
لطیف النساء
کتنی اچھی صاف سادہ بات ہے اللہ نرم خو ہے اور نرم خو آدمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو شدت پر اور کسی دوسرے روئیے پرعطا نہیں کرتا۔ اس
حدیث کے تناظر میں دیکھیں آج معاشرے کا کیا حال ہے؟ گھر گھر اجڑا ہوا،بے چین ،بے سکون کیونکہ تحمل برداشت نام کی چیز نہیں، کیا تاجر، کیا مزدور،کیا مرد کیا عورت، بچے بچیاں سب ہی اس خوبی سے دورہیں کیونکہ بڑوں میں بھی اس خصوصیت کا فقدان ہوتا جارہا ہے۔ بچے اپنے بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔ بڑوں کو بھی اپنی اصلاح کی فکرہونی چاہیے اور سدھار کی طرف تیزی سے دوڑنا چاہیے تاکہ غلطیوں کا ازالہ بھی ہو اور عملی نمونہ بھی متاثر کن ہومگر بالکل خالص ریا سے پاک! ہم اپنے چھوٹوں سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں، جب اُن میں اپنے سے زیادہ صبرو برداشت دیکھتے ہیں۔ نرم خوئی اور عاجزی دیکھتے ہیں۔ دوسرے معنوں میں فرمانبرداری دیکھتے ہیں تو کتنی خوشی ہوتی ہے۔ ہمارارب بھی ہم پر مہربان ہی رہتا ہے ہزار ہا کوتا ہیوں اور غلطیوں کے تکرار پربھی ہمیں نواز تا ہی رہتا ہے۔ معمولی سی قدر دانی کا بھر پورصلہ دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہے ناکہ اگر آپ سخت اور تلخ ہوتے تو لوگ خود بخود چھٹ جاتے۔ وہ بندہ عظیم ہوتا ہے جس کی نرم مزاجی اورخلوص ومحبت کی وجہ سے لوگ اس کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں؟ مہمانوں کا آنا رحمت ہے گویا رحمتیں ملتی رہیں تو کتنی۔خوشی کی بات ہے۔ بے لوث اور بے غرض محبت بھی نرم خوبند ے کا وصف ہے۔ اس بھلائی کےباعث اس کے ہزاردوست ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمار امعاشرے میں رویہ کیوں اتنا تلخ ہے؟ ماحول سے بھی ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں اگر چہ متضاد روئیے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ مطلب یامحض کسی مقصد کو پانے کیلئے وقتی طور پر نرم خو ہو جانا کوئی خوبی نہیں ایک طرح کا دھوکا ہے۔
یہ ایک ایسی معاشرتی بیماری بنتی جارہی ہےکہ اگر اس پردھیان نہ دیا گیا تو معاشرہ خیرسے خالی ہی ہوجائے گا۔ہمارے حکمران، ہمارے بعض علماء بعض پروفیسرز اساتذہ بعض ڈاکٹرز اوران کا خصوصی طور پرعملہ بلکہ ہر گورنمنٹ کے اداروں کے ادنیٰ ملازمین، اتنی تڑی اور دادا گیری سے بات کرتے ہیں کہ ہر صورت غرور تکبر ٹپک رہا ہوتا ہے۔
عباسی شہید ہسپتال پرچی پرایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ مشین سےٹیسٹ کروانے کیلئے پرچیوں پر ڈیٹ دلوانے،اندر جانے اور با ہر نکالنے تک میں مریضوں سے وہ بد تمیزی اوربد تہذیبی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کی پناہ! اسی طرح چند ڈاکٹرز! نہ جانے اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ ہزاروں روپے فیسیں لیکر بھی انہیں نرم خوئی نرم مزاجی سوٹ نہیں کرتی۔ وقت کی تنگی چاہے انہیں انہیں جنگلی ہی کردے مگرمریض مریض ہے پہلے ہی افسردہ،پریشان! مزید بے عزتی اس کے لیے ایک اوربےموقع صدمے سے کم نہیں۔ میڈ یا پر جو ٹاک شوز، انٹرویوز اور دیگر گفتگو کے پروگرامز آتے ہیں ان میں بھی سوائے چند اسلامی پر وگرامز کےزیادہ تر پروگرامزحلیے سے توگئے گزرے ہوتے ہیں مگر باتوں میں گرمی نفرت، بغض ہوتا ہے لفظوں کی بمباری فل تیاری، چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں، ادب کی پہچان نہیں کہ جی فری ماحول ہے! نہیں!یہ فری ماحول نہیں! پر خلوصی اور صاف نیت اور حکمت و دانائی کی باتیں مہذب لہجے مؤثر انداز ہی لُبھاتا ہے۔
تونے الفاظ کی تاثیر کو پر کھاہی نہیں
نرم لہجے سے تو پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
اب یہ ہم پر ہے کہ ہم کبھی خیر سے محروم نہ ہوں کہ بچوں سے ہمیشہ بلکہ ہر کسی سے اچھے انداز میں نرم لہجے میں بات کی جائے گویا منہ سے پھول جھڑ یں! قرآن میں میں ارشادہے ناکہ لوگوں سے اچھی بات کرو، اگر اچھی بات بھی غرا کر ہی کی جائے تو سمجھو اپنا اثر کھو بیٹھتی ہے بلکہ الٹانقصان دہ ہو جاتی ہے۔ اب تک جوہو گیا ہو چکا اب ہمیں اس حدیث کو پہلو میں باندھ لینا چاہیے کہ لوگوں سے نرم لہجے میں ہمیشہ اچھی بات کی جائے۔ برائی کا جواب بھی پیار سے اچھا دیا جائے تو دیکھیں طبعیت میں سکون آئے گا اور یوں افراد کا سکون معاشرے کا امن بن جائیگا۔ وہی فرق ہے" تعال " اور " حیی "میں بس جو یہ جان گیا وہ سب کچھ مان گیا۔ بچوں کو بھی پیار سے پکارو ان کا رویہ کچھ اور ہوتا ہے۔ جھنجلا کرپکا رو تو وہ بھاگ جاتے ہیں یا سہمے ہوئے آتے ہیں دونوں صورتوں میں فرق ہم ہی نے پر کھا ہے۔ لہٰذا قصور وار ہم ہی ہوئے بچہ بے ادب نہیں مان لیں جان کہ اب تک تو:
میں ہی قصور وار تھا اپنے قصور کا
الزام اب کے بار بھی میرے ہی سر گیا
اپنی غلطی کو تسلیم کر لینا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہم کل سے زیادہ آج عقل مند ہیں۔ اللہ سب کو عمل کی توفیق عطا فر مائے۔ اپنے ملازمین، چوکیدار، ماسیوں، مالیوں، نوکروں، خانساموں، خادموں سے آپ جناب کرکے بات کریں میٹھے لہجے میں پھر انکا رویہ دیکھیں! تو تڑاک، لوفر زبان بد تہذیبی ہے۔ وہ اپنی محنت بیچتے ہیں،خدمات دیتے ہیں،عزت نہیں! یاد رکھیں کر بھلا ہو بھلا درست بات ہےجو بو گے دہی کاٹو گے۔عزت دو گے عزت ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عزت عطا فرمائے۔





































