
لطیف النساء
ہم کیسےمسلمان؟دین کے تقاضےنہ سمجھیں۔ میں نےخوب پڑھاہےکہ نکاح کرنا دین کا تقاضا ہےاوراس سےاعراض کرنےوالا رسولؐ سے تعلق
کاحق دار نہیں کیوں؟ کیونکہ اولاد طلب کرنا انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ شادی کا مقصد بھی اولاد اوران کی اچھی تعلیم وتربیت اور اچھے معاشرے کی تشکیل ہوتی ہےلیکن عجیب بات ہے میں نے بچپن سے اب تک کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو اچھےخاصے پڑھے لکھے سروس کرنے والے صاحب حیثیت ہوتے ہیں مگر شادیاں نہیں کرتے۔ ہمارے سامنے کے گھرمیں تین بہن بھائی اور ان کے والدین رہتے تھے، جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے،وہ اس وقت شادی کے لائق تھے ، پھر ہم سب بڑے ہو گئے سارے ہی بہن بھائیوں کی شادیاں ہوئیں۔اللہ کا شکر ہے اللہ سب کوسلامت رکھے۔ اللہ ایمان کی بہترین حالت میں رکھے اور ماں باپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے (آمین) مگر سامنے والوں کے ہاں شادی نہ ہوسکی۔ سب سےبڑے بیٹے تو ہمارے ابا کےآفس میں ہی اچھی پوسٹ پرہوا کرتےتھے۔پھر آہستہ آہستہ ہمارے ماں باپ گزرگئے اور ان کے بھی پھرایک دن اچانک ان کے بڑے بیٹے کے گزرنے کی اطلاع ملی۔چند سال بعد دوسرے چھوٹے بھائی کے انتقال کی خبر ملی اورپھر پچھلے سال منجھلی بہن جو کافی بوڑھی ہوچکی تھیں انتقال فرما گئیں نہ جانے کیوں ان کے گھر لوگ بہت کم آتے تھے۔ ایک حصے میں وہ لوگ رہتے تھے اور تین حصے کرائےپرتھے۔
اللہ تعالیٰ سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے، یہی نہیں عزیز رشتہ داروں میں بھی کافی لوگ ہیں لڑکیاں تو چلیں بے بس ہو تی ہیں کہ جی رشتے نہیں اچھے لگےمگر لڑکوں کیلئے یہ بات سمجھ سے باہر ہے! اسلام میں مجرد رہنا منع ہے۔ پھر کیا وجہ ہے؟ دوہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ دین کی کمی مطلب دین سے دوری یا شعور نہیں تو یا پھر لالچ، ہوس زیادہ کی یا خوبصورتی کے معیار کی یا پھر مستقبل میں آنے والے اخراجات سے ڈر جانا وللہ علم مگر جو کچھ بھی ہوا بہت غلط ہے۔
خالق پرتوکل لازمی ہے۔ والدین بھی نہ جانے کیوں ان کی وقت پر شادی نہیں کرتے اور بعد میں ہاتھ ملتے رہ جاتےہیں۔ اس کے برعکس بھی میں نے دیکھا ہے کہ چھوٹی عمر میں کم کمائی کرنےوالے بالکل نوجوان لڑکوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں اور وہ اتنے ذمہ دار محنتی اور باادب ہو جاتے ہیں کہ معاشرے میں مثال ہوتے ہیں۔ایک گھر میں تین بڑی عمر کی خواتین دوبہنیں سگی اور ایک خالہ زاد بہن بے بسی کی حالت میں رہ رہی ہیں ، چاربھائی تھے کسی کی بھی شادی نہ ہوئی۔ بڑے تھے صرف ایک چھوٹے بھائی کی شادی بعد میں ہوئی وہ بھی باہر چلےگئے نہ جانے کرایہ آتا ہے یا کچھ بھائیوں کی پینشن، وہ بہنیں جن میں سے دو بسترکی ہیں اور ایک کرسی کے سہارے چلتی ہیں اکٹھا رہتی ہیں۔کیسے گزر بسر کرتی ہو نگی؟ ایک کھانا پکانے والی ماسی آتی ہے کچھ پکا کر کچھ کام کر جاتی ہے۔ جب ایک دن ہم ملنے گئے دروازہ نہ کھلا بیل بجانے پربھی کوئی نہ آیا۔ پڑوسی کے صاحب نے پوچھا آپ کو ان پگلیوں کے گھر جاناہے؟ سُن کر دکھ ہوا نام سے جان گئے کہنے لگے بیل بجاتے رہیں دیر سے آ کر کھولیں گی۔ مجھے بڑا افسوس ہوا کر سی سے گھسٹتے ہوئے ایک چھوٹی بہن نے آکر دروازہ کھولا۔ ہم کئی سال بعد ان کے گھر گئے تھے۔ سب بہت خوش ہوئے ،یہی کہنے لگیں کہ اگر ہمارے بھائیوں نے شادیاں کی ہوتیں تو ہم یوں تنہا نہ ہوتے؟ بچے بچیاں بھابیاں ہوتیں! ہمارے لئے دعا کیجئے۔ اس طرح کے حالات بعض گھروں میں نظر آتے ہیں۔ کہیں اکلوتے بیٹے ہیں کہیں دو دو تین تین مگر غیر شادی شدہ! اللہ اکبر بڑے عمروں کوپہنچے ہوئے ہیں ہمارا مذہب توبڑی عمر میں بھی شادی کومنع نہیں کرتا بلکہ تنہا رہنے کو منع کرتا ہے تا کہ فساد نہ ہو مگر نہ جانے کیوں نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے؟دوسری تیسری شادی کی تو نوبت ہی نہیں، پہلی ہی نہیں ہو رہی جبکہ بگاڑ تو اتنا پھیل رہا ہے کہ اتنے بگڑے مرد حضرات دو دو تین تین بچوں کو چھوڑ یہ جا وہ جا ، نہ کوئی خرچہ نہ ذمہ داری ایسے منہ موڑا کہ بچوں کو خودزندہ ہوتے ہوئے یتیموں سے بد ترچھوڑا!نہ احساس ذمہ داری ،نہ ہی وفاداری اللہ کی پناہ مائیں کس طرح گزارا کر رہی ہیں وہی جانتی ہیں۔
یہ تو اور بھی غلط ہے معاشرے کا یہ رویہ بھی بہت ہی عام ہوتا جارہا ہے کہ مرد حضرات کمانا ہی نہیں چاہتے مار کٹائی لگائی بجھائی اور کچھ نہیں۔ گھر کو جہنم بنانے کا کسی کوحق نہیں۔ کہیں میڈیا کی ماری لڑکیوں نے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ شوہروں کو ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں۔ شوہروں کو مُٹھی میں لیا ہوا ہے ۔
والدین گئےبھاڑ میں، میں اور میرے بچے میری مرضی، باہر کے کھانے، مرضی کے زمانے صرف ہم تم باقی گم۔ ابھی ایک محترمہ بتا رہی تھیں پانچ بچوں کی تربیت کی چھوٹی عمروں میں شادیاں کیں ایک بچی کے شوہر نے قیدیوں کی طرح رکھا ہے۔ صبر سے وہ رہ رہی ہے۔ دوسری کا شو ہر کم کماتا ہے مگر وہ خود سلائیاں کر کے خرچہ پورا کرلیتی ہے۔ شکر ہے جبکہ آنے والی تینوں بہوئیں شوہروں کو تگنی کا ناچ نچاتی ہیں۔ باہر کے کھانے گھومنے گھمانے سے فرصت نہیں گھراوروالدین کی فکر نہیں۔ ماحول بنانا ہی نہیں جانتی، لڑکوں کو سمجھاؤ تو کہتے ہیں ہم کیا کریں ہماری کب سنتی ہیں؟ پہلے ہم بڑوں کی سنتے تھے برداشت کرتے تھے اب چھوٹوں کی سنتے ہیں اور پھر صبر کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہی انہیں نیک توفیق دے لیکن بہرحال ایک محنتی مناسب حلال کمائی کرنے والے بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ تنہا رہےاوراس کے بوڑھے ماں باپ اس کے نخرے اٹھائیں۔
یہ بھی ظلم ہے اوریہ بھی ظلم ہے کہ وہ کہیں اوردور اکیلا رہے اورماں باپ کو تنہاچھوڑ دے!ہربندہ اکیلا آتا ہےاکیلا ہی جائے گا اوررب کے حضور ضرور جواب دہ ہوگا اپنے ہرعمل کا،اپنی جوانی اور وقت کا اور دیگر صلاحیتوں اور نعمتوں کا!کیا ہم مسلمان نہیں؟ الحمد اللہ، اللہ کو ہی مانتے ہیں تو کیا اللہ کی نہ مانیں گے؟





































