
لطیف النساء
بڑی ہی خوشی کی خبر تھی کہ کراچی ایکسپو سینٹرمیں سترہواں بین الاقوامی کتب میلہ8 دسمبرسے 12دسمبر تک منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کا پہلا دن تھا
دو تین سال کے بعد کوشش کر کےاپنی اور دیگر بچوں بڑوں کیلئے ہر طرح کی کتابیں خصوصاً اسلامی کتابیں،کہانیاں، بچوں کی سرگرمیاں اوربچوں کیلئے دیگر پزلز آئٹمز، کلینڈرز، اسٹیشنری، جگساس، بلڈنگ بلاکس اوردیگر بے شمار بچوں اور بڑوں کی دلچسپ چیزوں کولینے کا بھرپور موقع ملا۔
بہت اچھا ایکسپو سینٹر کوسجایا گیا تھا۔ اگرچہ ہم تقریبا ًپونے ایک بجے وہاں پہنچے اوراسکولز کی چھوٹی چھوٹی بچیوں یعنی 8سال سے چھوٹی اور چار سال تک کی بچیوں کا ایک گروپ کی لائن دیکھی جن کی معلمہ ان کو لائن میں لگا کر فوٹو بھی لےرہی تھیں اور ان کو ان کے پسندیدہ اسٹال پر لے جارہی تھیں۔ واقعی چھوٹے پچوں کے سامنے کتابیں رکھی ہوں تو وہ ہر کتاب لینا چاہتےہیں۔ دیکھ کر ہی خوشی ہوتی ہےمزید حبیب اسکول اور انڈس اسکول کے بچے بھی کافی تعداد میں نظر آئے جو بڑی دلچسپی سے اپنی اساتذہ کی نگرانی میں کتابیں خرید رہے تھے۔ بڑا اچھا لگ رہا تھا۔ واپسی پر میں نے کھانے کے اسٹالز اور سیڑھیوں پران سے پوچھا بھی کہ کیسا لگا کتابی میلہ؟ لڑکیاں بہت خوش تھیں اورہر چیز کی ہی تعریف کررہی تھیں۔ بے شک انتظامات بھی بہت اچھے تھے ہر طرح کے اسٹالز لگے تھے۔
بلائینڈ ایسوسی ایشن فاؤنڈیشن پاکستان کا اسٹال دیکھا!! اللہ کی شان!کیسے بینائی سےمحروم افراد بھی دلچسپی سے اپنے کاموں میں حصہ لیتے ہیں اورٹیکنالوجی کو بھی مؤثر طور پراستعمال کرکے دنیا کیلئے ایک چیلنج عطا کرتے ہیں۔ ان کے محترم وقاریونس صاحب نے بڑی اچھی طرح اپنا مؤقف بتایا کہ کس طرح ہم بینائی سے محروم افراد کو قابل اور با صلاحیت شہری بناتے ہیں اوراس کوشش کیلئے وہ کیا کچھ کرتے ہیں؟ واقعی یہ باصلاحیت افراد اپنا بہت مہذب معصوم اور مؤثر کردا رکھتے ہیں اور ہم سب کیلئےشکر گزاری اور خوش مندی سے وقت کو مزید اچھا استعمال کرنے کی ایک لگن ایک جو شیلہ شعور عطا کرتے ہیں۔ بیریل کا طریقہ ایک طرح سے آئی ٹی سے منسلک ہو کر کافی کارگر ثابت ہوا ہے جو ان افراد کو کبھی بینائی سے محرومی کا دکھ نہیں دیتے بلکہ وہ اس ٹیکنا لوجی کو مزید بہتر طور پر استعمال کرکے دیگر کو حیران کر دیتے ہیں۔
بچے بڑے خوش اورجو شیلےتھے۔ خوشی ہوئی کہ اتنے سارے والدین، اساتذہ کالج کے اساتذہ طالبات، زیادہ ترطالبات تھیں اورطلباء کی بھی بڑی تعداد تھی اوربھر پور خریداری میں حصہ لے رہے تھے۔ حریم ادب کا اسٹال بھی بہت ہی زبردست تھا وہاں کافی کتابیں خریدنے کو ملیں اور ہرعمر کے بچوں کیلئےاور بڑوں کیلئے بھی کافی ساتھی ملے خوشی ہوئی مل کراس طرح الھدٰی کا اسٹال بھی قابل دید تھا۔
