۔ کا لجز میں بھی آپ کا اچھا ماحول رہا بقول ان کے وہاں اساتذہ اچھے تھے فزکس اور کیمسٹری کےاساتذہ بہت اچھے تھے۔ یہ آدم جی سائنس کالج اور دہلی کا کے طلباء تھے جبکہ سرسید جناح، عبد اللہ، پائیلٹ کالج کی طالبات میں بھی شامل تھیں اپنی چند مشکلات کا حل چاہتی تھیں کہ اکثر کو رنمنٹ کالجز میں اساتذہ کی کمی ہوتی ہے لیکن بچے پھر بھی ساٹھ فیصد سے زیادہ آتے ہیں، پریکٹیکل وغیرہ اچھےہوتے ہیں۔ لائبریری کھیل کا میدان، کمپیوٹر لیب اور دیگر لیب سب ہیں مگر کینٹین میں بہت مہنگی چیزیں ملتی ہیں۔ آنے جانے کا کرایہ بہت مہنگا ہے اور جو اپنی کنوینس یا گاڑیوں سے آتے ہیں تو انہیں بھی پیٹرول مہنگا گاڑیوں کا رش، چوریوں کےواقعات، لوٹنے لاٹنے سے بچتے بچاتے ہم لوگ بہت ہی بے سکون ہوتے ہیں، اگر بسوں کا مستقل انتظام ہوتو ہمارا وقت انرجی اور غربت کے مسائل کافی حد تک درست ہوسکتے ہیں۔ اچھا تو آپ نے اس داؤد یونیورسٹی میں فیلڈ آرٹیفیشل انٹیلجنس کو چنا ہے تاکہ آئی ٹی کی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسکا اسکوپ ہے اور آگے اس کی مزید تعلیم کی گنجائش ہے۔ ماشا ء اللہ وہاں پارٹی سسٹم بھی نہیں ہے۔ کوئی یونیفارم نہیں۔ اس لئے میڈیا کے مارے یہ لوگ سب نہیں چند کے حلیے قابل اعتراض ہوتے ہیں مگر اکثر ٹھیک ہیں، کچھ طلباء اساتذہ کے بارے میں کھل کر نہیں بتاتے نہ جانے کیوں، کوئی ڈر ہے؟ یا بڑی کلاس کا لحاظ؟ مگر انکا خیال ہے کہ ڈیسنٹ ہی لباس ہوتے ہیں۔
گورنمنٹ کالج برائے مین کے طالب علم نے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ میرے کالج میں ایک اسموکینگ روم بھی ہے جہاں لڑکے سگریٹ پیتے ہیں، سن کر بڑا افسوس ہوا، مطلب سگریٹ کانشہ،تعلیمی نشہ دو تضاد چیزیں اللہ اکبر!! مستقبل کے یہ معمار جب صحت ہی نہ سنبھال سکیں گے تو ملک کی باگ ڈور کیا سنبھالیں گے؟ ضرورت کی ہرشے کلاس میں ہے مطلب کالج میں بڑاسا گراؤنڈ ہے مگر گھاس نہیں، کینٹین ہے مگر پانی کی تنگی پھر بھی ہے۔ صفائی کا بھی فقدان ایک مسئلہ ہے۔ کوئی ٹرانسپورٹ نہیں، اگرچہ کلاس میں ڈیڑھ سو طلباء ہیں مگر پچاس فیصد سےزیادہ حاضر رہتے ہیں جبکہ دیگر کالجز میں طلباء کا سائنس کا تناسب زیادہ ہوتا ہے، آج کل آئی ٹی کا رجحان زیادہ ہے سا ئبر سکیورٹی بھی ایک اہم فیلڈ ہے۔ ابھی نئی ہے مگر ہمارے پاس پرا نا ڈیٹا ہے۔ اپ گریڈ رکھنا بھی ایک چیلنج ہے۔ اس نے کہا کہ میں صبح ساڑھے چھ بجے یو نیورسٹی جاتا ہوں اور ساڑھے چھ بچے ہی شام اندھیرے میں واپس آتا ہوں صرف تعلیم حاصل کرنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے، آنے جانے میں بھی وقت لگتا ہے توجاب کیلئے وقت ہی نہیں ملتا اسطرح ہم والدین پر مزید بوجھ ڈالتے ہیں۔ باہر کم از کم طلباء پڑھائی کے ساتھ ساتھ چند گھنٹوں کی جاب بھی کر لیتے ہیں۔ اتنا مل جاتا ہے کہ تعلیمی اخراجات میں اور دیگر کھانے پینے کے اخراجات بھی نکل آتے ہیں اور ساتھ ہمیں جاب کی سہولیات ملتی رہتی ہیں اور آگے پڑھنےکے مواقع بھی! عزت کے ساتھ بے خوف و خطر کام آگے بڑھنے کا جاری رہتا ہے جبکہ یہاں ایسی سہولیات نہیں!!! واقعی یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اتنے برسوں کی محنت کے بعد بھی جاب کا مسئلہ ہےٓتو آج کے نو جوان بدظن ہیں مستقبل کا خوف انھیں مایوس کردیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے ایمانیاں میڈیا کی خرافاتیاں ہر جانب سے نو جوانوں کو جکڑے ہوئے مغربی تہذیب کا مارا بنائے جارہی ہیں اور ہم ہیں کہ غافل اپنی یوتھ کیلئے راہنمائی شفقت اور سہولیات دیکر ان کیلئے آسانیاں اور اسامیاں پیدا کرکے انہیں شاد اور آباد رکھنے کی طرف توجہ ہی نہیں دے رہے۔
ایسے ادارے ایسی پالیسیاں مرتب کرنا چاہئےجوملکی بقا اور سالمیت کے پیش نظر ہوں بلند معیار زندگی کی دوڑ میں بقا کی ضامن ہوں تاکہ میرا نوجوان اپنے ملک کی ترقی امن و استحکام میں اہم کردار ادا کرے خوشی محسوس کرے اور اس ملک کو خوشی خوشی اپنی خدمات پیش کرے۔ انکی جان مال عزت و آبرو کا تحفظ دینا، انکے ہنر اور تعلیم کے مطابق نوکریاں دینا ہی ملک کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ تعلیمی مراعات دیں،انہیں چند گھنٹوں کی جاب کی بھی اجازت ہو، تا کہ انہیں بھی آٹے دال کے بھاؤ اور دیگر لوگوں کے تاؤ معلوم ہوتےہیں اور انہیں اپنی محنت،حیثیت،تعلیم روپے پیسے اور اخراجات کی قدر آئے اور انکا احساسِ ذمہ داری، تسکین پائے۔ جب ہمارے نوجوان متفکر بے۔ چین اور خائف ہوں گے تو کیسے کام چلے گا؟ نوجوانوں کو قومی یکجہتی اور وحدت اور اسلامی اخوت کی ہی مضبوط کڑی میں پروکرمنظم کیا جائے تاکہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اپنے ملک اور گھرے استحکام اور ترقی پر لگائیں۔ انہیں اپنے اسلامی ماحول میں اپنے ہی مثالی کریکٹر کو پیش کر کے اسطرح تربیت کی جائے کہ وہ اپنی تمام تر بہترین خدمات اتحاد یقین اور تنظیم کے ساتھ پیش کریں اور انہیں اپنی حیثیت اور وقت کا مثبت استعمال کرنا آئے، دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ انکی دینی تعلیم ہر درجے آگے ہی بڑھتی جائے۔
بیک وقت انہیں دینی علوم، فرائض اور دنیاوی ضروری تعلیم اور ٹیکنا لوجی میں گویاسائنس میں مستقل بنیادوں پر ترقی ہی کرتے رہنا ہے۔ فوکس صرف دنیاوی ترقی ہی نہ ہو، مادی ترقی ہی نہ ہو بلکہ مقصد زندگی اور احساسِ بندگی ساتھ ساتھ ہوتا کہ دنیاوی ترقی، رشتوں کی مٹھاس، احساسِ ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھی کامیابی نصیب ہواور اخروی کامیابی دنیا کی بہترین عملی زندگی کا نتیجہ ہو۔ مغربی تقلید بُری چیز ہے۔ آپ خود اپنے حلیوں کو دیکھیں، اپنی داڑھی اور پیچھے جوڑ ا! یہ کیسا شیطانی عمل ہے؟ پوری زندگی، لباس، انداز، اسٹائل، خوراک، کام کسی بھی معاملے میں رب کی ناراضگی نہ ہو، نہ شریعت کے احکام ٹوٹیں! کیونکہ آپ اس اسلامی ملک کے معمار اور مستقبل کے راہنما ہو، آپکو ہی نئی آنے والی نسلوں کو پروان چڑھانا ہے۔ اس لئے آپ کوہی زیادہ چاق وچوبند، مستعد اور ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے والے ہونا ہے اور ایسی شجر کاری اپنے کردار سے کرنی ہے جو اس باغیچے کو لہلہاتا گلستان بنا کر اسے قائم رکھے۔





































