
لطیف النساء
زمین سے آسمان تک زمین کے نیچے اور آسمان سے بھی اونچے عجیب قدرت کے نظارے ہیں جب ہم جہاز میں سفر کررہے ہوتے ہیں۔بادلوں کے اندر
جہاز اور اتنے بڑے جہاز میں اتنے سارے لوگ بمع اپنے سازو سامان کے، نہ باہر نکل سکتے ہیں نہ زمین دیکھ سکتے ہیں نہ کھلا آسمان صرف کھڑکی سے آسمان کا کچھ حصہ نظر آتا ہے اور بادلوں کے پہاڑ عجیب و غریب بدلتے رنگ کہیں دھوپ کی چمک توکہیں ذراچھاؤں، کبھی بارش کے قطر ے بادلوں سے گرتے ہوئے تک دیکھیں،پھر اوپر دیکھیں تو آسمان مزید اتنا بلند کہ آپ پورا دیکھ تک نہیں سکتے ہزاروں میل بلندی پر نہ کوئی پرندہ نہ جھاڑ نہ کوئی آواز صرف آسمان ہی آسمان بادل ہی کتنا چھوٹا لگتا ہے اپنا وجود اللہ کی شان!کتنی وسیع زمین کتنی گہری اور مضبوط اور کتناہی بلند آسمان، خالق کا شاہکار!! مگر سو چیں!! ان گنت مخلوقات میں سے اللہ نے کتنا خوبصورت اپنا خلیفہ بنایا۔ انسان کو اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی اور مسخر کرنے کو سارا جہاں دیا۔ انسان کتنا خوش قسمت ہے کہ کتنے بڑے بڑے جانوروں کو اپنے تابع کر لیتا ہے اپنی عقل و شعور سے خداداد صلاحیتوں کو کام میں لا کر اس نے جہاز کی پرواز تک کو اپنے لئے کتنا آرام دہ اور سہل بنا لیا ہے کیسی کیسی ایجادات کر کے فطرت کو اپنی مرضی پر چلانے لگا ہے۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کیا جانے والا کام قابل ستائش ہے مگر لگتا ہے
شعوری طور پر ہم مسلمان کیوں اپنے آپ کو اپنی تہذیب اپنے کردار اور اخلاق کو گراتے جارہے ہیں؟ یہ کیسی تبدیلی ہے؟ پچھلے دنوں میں نے کئی جگہ دھوکا کھایا پیچھے سے مجھے لگا کہ یہ محترمہ کتنی صحت مند ہیں اورلمبی تڑنگی ہیں جیسے ہی سامنے سے حلیہ دیکھا حیران رہ گئی!! اچھی خاصی داڑھی والا نوجوان ہاتھ میں کڑھا پہنے ہوئے موتیوں والا جوڑا لگایا ہوا تھا مزید آگے سے اپنے بالوں کو سمیٹنے کیلئے کنگھی نماگریپ بینڈ بھی بالوں میں لگایاہوا تھا۔ یہ آج کل کیا ہو گیا ہے؟ نوجوانوں کو بلکہ مردوں کو ہر عمر کے مرد حضرات چھ چھ بچوں کے باپوں سے لیکر کنوارے سکولز کا لجز کے لڑکے بھی اس میں شامل ہیں۔
پہلے توچڈے چلے دل جلے، ہرے پیلے لال چڈے اوربغیر آستینوں کی بنیان!کہ جی گرمی ہے ایزی ڈریس ہے بلا جھجک ہر کسی کے گھر میں ماں بہنوں کو تو چھو ڑیں تمام ہی کے سامنے بلا جھجک چلے آئے معذرت کے ساتھ ان میں ڈاکٹرز حضرات بھی شامل ہیں جو اس حلیے میں بیٹھ کر مریضوں کو دیکھنا برا ہی نہیں سمجھتے جبکہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ جن علاقوں میں لیڈی ڈاکٹر نہیں ہیں عام بیماریوں کیلئے مرد ڈاکٹرز کے پاس وہ بھی ان حلیوں والوں کے پاس میری معزز بہنیں تک جانے سے گھبراتی ہیں اور علاج کروانے سے حلیہ دیکھ کر گھبرا تی ہیں۔
پہلے تو یکا د کا ایسے بے تکے حلیے میں کوئی نظر آتا تھا، اب تو اللہ معاف کرے، ہر گلی بلکہ ہر خاندان میں ایسے بندے نظر آتے ہیں سامنے منہ پر داڑھی ہے اچھی خاصی وضع قطع کے ہیں جبکہ پیچھے انھوں نے پونیاں تو اونچا سا جوڑا بنایا ہوا ہے یا پھر لمبے بال رکھے ہیں۔ بیوٹی پارلرز سے زیادہ سیلون نظر آتے ہیں اور ان میں لڑکوں کا رش لگا ہوتا ہے کبھی تو یہ چہرے پر سفید لیپ لگوا کر مزید مرمت کیلئے بیٹھے ہوتے ہیں کیسے کیسے بال کٹے ہیں کہ صرف اوپر ٹینڈ پر چند بال ہیں باقی گنجے تو کسی کی مونچھوں کی جگہ پر ایک ٹکیہ جیسا کالے بالوں کا نشان اور پھر مختصر تیر کی طرح کی لمبی تکون داڑھی۔
