
لطیف النساء
دنیا میں تمام ہی بچوں بڑوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم کسی بھی میدان میں کام کر رہے ہوں، کہیں بھی تعلیم حاصل کر رہے ہوں، ہم سب
سےبلند مقام پرہوں اورسب سےآگے ہوں یعنی اسکول لیول سے لیکرآفس اوردیگر تمام ہی معاملات میں اُس کی درینہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ" اے ون گریڈ" حاصل کرے یعنی اسے بلند در جات چاہئیں، یقیناًایسا ہی ہےمگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر کامیابی کے پیچھے خلوصِ نیت اورسخت محنت درکار ہوتی ہے مطلب کام بنا راج نہیں اورراج بنا تاج نہیں۔
پیارے رسول ﷺنے فرمایا ہے کہ "اللہ تعالیٰ اپنےاُن بندوں کو بلند درجات (گریڈ اے ون)عطا فرماتا ہےجو نفس پر کنٹرول رکھتے ہیں!"یعنی جو تم سے جہالت برتے تم اس کےساتھ بردباری سےپیش آؤ جو تمہیں نہ دے۔اس کو دو اور جوتم پر ظلم کرے اسےمعاف کر دو، جورشتہ دار تمہارےحقوق ادا نہ کرے تم اس کےحقوق ادا کرو" کتنےچھوٹے جملے اور کتنے بھاری کام! اللہ اکبر! عام زندگی میں ہمیں ان حالات اوررویوں کا عموماً سابقہ پڑتا ہے اور دل پسیج کررہ جاتا ہے! کہاں سےلائیں اتنا حوصلہ!اتنا ضبط! تو یہ رمضان اور یہ روزے ہمیں ان ہی رویوں کو برتنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
کل مجھے صبح سے شام تک ان ہی تلخ رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر مقام پر آزمائش تھی سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھوں ڈر تو اتنا ہے کہ مجھے یہ بتانابھی غیبت لگتا ہے مگر پھر بھی جو سکون ملا اس کے پیش نظر بتا دیتی ہوں، رکشہ والے بھائی نے کرایہ زیادہ ڈبل کے قریب مانگا اورلیکر بھی مطمئن نہ ہوابلکہ پیسےکم واپس دیئےمزید سو روپے رکھ لئے کہ افطار کیلئے خربوزہ خریدوں گانہ چاہتے ہوئے بھی میں نے کہا اس طرح درست نہیں لگتا!مگر اس نے رکھ لئے۔دل تو نہیں چاہ رہا تھا مگرمیں نے سوچا چلیں کوئی بات نہیں۔ اللہ برکت دے
۔ پھر کپڑے والےبھائی نے بنیان کی اورلنگیوں کی قیمتیں تین گنا زیادہ بتائیں جب میں نے کہا کہ نہ اپنا وقت ضائع کریں نہ میرا بس اتنے کی ہی لوں گی تو تقریبا ًشام چار بجے کے وقت بھی کہنے لگےصبح ہی صبح پہلا گاہک ہے خالی ہاتھ نہیں جانے دوں گا۔ دُگنی قیمت میں لوںگیاں دیں۔ اس حتمی فیصلے پرکہ اس دام میں آگے کہیں نہ ملیں گی ۔ واللہ عالم!میں نے وقت بچانے اور ضرورت کے پیش نظر خرید لئے ۔ یہ سوچ کر کہ ممکن ہے دام بہت زیادہ بلکہ بہت ہی زیادہ ہو گئے ہوں گے۔ان ڈیڑھ دوسال میں مجھے تسلی رہی کہ کوئی بات نہیں لینا توہے۔ اللہ ہی برکت دے گا۔ بنیان والے صاحب نے بھی دگنی قیمتیں بتائیں مگرکافی باتیں کر کے تھوڑا وقت کاٹ کر آخر کار آدھی قیمت میں دو بنیان دیں۔شکر ہے تہذیب کے دائرے میں معاملات طے پائے اور سود ا ہو گیا۔ ہر موقع پرمجھےلگا یہ ظلم ہے وقت بھی ضائع کر رہے ہیں ۔ قیمتیں بھی زیادہ لے رہے ہیں۔ کیا ظلم نہیں؟ مگر میں ناراض نہیں ہوئی ، نہ ہی انہیں غصہ دکھایا بس دل میں سوچ رہی تھی کہ کیا میں نے ظلم کیا یا انہیں معاف کیا؟فیصلہ نہ کر پائی لیکن کیونکہ خریداری کرکے رکشہ والے کو بھی نمٹا کر ایک سکون کا احساس ہوا تو لگا میں نے ہی صحیح کیا۔پھر اسی طرح ایک رشتہ دار کو ایک واقعہ کی اطلاع خود غرضی کی بناء پر نہیں دی تھی جس پر شرمندہ اور بے چینی محسوس کررہی تھی ۔ آخر کار پہل کرکے خوش اسلوبی سے بات کی اطلاع دی تو مزیددکھی ہو گئی کہ ہر بندہ یہ سمجھ کر انہیں اطلاع نہ دے سکا کہ شاید فلاں نے انہیں بتا دیا ہوگا!جبکہ غلطی مجھ سے بھی ہوئی تھی وہی انا کہ ہر وقت میں کیوں بات کروں مگر پھر یہی خیال کیا کہ جورشتہ دار تمھارے حقوق ادا نہ کرے تم اس کے حقوق ادا کرو۔
اللہ کی شان! انہیں اطلاع دینے کے بعد ایک سکون کا احساس ہوا اور انہوں نے بھی کوئی گلہ نہ کیا بلکہ بڑی اچھی طرح بات کی تو میں خود پر شرمندہ ہو گئی جبکہ وہ رشتے اورعمر میں بڑے تھےمگرانہوں نے ضبط کا مظاہرہ کیا اور شکایت نہیں کی۔ واقعی رب کی ذات عظیم ہے۔ وہ بڑاہی قدردان ہے ذر اسی چشم پوشی اور قدردانی کے عوض سکون کی وہ خوشی عطا فرماتا ہے جو نا قابل بیان ہوتی ہے، پھر پریشانیاں خوشیوں میں بدل جاتی ہیں۔ اتنی آسانیاں عطا فرماتا ہے۔گھر آئی تو افطارکا انتظام خود بخود ہو گیا۔ ایک عزیز کچوریاں لے آئے اسی طرح ایک محلے دارجو سدالا تعلق اوربگڑے لگتے تھے۔اُن کو دُعا سلام کے بعد تھوڑی افطاری بھجوا کرایک راحت نصیب ہوئی جو مجھے چاق و چوبندکرگئی۔اسی طرح کے متضاد رویوں پرمثبت رویے اور خلوص کی کیفیت نے نہال کردیا۔راحت کی نیند رات کونصیب ہوئی الحمد للہ اور آج اس کے اظہار کا موقع بھی مل گیاجومیرے لئے انعام سے کم نہیں کیونکہ پچھلےپورے ہفتےیعنی رمضان سے پہلے والے ہفتے سے جودل بوجھل تکلیف دہ اور پریشان کن تھے، سب ٹھیک ہو گئےسبحان اللہ صرف روزے میں معمولی نفس پرکنٹرول نے یہ صورت حال پیش کر کےمجھے قائل کر دیا کہ ایک مہینہ ہی کیوں،ہم ساری زندگی برائیوں سے بچ کرہی آخرت سنوار سکتے ہیں۔
اللہ ہم سب کوواقعی خاندانی مسلمان نہیں بلکہ شعوری مسلمان بنائے، ہم ہمیشہ خود بھی اللہ کی مانیں اور چلتے پھرتے اپنے ہر عمل سے تبلیغ کا حق ادا کریں۔۔آخرت کیلئے ہماری یہی گریڈ اے ون کی تیاری ہو گی۔انشا ء اللہ





































