
لطیف النساء
بچپن سے بڑھتی عمر کےساتھ ساتھ ہم کتنی سواریاں بدلتے ہیں بچہ جب نیا نیا چلنا شروع کرتا ہےکتنا خوش ہوتا ہے!اس کو لگتا ہے میں کتنا بڑا کام کر رہا
ہوں؟ پرزے کی طرح ادھرادھر ہشاش بشاش بھاگتا دوڑتا ہے پھرچھوٹی سی سائیکل پھرساتھ ساتھ کار یا اپنے امی ابو کےساتھ بس میں، تو کبھی ٹرین یا ہوائی جہاز میں تک جاتا ہے اور کبھی کشتی کی بھی سیر کرلیتا ہے۔ اب تو گھوڑا گاڑی، گدھا گاڑی اور بیل گاڑیاں کم ہوتی جا رہی ہیں لیکن لگتا ہے۔
اس کمر توڑ مہنگائی میں وہ واپس آہی جائیں گی! بہر حال میں کہہ رہی تھی کہ ایک سواری کا ذکر کرنا تو میں بھول ہی گئی مگر سب کو خود بخود یاد آ گیا ہو گیا جی ہاں رکشہ نہیں، چنچی بھی نہیں بلکہ جی ہاں اسکو ٹر یابائیک کیا سواری ہے؟ عجیب گاڑی ہے یا پھر ہر کسی سے غداری ہے اللہ کی پناہ اتنی زیادہ اور اتنی ضدی سرکش اور اس پر بیٹھنے والوں کی تعداد کی نہ قید ہے اور نہ ہی عمر کی ذرا سا ٹکنے کو مل جائے بس وہ کہیں بھی ہو درمیان میں ہو، پیچھے لگے اسپیئر وہیل پریا آگے پیٹرول کی ٹنکی تو کیا، دونوں ہینڈل کے درمیان، ماں باپ بہن بھائیوں کی گودوں میں تک بچےتو اُن کے اوپر لدھے بستےیا دیگر سامانی تھیلے!کیا عجوبہ ہے۔ ان کیلئے نہ کوئی ٹریک ہے نہ اسپیڈ نہ تو قانون، نہ لائین نہ ہی دیگر لوازمات، ہیلمٹ بھی اگر ڈائیور کے سر پر نہیں تو چلے گا، اسکے باپ کی بغل، بیوی بہن یا بچے کے ہاتھ میں رکھا ہے نا کافی ہے، ہیلمٹ ہے تو صحیح بغیر ہیلمٹ کے تھوڑی جارہے ہیں؟ بالکل آزادفضا میں چلنے والا یہ جاسوس کبھی بھی کہیں سے بھی بر آمد ہوسکتا ہے۔
چار دبلے پتلے،ملے جلے افراد آرام سے کہیں بھی نہتے آدمی، گاڑی یا کسی بھی دوسری سواری کو کیا گھر سے باہر لوگوں کو سرِعام لوٹ سکتے ہیں، ارد گرد سے تو جاتے ہی ہیں ڈبل ریس دیکر یہ تو اوپر سے تک جاتے ہیں اور نیچے سے تک گزر جاتے ہیں بلکہ چلتی گاڑیوں، رکشاؤں کے اندر سے تک ہاتھ مار کر یا کسی راہ گیر کا تھیلا، پرس چھین کر یہ جا وہ جا ہو جاتے ہیں!!!بجلی کی طرح کہیں سے بھی آدھمکتے ہیں اور بجلی کی طرح آڑھے ٹیڑھے گزر جاتے ہیں! جنکو دیکھنے والے تک دنگ رہ جاتے ہیں اور بسا اوقات اپنی جان کی خیرمناتے ہیں۔ اس لئے تو آئے دن حادثات رونما ہوتے ہیں۔ دلخراش اور ناقابلِ یقین کیفیات ہو جاتی ہیں اللہ ہی ہمیں عقل سمجھ دے اور زندگی جیسی امانت کی خود بھی حفاظت کریں اور دوسروں کی زندگیوں اور نقصان کا اپنے سے بھی زیادہ خیال رکھیں۔
دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسی لا پرواہی اورعوام کی ایسی دادا گیری کہیں دیکھنےسننے کو نہ ملے گی!! یہ فٹ پاتھ پر سے بلا خوف وخطر کے دوسروں کی زندگیوں کو خطرات میں ڈال کر گزر جاتےہیں۔ نالوں پرلگےسلیب پر سے بمع فیملی یا اپنی اڑان ٹیم کے ساتھ بآسانی گزر جاتے ہیں اور تو اور حیر ان کن بات جو آج کل دیکھنے میں آرہی ہے اوور ہیڈپلوں سے بھی اسکو ٹر والے حضرات نہ جانے کیسے چلے جارہے ہیں سیڑھیاں کیسے عبور کرتے ہونگے؟ کیسے بائیک کو اتنی اوپر اٹھا کر لاتے ہونگے کیسے اتارتے ہونگے؟ آج ہی شام سپر ہائی وے پر موجود پل پر سے میں نے کئی اسکوٹر سواروں کو دیکھا بعض کو تو سواریوں کے ساتھ یعنی لمبی چوڑی فیملیز کے ساتھ دیکھکر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک نہیں دو نہیں کئی اوورہیڈ پلوں پر یہ وارداتیں ہی کہوں گی ہو رہی ہیں، پان کی پیکیں اورغلاظتیں الگ ہیں، کہاں ہیں قانون نافذ کرنےوالے؟کیا انہیں نظر نہیں آتا؟ کیاعوام پکڑ کر ایسے لوگوں کی درگت نہیں بنا سکتی؟ وہاں کا ٹریفک وارڈن اور دیگر عملہ کیا اتنا بے خبر ہے؟ پھر کس چیز کی تنخواہ لے رہے ہیں؟ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں؟ یہ اوور ہیڈ پلز ویسے ہی منشیات کے عادی اور بھیک منگوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔
کوئی چادر لے کر سورہا ہےتو قدم قدم پرعورتیں اور مرد حضرات کپڑابچھا کرسب کو تا نکتے مانگتے اور بے ترتیبی اور بے رونقی اور گندگی پھیلاتے ہیں، یکہ دکا وزن کرنے والے یا گھڑیا ں، کھلونے، ٹوپی، تسبیح والے بھی بیٹھے ہوتے ہیں کیا یہ ان کی جگہ ہے؟ ان کو الاٹ کی گئی ہے اور آمدنی کھانے والے کون؟ ورنہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی یوں گھیر گھاٹ پر سرِ عام بیٹھ جائے اور دادا گیری سے کمائے؟کیا برکت ہوگی اس طرح کمانےوالوں کی اور کیا ثواب ملے گا اسطرح کی آلودگی اور بے حیائی پھیلانے والوں کی مدد کر کے؟ کیونکہ یہ تو سراسر نا انصافی ہے کہ یوں دھڑلے سے فیملی کی فیملی برسوں سے پلوں، چوراہوں کے نیچے اوپر، کونے کتروں میں بلکہ اب تو بیچ سڑک اورنکڑوں پر تک لوگ اچھے خاصے ہٹے کٹے کیا مرد یا عورتیں لڑکیاں سب بھیک مانگ رہی ہیں اور دین سے بے بہرہ، آخرت سے لاپر واہ لوگ بلکہ ہر دوسر اتیسرا بندہ کبھی بھی کہیں بھی اچا نک پلٹ کر بھیک مانگنے لگ جاتا ہے۔
یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے ہمیں توحکم ہے کہ حلال روزی کھاؤ، محنت کار اللہ کا دوست ہے اور دوسروں کیلئے تکلیف کا باعث نہ بنو پھر ہم یہ سب کیوں کرر ہے ہیں؟ اور کیوں ایسے لوگوں کو ڈھیل دیکر اپنے اوپر مسلط کرتے جارہے ہیں؟ اوورہیڈ پلوں پر بھی کئی جگہ پر دے لگے ہوتے ہیں۔اندر کیاہو رہا ہے پتا بھی نہیں چلتا!انہیں کھلا صاف ستھرا ہونا چاہئے تا کہ و ہ بھی دیکھ سکیں اور انہیں سارا ٹریفک بھی دیکھ سکے کسی قسم کی نازیبا حرکات نہ ہوں نہ ہی چوری چکاری یا چھیڑ چھاڑ کا ڈر خوف ہو ورنہ یہ پل بھی رحمت کے بجائےشدید زحمت کے مترادف ہیں۔ ان پر بھی کیمرے ہوں اور سخت نگرانی ہو ،پان تھوکنے اور کچرا کرنے والوں پر بھاری جرمانے فوری عائد کئے جائیں یا سرِعام ایسی سزادی جائے کہ دوسرا کرتے ڈر ے۔
اچھا شہری اچھا بندہ ایک انسان ہی ہوتا ہے اور مسلمان پھر تو بات ہی کیا! اللہ پر ایمان اور آخرت کا خوف بالکل ختم ہو گیا ہے؟ جو اتنی بے باکی آگئی ہے کیا ہے کیا اللہ پر ایمان اور اثرت کا خوف بالکل ختم ہو گیا ہے؟ جو اتنی بے باکی آگئی ہے۔ بس ا س چھوٹی سی زندگی میں اچھے کام کرلیں کہ ہمارا سفر واقعی بہت ہی مختصر ہے۔ خود بھی آسانی میں رہیں اور دوسروں کو بھی سکون سے رہنے دیں! کرنا کیا ہے؟ صرف احساسِ ذمہ داری اور خدا خوفی سے اپنے ہرکام کو احسن طریقے سے کرتے جائیں۔ آخر ہم مسلمان ہیں۔





