النور انٹر نیشنل اسٹال 13، 14 نمبر میں اسلامی کتب 50% ڈسکاؤنٹ پر تھیں۔ بچیوں کیلئے مذہبی تعلیم مفت دیکر معاشرے میں دین کے نفاذ کا بیڑا اٹھایا بقول سعدیہ ماہ رخ کے واقعی اس میلے نے مختلف لوگوں کومقصد کیلئے ملا دیا۔ سب کا رجحان اسلامی کتب اور اصلاح ہی تھا تمام ہی اسٹالز میں سنجیدگی تھی اور ایک آگے بڑھتے اور کچھ سیکھنے تلاش کرنے کا سفر تھا۔ ہر بندہ، بند ی مصروف تھی۔ مائیں تو بچوں کے اسٹالز پر جلدی جلدی کسی کسی کتاب سے تصاویر دِکھاتی ہوئی کہانیاں بھی سنارہی تھیں! مردوں کا کردار بہت ہی سنجیدہ اور پروقارتھا۔بہت اچھی ڈیلنگ کر رہے تھے۔ ماشاء اللہ کچھ جان پہچان کے لوگ ملے۔ کچھ اسٹوڈنٹس ملے اور بہت خوش ہوئے،ایسے موقع پر علم کی اہمیت کی وجہ سے دی جانے والی عزت واحترام باعث سکون اور باعث خوشی ہوتا ہے۔ بچیوں کو کتابوں میں غرق دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اورروشنی علم کی ہی ہوتی ہے۔ جوان دینی مذہبی اور ہماری اسلامی کتابوں، قرآن،ڈیجیٹل قرآن الگ الگ سپارے یا سورتوں والے مع ترجمہ مناسب قیمت پرمطلب ہدیے میں مل رہے تھے،جیسے یاسین، سورۃ الواقعہ یا سورۃ الملک دعاؤں کی کتابیں یکا دکا مصنفات تک وہاں موجود تھیں جو کتابی لفافے پر اپنی دستخط تک کرکے دے رہی تھیں۔ بہت ہی اچھا لگا۔ وہ خاص بیگز تھیلے جن پر مولانا مودودی محترم کے بقول صرف نماز، روزہ، حج عبادات کا نام نہیں بلکہ صبح شام ہر وقت ہر معاملے میں اللہ کے احکا مات کی پابندی کرنا ہےاوردین کی ترقی کو ترجیح دینا ہے۔ یہ پیغام ہی بندے کو دونوں جہاں میں کامیاب کریگا۔ انشاء اللہ۔ حسن اخلاق زندگی کے طور طریقے،اسلامی تاریخ اور دیگر چھوٹی چھوٹی دعاؤں اور خواہشات کے اسٹیکرز نہایت کم قیمت پر ستیاب تھیں۔ اس طرح کھانے پینے کا پورشن میں اوپر بہت صاف ستھرا اورانتظامات بہت اعلیٰ تھے،بس کچھ چیزیں مہنگی زیادہ تھیں ،جسے بریانی کی پلیٹ بہت ہی زیادہ، اس طرح 50، 60،70 روپے اور 100 روپے تک کی صرف ایک کون نما سموسہ بہت مہنگا، صرف دو چکن اسٹیک ڈیڑھ سو روپے کے۔ بچوں کیلئے دیکھ سمجھ کر ان کی استطاعت کے مطابق اشیاء خوردنی رکھنا چاہئیں، جن میں پھل اور مشروبات بھی ہوں اور مناسب قیمت پر پانی ہر جگہ مفت ہونا چاہئے۔ باقی سب چیزیں بہت اچھی تھیں، صفائی اور سیکیورٹی کا تسلی بخش نظام تھا۔ مجموعی طور پر مجھے بھی بہت ہی خوشی ہوئی اور کافی خریداری کرکے میں شام گھر آئی مسرور اور مطمئن۔ سبحان اللہ ایسی سرگرمیاں ہوتی رہنی چاہئیں۔





































