
لطیف النساء
شام ہوتے ہی عجیب عجیب خیالات آرہےتھے۔ پچھلے سال بلکہ اسی سال ہم نے کیا کچھ کھویا اورکیا کچھ پایا۔ بہت زمینی اور آسمانی آفات کا سامنا ہوا رب کا شکرہے ہزار باراس
نے اپنی رحمت دِکھائی اور کرم کیا۔ کیا بارشیں، کیا گرمیاں، کیا بیماریاں اور حادثات اورکیاہی میڈیا کی خرافات، کیا حکومتی اختلافات، کیا جلسے کیا جلوس!اور ہم لوگوں کا خلوص! اللہ کی پناہ، شکوے ہی شکوے مگر اتنی مشکلات، مصائب، مہنگائی اور آفات اور بیماریوں، حادثات کے باوجود ہمارےرویے،ہمارے جذبات، ہمارے دوسروں کیلئےخیالات، خود جائزہ لیں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کیا کیا؟ دوسروں کیلئے کتنی قربانیاں دیں، کتنا رب کا شکر ادا کیا؟
اس رب کی کتنی قدردانی کی۔ آج صبح بھی وہی اللہ کا ایک نیک بندہ! صبح فجر کی اذان کے بعد صدائیں دیتا گزرا کہ بھائیوں نمازکا وقت ہوتا جا رہا ہے۔ چلو نماز کیلئے،نماز کیلئے آؤ، آج جمعہ ہے۔اس کی تو یہ ذرا سی کوشش تھی مگر اہلِ ایمان کو نماز کا انتظار، اذان کی اس کے سننے کی چاہ ہونی چاہیےاور دوڑ کر جانے کی فکرہونی چاہیے۔رزق تو رازق اس کو ہی دیتا ہے تو کیا ہمیں اپنے رازق کی خوشنودی اورشکر گزاری کی فکر نہیں ہونی چاہیے؟میں سوچ ہی رہی تھی کہ اللہ تو ہے ہی کریم ہم پر جو مصیبتیں آتی ہیں وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
ہم گھنٹوں بحث کرتے ہیں مگر کرنے کے کام کیا ہیں؟ امر بالمعروف و نہی عن المنکر! کیا یہ ہم کرتے ہیں؟ خود اپنا ہی تجزیہ کریں۔ خود احتسابی کریں۔ خود کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کرکے خود ہی اپنے آپ سے سوال کریں۔ جواب سنیں، کتنا رشتوں کو کیسے نبھایا، کیسے فرائض کی ادائیگی کی۔ کتنوں کی دکھ درد میں مدد کی اورآخرت کے لیےکیا کیا؟ دکھا واتھا۔ریا تھی یا لوگوں میں شہرت اورناموری کی چاہ تھی؟ بس ہم جانتے ہیں اورہمارے نیت لیکن رب تو سب جانتا ہے۔ وہ تو آنکھوں کے اشارے اور دلوں کے رازجاننے والا ہے۔کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا؟ میڈیا نے حد کردی بلکہ جگہ جگہ حدود توڑے گئے۔ بچے بچیوں کے اغواء،قتل، لوٹ مار،بے حرمتی، زیادتی، چھینا جھپٹی کی ہلاکتیں، مانا مہنگائی ہے مرتا کیا نہ کرتا؟ مگر خوفِ خدا! سلیم فطرت، احساس جواب دہی! آخرت! انجام کیا یہ بالکل دل سے نکال چکے ہیں۔ ایسے ایسے واقعات کہ رونگھٹے کھڑے ہو جائیں!ہم صرف نام کےمسلمان ہیں۔ کیسے چلے گا؟ بالکل نہیں چلے گا۔کردار ہی ہماری اصل پہچان ہونی چاہیے نا! قطر کے لوگوں نے کیسے دل جیت لئے!کیسے ہر لحاظ سے اقامتِ دین کا کام کیا؟ کیسے لوگوں کی سوچ بدلی؟ شکر الحمدللہ انسانیت باقی ہے۔
مسلمان کبھی نا امید نہیں ہوتا مگراپنے عمل سدھارکر رب کی خا طر رب کے احکامات پرعمل کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہی اصل بات ہے ورنہ جو ہم ہیں! حیا نہیں، جواب دہی کا خوف نہیں تو جو جی چاہے کرو!!زندگی کا ہر گزرتا لمحہ ہمیں موت سے قریب کر رہا ہے لمحات گھنٹو ں اور گھنٹے دنوں میں بدل کر سال ہی بدل دیتے ہیں، حالات بھی مستقل بدلتے جا تے ہیں۔ سمجھیں ایک دن میں سال بدلنے والا ہے دسمبرجانے والا ہے۔ ایک سال زندگی میں زیادہ ہو جائیگا عمریں بڑھیں گی انشاء اللہ، مگر زندگی کم ہو گی!!ہے ناسوچنے کی بات؟ گلے شکوے چھوڑ کر رب کی خاطر اختلافات ختم کر کے دکھی انسانیت کو سمیٹیں، رشتوں کے تقدس کو نبھائیں۔ بس جی دوست نے ایسا ہی پیغام بھیجا کہ جی چاہا یہی حل ہے کیا کرتا ہے؟ کہا چلو ایک کام کرتے ہیں! جی سنو تو! اچھاسنتے بھی ہیں پڑھتے بھی ہیں۔ لکھا تھا:۔
چلو ایک کام کرتے ہیں دسمبر جانے والا ہے
پرانے باب بند کر کے نظر انداز کرتے ہیں
نئے سپنے سبھی بُن کر الفت کے راستے چن کر
وفاداری یہ جینے کی راہیں ہموار کرتے ہیں
بھلا کر رنجشیں ساری مٹا کر نفرتیں دل سے
معافی دے دلا کر اب دل اپنے صاف کرتے ہیں
جہاں پر ہوں سبھی مخلص نہ ہو دل کا کوئی مفلس
ایک ایسی بستی اپنوں کی کہیں آباد کرتے ہیں
جو غم دیتے نہ ہوں گہرے ہو سانجھی سب وہاں ٹھہرے
سب ایسے ہی مکینوں سے مکاں کی بات کرتے ہیں
نہ دیکھا ہو زمانے میں نہ پڑھا ہو فسانے میں
اب ایسے جنوری کا ہم سبھی آغاز کرتے ہیں۔۔۔
انشاء اللہ! اللہ نیتوں کا جاننے والا ہے۔ سب کومعاف کریں اورصرف اپنا فرض نبھائیں۔ اپنی فکر کریں۔ ہمارے اعمال کا ہمیں ہی جواب دینا ہے۔ کوئی اور میرا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ پاک ہم سے ایسے کام لے لے جس سے وہ راضی ہوجائے اور ہمارا انجام خیرہو کیونکہ اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ وہی کامیابی ہمیں مطلوب ہے اور اس کامیابی کیلئے نیک نیتی سے احکام الٰہٰی پر عمل اور شریعت کی پابندی ضروری ہے۔ بس سب کیلئے اور اپنے لئے یہی دعا ہے کہ:۔
اے خدا نورِ ہدایت دے ہم کو
راہنما ہو میرا قرآن مجید





































