
لطیف النساء
موت کتنی بڑی حقیقت ہے۔ زندہ اورمردہ میں کتنا فرق ہے؟ واقعی کبھی کتنی انہونی باتیں ہوتی ہیں۔ 16دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول
میں ہونے والے واقعے نے جوالمناک عبرت ناک منظردنیا کو دکھایا۔بزدلی کی انتہا، نہتوں کو گولیوں سےحملہ کرکے دہشت گرد کیا یہی بہادری دکھانا چاہتے تھے؟ اس بات سے بالکل نا واقف کہ یہ بہادری نہیں بزدلی ہے! 13سالہ شہیر شہید کی والدہ کہتی ہیں کہ اس دن نہ جانے کیوں شہیرنماز فجر سے پہلے ہی اٹھ گیا تھا جلدی جلدی ناشتہ کر کےٓاسکول جانے کیلئے تیارٹیسٹ دینا چاہتا تھا ۔ خاموش بولتی آنکھیں،ماں تو ماں ہوتی ہے۔نہ جانے کیوں دروازے تک چھوڑنے گئی۔اس طرح دیگر بچوں کے والدین علم کے ان شہدائیوں کو روزاپنےننھےمستقبل کے معماروں کو حصول علم کے لیےروانہ کرتے ہیں اور پھر انہیں شہیدوں کے رتبوں کے ساتھ وصول کرتے ہیں! اللہ اکبر! جن بچوں کے سامنے انکی ٹیچر کو جلایا ہوگا اور دوسرے بچوں کو گولیوں سے مارا ہوگا تو کتنا دل خراش منظر ہوگا؟
انہیں کیسے انسان کہہ سکتے ہیں؟ وہ یقینا درندے تھے! سیکیورٹی عملےکے پہنچنے سے پہلے درندوں نےبچوں کو گولیوں سے بھون ڈالا!صرف ایک سپاہی نے زبردستی گھس کر فا ئرنگ کی تو دہشت گرد سمجھے کہ ہم پر حملہ ہو گیا ہے۔مزیدتشدد کیا گیا پھر بھی سیکیورٹی عملے نے آکر دہشت گردوں کو تو نشانہ بنا دیا چن چن کر مار دیا مگر معصوم شہداء بھی پیچھے نہ ہٹےاور اپنی سی کوششیں کیں۔ سارا اسکول سیڑھیاں در و دیوار خون میں نہا گئے۔ حدیث کا مفہوم ہے جو علم کی چاہ میں نکلا اور مارا گیا وہ " شہید "تو گویا سبحان اللہ کیسی موت! ادھر گولیوں کی بوچھارسے طلبا خون میں نہا رہے تھے باہر ان کے والدین اور متعلقین خون کے آنسو بہا رہے تھے مگر یہ خون رائیگاں کبھی نہ جائیگا:
موت وہ ہے کہ کرے جس کا زمانہ افسوس
ورنہ آئے ہیں سبھی دہر میں مرنے کیلئے
کتنے خواب تھے کوئی بچہ فوجی بنناچاہتا تھا کوئی ڈاکٹر کوئی پائیلٹ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا جس پر ان کے والدین صابر بھی ہیں اور شاکر بھی کہ یہ رب کی رضا اور عنایت ہے،رہتی دنیا تک ہم لوگ اس المیے کو نہیں بھلا سکتے۔ انسان کتنا بے ضمیر ہو گیا ہے کوئی چیخ، کوئی آہ، کوئی فریاد، معصوموں کے حسین خوبصورت یونیفارم میں موجود وجود انھیں کیا بھاتے بس یہی درندگی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو رب کا بندہ ہی کب مانا کہ اس سے ڈرتے، شرمندہ ہوتے، لیکن ایسے واقعات توہمارا حوصلہ اور ایمان بڑھاتے ہیں اور وقت کی قدرسکھاتے ہیں، اچانک بے یقینی کی کیفیت سے یقین بڑھاتے ہیں اور ہمیں مزید محتاط بناتے ہیں۔ اسکولز کی سیکورٹی، حکومتی سیکیورٹی اور جدید دور کے آلات کا مؤثر استعمال اور قوت ایمانی، دعائیں حصاریہ سب چیزیں بیک وقت مؤثر رکھنا اُنکا خیال رکھنا اوردشمنوں کے عزائم کو نظر میں رکھتے ہوئے ماحول کو محفوظ بنانا ہی ایک مسلمان کا اور معاشرہ کا فرض ہےجسے اپنا کر ہم اس طرح کے المناک حادثات سے خود بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور اپنے بچوں کیلئے تو ہمیں ہر طرح کی تیاری رکھنا چاہئے یہی اسکا سبق بھی ہے اور ذمہ داری بھی اللہ پاک ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے اورہمیں اور ہمارے مستقبل کے ان معماروں کو دونوں جہاں میں عافیت عطا فرمائے آمین۔ 16 دسمبر کے ان ننھے شہداؤں کیلئے ہم دل و جان سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ اللہ پاک انکے درجات نہ صرف بلند فرمائے بلکہ انکے والدین اور خاندانوں اور دیگر اسکول کے عملے کے ہر بندے کو دونوں جہاں میں عافیت عطا فرمائے اور اصل کامیابی آخرت کی کامیابی عطا فرمائے اور ہم سب مسلمانوں کیلئے علم کے ان چراغوں کے نذرانے قبول فرما کر ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنادے۔ آمین یا رب العالمین





