اکثر بچے جو ذرا بڑی عمر کے ہیں تین چار پانچ کے سال کے بچے بڑے کنفیوزہیں۔ پچھلے دنوں سامنےسیلون پر ہی ایک صاحب کے پاس ایک بچہ اور ایک بچی تھی اور وہ بھی شاید اپنے باپ کے ساتھ بال کٹوانے آئے ہوں گے وہاں دو طرفہ بالوں والے نوجوانوں کو دیکھ کر گھبرارہے تھے بیٹا بار بار باپ سے پوچھ رہا تھا بابا یہ کون ہے؟ یہ کیا ہے؟ میں نے کھڑکی سے دیکھا رات نو بجے۔ دو نوجوان داڑھی والے لمبی قمیض اور پتلا پا جامہ ایک کے گردن سے بھی نیچے بال اور ایک نے جوڑا بنایا ہوا عجیب سا حلیہ اتنی اونچی اونچی آوازوں میں فون پر باتیں کر رہے تھے۔ بچے بے چارے معصوم فیصلہ ہی نہ کرپا ئے!کہ یہ کون ہیں۔ آنٹی ہیں، یا انکل یا پھر کیا چیز ہیں؟ اللہ کی پناہ میں خود ایک آدمی کو جانتی ہوں سامنے ہی شادی ہوئی تین چار بچوں کا باپ ہے۔ آہستہ آہستہ بال بڑے کر کے پہلے جوڑا بنایا پھر کاندھےپر لہراتے بال، کالی بڑی بڑی مونچھیں، دبلا پتلا جسم نہ جانے اپنے آپ کو کونسا ماڈل دِکھانا چاہتے ہیں۔ پڑوس میں یعنی انکی اسٹیٹ ایجنسی ہے برابر میں سیلون ہے تو تراش خراش کا عمل بھی ایک نہیں کئی مردوں میں فروغ پارہا ہے۔ عجیب حال ہے؟ ہم نے اپنے بھائیوں باپوں اور رشتہ داروں کو شروع سے ہلکے رنگ کے شلوار قمیض، کرتا پاجامہ یا کوٹ پینٹ میں یا شرٹ پینٹ میں ڈیسنٹ لباس میں ہمیشہ دیکھا اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب بھی پہنا جا رہا ہے مگر آجکل کسی کو کچھ کہنے کی دیر نہیں ہوتی کہ خود گھرمیں اپنے بچے ویسے ہی حلیے، چہرے مہرے میں آکر ہمیں تپا دیتے ہیں گھما دیتے ہیں۔ اللہ یہ کیسی تبدیلی ہے؟ کیسی تقلید ہے جو اندھا دھند اپنائی جارہی ہے۔
آج کل تو مہندی کے انداز میں ٹیٹو تک کے اثرات دیکھے جارہے ہیں میڈیا تو پٹری سے پہلے ہی اترا ہوا ہے مزید کیا کیا رنگ دِکھائے گا؟ ہمیں اچھی شخصیتوں کو بھی رول ماڈل یا مثال بنا کر زندگی گزارنی چاہئے تاکہ ہماری نسلیں ان اقدار اور روایات کو برقراررکھیں، صاف ستھر ے پاکیزہ لباس اچھی شخصیت کی آئینہ دار ہے۔صاف ماحول جسم و لباس صاف اور شائستہ ہو تو بندے کا من بھی صاف ستھرا خیالات بھی صاف ستھرے ایک مہذب معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں۔ یہی مسلمانوں کی شان ہونی چاہئے یہی ہماری پہچان، صفائی نصف ایمان کو اپنا کر ہی ہم اپنا تن من دھن پاکیزہ رکھ سکتے ہیں وضع قطع کا تعلق بھی اسی سے جڑا ہے۔ میں کبھی بھی اپنے بھائی بندوں کو نازیبا لباس یا اسٹائل میں دیکھنا پسند نہیں کرتی اور کوئی بھی نہیں پسند کریگا۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ ہم سے حساب مانگتا ہے جس رب نے ان گنت نعمتیں دیکر،سلیم فطرت دیکر اس جہاں میں بھیجا ہے تو ہم کیسے اپنے مقصد کو بھلا کر اس دنیا کی خرافاتی اداؤں میں لگے ہیں؟ حلال روزی کے ساتھ ساتھ ہمارے لباس تراش خراش اورحلیے بھی ہمارا ایک تاثر رکھتے ہیں!! امی کہتی تھیں " کھاؤں من بھاتا اور پہنوں جگ بھاتا"۔ لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں جو جی کرے کھائیں اور بے ہودہ لباس یا انداز اپنا کر معاشرے کے بگاڑ کی وجہ بنیں۔
اسی طرح صرف مرد حضرات نہیں عور تیں اور لڑکیاں بھی معاشرے کے بگاڑ میں کئی ہاتھ آگےجا چکی ہیں ان کےذمہ داران سے بھی ان کا سوال ہو گا اورخود وہ بھی اپنے کرتوتوں کی بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کی ذمہ دار اور دونوں جہانوں میں سزاوار ہوں گی اور اس فتنے سے معاشرے کی بگاڑ کی ذمہ دار ہوں گی اس لئے مجھے تمام لوگوں کو اس صورتِ حال پر ان کی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں پر نظر رکھنے اور معاشرے کے سدھار میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر توجہ دلانی ہے۔ دل آزاری نہیں بلکہ دعاؤں کے ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ نیتوں کو خالص کرکے ایک مہذب اور کار آمد فرد بنانے میں ہر فرد کو اپنا بھر پور کردار نبھانا ہوگا تا کہ رب کو راضی رکھ سکیں۔ تو کیا خیال ہے؟





































