
لطیف النساء
انسان بڑا ہی جلد بازاورنا شکرا ہے بس فوراًہرچیز مل جائے۔ ذراصبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ اسی وجہ سےوہ خود ہی بے چین رہتا ہے۔
زندگی کے ہزارہا معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں سے مقابلے پراترآتا ہے۔ غور و فکر توکرتا ہی نہیں اورنہ ہی دوسروں کا اعتبارکرتا ہے لیکن ساری بات دین کی تعلیم کی ہے! اس کی وجہ سے ہی لوگ جاہلیت کی باتیں کرتے ،خود کو اورمسائل کو سمجھتے ہوئے رب کا شکر ادا نہیں کرتے ہیں۔
عورت واقعی ناقص العقل ہوتی ہے لیکن مانتی نہیں۔ میں نے ایک واقعہ پڑھا تھا۔واقعہ کیا بس سمجھیں آنکھیں کھولنےکیلئےسوال جواب تھے کہ ایک عورت اپنے آپ کو ہمیشہ کم نظراورکمزورحقیرسمجھتی تھی ۔یہ کوئی بری بات نہیں ، مجھے تو وہ دُعا یاد آگئی کہ اے اللہ مجھے اپنی نظر میں کمزور کمتراور اپنی اور دوسروں کی نظر میں معتبر بنادے (آمین)بس یہی توعاجزی ہےمگر نہیں ہم تو مقابلے پرہی اڑے ہوتے ہیں ۔ خاص کر اس ٹیکنالوجی اورمیڈیا کی دوڑنےتو ہمیں پٹؑڑی سےہی اُتار کرخود سراور خود غرض بنا دیا ہے۔ میں اورمیری مرضی کی تونوبت آنی ہی نہیں چاہیے۔بہرحال اس عورت نے تنگ آ کرکسی عالمِ دین سے پوچھا:۔ اسلام نے ہمیں شوہرکا فرمانبرداربنایا ہے اور ہمیں شوہرکی فرمانبرداری اوراطاعت کا پابند کیوں بنایا؟
عالم نے پوچھا:اس شوہرسےجس کی تم فرمانبردارہو کتنے بیٹےہیں؟ عورت بولی:کہ ماشا ء اللہ اس سےتو میرے تین بیٹے ہیں۔توپھراس عالم نے جواب دیا: اللہ نے تو تجھے ایک مرد کی اطاعت کا حکم دیا اوران بیٹوں کی صورت میں تین مردوں کوتیری اطاعت کا حکم دیا کیونکہ تیرے ساتھ اچھاسا معاملہ کئے بغیروہ جنت میں ہرگزنہ داخل ہوسکیں گے۔ اب ذرا تو ہی بتا زیادہ پابند کون ہے؟سبحان اللہ! کیا خوبصورت اور قابلِ غورجواب ہے ہم میں سے خواتین ہی کو کتنے حقوق ملے ہیں کتنے رتبےملے ہیں۔
کسی کے دو، چار اور دس دس تک بیٹے جیسی نعمتیں ملی ہوئی ہیں اورپھر رحمتیں بیٹیوں اوربہوؤں کی شکل میں ملی ہوئی ہیں!ان کی تربیت اورکردار سازی کو ہمارا مشن قراردیا گیا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم پورے معاشرے کی تعلیم ہے اور سدھار ہے، بگاڑ نہیں۔
کہیں کہا گیا کہ"وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ "! آج ذرا اپنے حلیوں پر، فیشن پر،بے حیائی فحاشی اوردکھاوے کو دیکھیں؟ مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی دین سے دوری دیکھیں؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ہماری کیا اوقات ہوگئی ہے ۔ ہم کیا تھے اور کیا کر رہے ہیں؟ اگر عورتیں،مائیں،بہنیں قانونِ فطرت کی دین کی مکمل پاسداری کریں۔ امہاتُ المومنین کا سا کردارادا کرنے کی محض حقیقی کوششیں کریں تو آج بھی ہم اپنے معاشرے کوبلند اور سرخرو کرسکتے ہیں۔
نسلوں کی تعمیرکویوں معمولی نہ سمجھیں! یہ بڑی قربانی مانگتا ہے۔زندگی بھرکی قربانی، تنگی بنا آسانی سےمل سکتی ہے؟ یہ تو احترامِ آدمیت ہےایک مرد کی عزت اور وقار ہے۔ اس کی قوامیت کا انعام ہےجو رب نے دیا ہے۔ آج کروگے تو کل بھروگے۔ کر بھلا ہو بھلا۔ ویسے بھی اللہ نےمردوں کو فوقیت دی ہے کیونکہ وہ اپنا مال خرچ کر تے ہیں اورہمیں عزت احترام اور تحفظ دیتے ہیں ، اگرتو واقعی وہ خوف خدا رکھنے والے حق ادا کرنے والے محنتی اور جفا کش خوب سیرت افراد ہوں تو بہت ہی بڑی خوش نصیبی ہے اورسبحان اللہ! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں۔ لا کھ دشواریوں کے باوجود ہمارے مرد حضرات اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ زیادہ ترسخت ترین حالات میں کما کر لاتے ہیں گھر چلاتے ہیں۔
اگرچنداس کے متضاد بھی ہیں تو معاشرے میں کالی بھیڑیں ہرجگہ ہوتی ہیں۔ ان کو بھی اچھے ماحول اورتربیت کی ضرورت تھی اورہمیں بھی اپنا رول درست کرنا ہوگا۔مقابلہ نہیں، مصالحت کے ساتھ ان کو معاشرے کا مفیدکارآمد بنانے میں مزید ایمان داری محنت محبت اورجانفشانی کا ثبوت دینا ہوگا۔ہربات پر شکایت شکوہ ناشکری ناقدری میرے رب کو نہیں پسند۔ صبرشکر سےرہیں گے تو اللہ ضروراورنوازے گا اور پھر ہمیں کبھی اس قسم کے سوالات دماغ میں نہ آئیں گے۔
اللہ نے جو بھی خیرہمارے لئے اتاری ہے بے شک ہم اسی کےتومحتاج ہیں۔غرض مجھے یہ بات بہت اچھی لگی کسی نےکیا خوب کہاہےناکہ تم مجھے اچھی مائیں دو ہم تمھیں بہترین معاشرہ دیں گے"!واقعی درست ہے سوچئے گا ضرور کہ آج معاشرے کے سدھار میں ہمارا کتنا حصہ ہے اور کیا رول ہے؟ اللہ ہمیں عقل سلیم ادا کرے اور ہما را عمل سدھارے۔ آمین





































