
لطیف النساء
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان رزق کی تلاش میں ہی سرگراں رہتا ہے۔ بچپن سے ہی اس کے والدین اور شایدوہ خودایسی تعلیم ایسا ہنر سیکھنے کے چکر میں ہوتا ہے جس میں وہ
زیادہ پیسہ بنا سکے جبکہ تعلیم کا مقصد ہی معاشرے کا فعال اور مہذب انسان بننا ہوتا ہے جو دوسروں کیلئے نفع بخش ہو۔
رزق کی کئی اقسام ہیں۔ صرف کھانے پینے کی اشیا ء یا روزی روزگا ر ہی رزق نہیں ہوتا۔ یہ رشتے ناطے، یہ صلاحیتیں، یہ آسانیاں، یہ دوست احباب، یہ جوانی صحت، کاروبار، حسن و جمال، ہنرٓاور دیگر فنکارانہ صلاحیتیں، کھلی فضا، خوش گوار دوستانہ پُر امن ماحول سب بھی ایک طرح کا رزق ہیں اور ان سب کا بندوبست کرنے والا وہ خالقِ وہ مالک وہ رازق رب ہے جورب العالمین ہے۔
میری دوست نے ایک واقعہ سنایا تو واقعی دماغ کے کچھ پردے کھلے اور واقعی رازق اوررزق کا مفہوم سمجھ آیا کہا کہ "ایک بوڑھا ممنون نگاہوں سے لوگوں کو دیکھ رہا تھا، روتا جاتاتھا پھر جوسوچاہو گا جو زبان سے کہا ہوگا کیونکہ اس کی آواز عرش تک ضرور پہنچی ہوگی۔ بوڑھا بو جھل قدموں سے چلتا جا رہا تھا،ایک ٹیکسی والے نے اس بوجھل قدم اٹھا تے بوڑھے کو دیکھ کربریک لگائی اورپوچھا کہاں جاؤ گے؟ بوڑھے نے سامنے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا اور کہا اس پہاڑ کے پیچھے نکڑ پر میرا گھر ہے۔
ڈرائیور نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کچھ دیر خاموش رہا پھر راستے میں اس سے پوچھا کتنا کرایہ دو گے؟ بوڑھے نے نم آنکھوں سے دھیمی آواز میں کہا گھر پہنچ کر بہت مال دوں گا۔۔ گاڑی جب گھر کی دہلیز پر پہنچی دروازہ کھلا تو کچھ چھوٹے بڑے معصوم بچوں نے دوڑ کر اپنے بزرگ بابا سے لپٹ کر روتے ہوئے پوچھا بابا آج ہمارے لیے روٹی لائے ہیں یا کل رات کی طرح آج کا دن بھی فاقے میں گزرے گا؟ باپ بچوں کی حالتِ زار دیکھ کر بہت دکھی اور شرمندہ ہوا واقعی غم اور فکر آدھا بڑھاپا ہے پھر روتے ہوئے اس نے اپنے بچوں سے کہا۔ ابھی تک مجھے کچھ نہیں ملا مگر میرے بچوں بہت جلد اللہ پاک اپنا رزق پہنچائیں گے۔ ڈرائیور پر بچوں اورباپ کی یہ گفتگو سن کربڑی ضرب لگی۔ وہ جلد ی واپس ہوٹل گیا بھوکے بچوں کیلئے کھانا لیا اورجاکر ان معصوم بچوں کے سامنے کھانا رکھ دیا جو وہ منٹوں میں چٹ کر گئے۔پھر اسی نیت سے وہ ڈرائیور چپ چاپ شہر کی جانب چل دیا کہ ان بھوکوں کی آگ میں کسی طرح بجھا دوں کہ اسے سامنے سے کچھ سیاح ملے کہنے لگے ہمیں ائیر پورٹ جانا ہے انھوں نے بغیر پوچھے اس کا کرایہ ایک سو100 دینار دے دیا جبکہ اتنی مسافت کیلئے صرف بیس پچیس بنتے تھے۔
اسی طرح واپسی پر بھی ایک اور سواری ملی انہوں نے بھی تقریباً سو دینار دے دیئے۔ اب وہ یہ مزد وری لےکر بازار آیا اور اس بزرگ کے بچوں کیلئے روٹی اور کچھ مزید اشیائے خورد نوش لیکر ان بچوں کے پاس گیا اور کہا کہ میر ے بھائی میرے رب نے تیری وجہ سے یہ رزق چند ہی گھنٹوں میں دیا۔ لے اپنا حصہ اپنے پاس رکھ۔۔۔۔ بوڑھا تو حیران رہ گیا اور ممنون نگاہوں سے دیر تک اسے تکتا رہا۔ اس طرح وہ اپنے آنسو احساس "شکر گزاری کے آنسو "نہ روک سکا اورتکتا۔ پھر اس نے زبان سے یا دل میں جو کچھ بھی کہا ہوگا ضرور اس کی آواز عرش تک پہنچی ہوگی۔
واقعی" اصل رزق تووہ ہے جورب کی مخلوق کے کام آئے ورنہ خزانے تو قارون کے پاس بھی تھے۔اس کہانی کے تناظر میں آج جب ہم اپنے ماحول کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ہم اپنے رازق کی ناشکری کر جاتے ہیں۔ ضرورت مند بھی بسا اوقات صاحبِ حیثیت ہی نظر آتے ہیں مگر ان کا مانگنا کم نہیں ہوتا۔ خودداری کھوگئی ہے نعمتوں کی قدردانی اور شکر گزاری نہیں۔ تو کہیں بلا ضرورت پوری مافیا موجود ہے۔ مانگنے والی پوری پوری فیملیاں ہیں جو پیشہ ور ہیں۔ ورنہ محنتی اور شکر گزار بندہ تھوڑے پر بھی قناعت کر جاتا ہے۔
اس کے ہاتھ نہیں اٹھتے ایسے میں لوگوں کا صحیح معنوں میں حق ہوتا ہے۔ مگر یہ پیشہ ورانہ فقیر تو انکا جائز حق تک مار جاتے ہیں اور مستحق لوگ تشنہ رہ جاتے ہیں یہ بھی بڑا امتحان ہوتا ہے کسے دیں کسے نہ دیں؟ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے وہ کن کن ذرائع سے لوگوں کی مدد کرتا ہے انہیں خبر تک نہیں ہوتی یہ بندوں کا کام ہی نہیں۔ بندوں کو تو رب کی تقسیم پر شاکراور صابر رہنا چاہئے۔ معاشرے میں تو توازن کے بگاڑ کی وجہ ہی غیر اخلاقی غیر مہذب حرکات ہیں امیر کبھی بھی سکھ نہیں پا سکتے۔ نہ محفوظ رہ سکتے ہیں جب تک وہ غریبوں کا حق ادانہ کریں۔ ان کی انا کو ٹھیس پہنچائے بغیر ورنہ یہ غربت بسا اوقات بھیانک جرائم کو جنم دیتی ہے۔ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اگرادا کر دی جائے۔ نا انصافی نہ کی جائے تو دونوں سکھی رہتے ہیں۔ اللہ تعالی نے خیرات، صدقات، زکوٰۃ اسی لئے رکھے ہیں تاکہ پیار محبت اورہمدردی کا رشتہ انمول رشتہ ہمیشہ معاشرے کو زینت دیتا رہے کہ یہ دنیا تو امتحان گاہ ہے ۔ کسی کو دیکر آزمایا جا رہا ہے تو کسی کو محروم کر کے لیکن ہمیں اپنے انجام پر نظر رکھتے ہوئے ہر کام مخلص ہو کر اللہ کی رضا کیلئے کرنا چاہیے۔ نہ دکھاوا اور نہ بدلہ بلکہ خالص رب کی خوشنودی اور حکم کی بجا آواری کیلئے ہو ۔۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تمہیں جو رزق ملتا ہے وہ تمہارے کمزوروں کی وجہ سے ملتا ہے۔ جسے ہم اپنا انعام اور حق سمجھ کر گلچھرے اڑاتے،اتراتے غرور دِکھاتے ہیں حالانکہ جس کے پا س جتنا زیادہ ہے اُس کا امتحان بھی اتنا ہی سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے مال میں آپ کے رشتہ داروں اور کمزوروں کا حصہ رکھا ہوا ہے۔
ہمیں اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے اور دعا کرتے رہنا چاہیے کہ ہماراہا تھ اوپر والا بنا اورہم عمل بھی وہی کریں،جس سےتو راضی ہوجائے۔ کسی کی خودداری کو مجبوری کو چیلنج نہ کریں ۔ بس اپنا انسانیت کا حق ادا کریں تو یہ معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔ معاشرے کا سکون اور تواز ن برقراررہے گا یہی انسانیت ہے۔انسانی حقوق کی پاسداری ہی دراصل ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
لطیف





































