
لطیف النساء
ہم کیسے مسلمان؟ احتساب کریں ہمار ا طرزعمل ذمہ داریاں، صبح کے بجائے زوال کے بعد اٹھنے کی انگڑائیاں مظلوم مسلمانوں کی دُہائیاں اور
اپنی لاپرواہیاں!غیر تو غیر اپنے بھی ہوئے پرائے۔ مسلمان تو مسلمان کا بھائی ہے اس کی زبان یا ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا نہ اسکو دکھ یا غم پہنچانا چاہئے۔ اگر جذ بے نیک ہوں، قوت ِایمانی ہو، کوئی وجہ نہیں کہ خود تکلیف سہہ لیں مگر دوسروں کو ذرا بھی تکلیف نہ دیں۔ کہاں ہے ہمار ا صبر و برداشت، سستی اور کاہلی ہم پر کیوں چھائی ہوئی ہے؟ زوال کے بعد ہمارے کاروبار شروع ہو نگے فطرت سے منہ موڑیں گے تو کیسے فلاح پائیں گے؟ ارد گرد کی خبر کون رکھے گا؟ کتنی بے ایمانیاں، لوٹ مار، چوری چکاری ہورہی ہے ہر بندہ دوسرے کو لوٹ رہا ہے صرف بیوٹی پارلرز اور سیلونز اپ گریڈ ہوتے جارہے ہیں۔
بازار پھر بھی رات گئے تک بھرے پڑے ہیں دیگر اسلامی ممالک پِس رہے ہیں اور آئے دن ان کی المناک خبریں کشمیر فلسطین، مسجد اقصٰی جگہ جگہ سے جہاں مسلمان درندوں کے ہاتھوں لُٹ رہے ہیں۔ ہمیں مدد کیلئے پکار رہے ہیں۔ظاہر ہے ایک بھائی نہتا دوسرے مسلمان بھائی کو پکارے گا بے شک ایمان اللہ پر ہے مگر آزمائش توسب کی ہی ہے ناکیوں ہم اتنے سنگ دل اور بے وفابنے ہوئے ہیں؟ کیوں ہمارے ضمیر نہیں جاگ رہے؟ ہمیں کیا عید اور اس کی تیاریاں زیب دینگی جبکہ ہمارے مسلمان بہن بھائیوں بچوں بزرگوں کو اسرائیلی درندے بھون کر رکھ رہے ہیں اور وہ نہتے لوگ پکار رہے ہیں۔ دنیا کے مسلمانوں کی طرف کہ کہاں ہو تم کہاں ہو؟ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ مسجد الاقصیٰ محاصرے اور آگ کی زد میں ہے تو کہاں ہو تم افواج مسلمین؟ کیا وہ وقت نہیں کیا کہ تمھارے دل مسجد اقصیٰ سے بلند ہونے والی تکبیروں سے تمھارے دل دھلتے نہیں تمھیں غیرت نہیں آتی؟ مسلم افواج کے سرداروں سے ایوانوں کوہلانے کیلئے ان خواتین کی اور
اسی ارض مبارکہ کی خواتین کی چیخیں سنیں اور انکی مدد کے لئےجان ہتھیلی پر لیکر آگے بڑھیں، ان کی مدد کیلئے۔کب مدد کرو گے انکی؟ جب وہ ضرورت پڑنے پر مدد کیلئے پکار رہے ہیں! واقعی تمہیں ضرور جواب دینا ہوگا یہ تم پرفرض ہے اس مبارک سرزمین کی حفاظت کیا ہم سب کا فرض نہیں؟ واقعی ہم کب حرکت میں آئیں گے؟ اتمام حکومتی ٹولے اپنے اپنے مسائل میں لگے ہوئے ہیں اور انکی مدد نہیں کر رہے وہ تو خود اپنے وطن کے لوگوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں انکی مصیبتوں اور مسائل کو حل کرنے کیلئے متحد ہو کر کام نہیں کر رہے نہ کسی کو کرنے دے رہے ہیں تو پھر بجائے دیگر مسلمانوں کیلئے چاہے وہ کہیں کے بھی ہوں، کشمیر کے ہوں، فسلطین کے ہوں یا مسجد ا قصیٰ کے انکا غم انھیں کیوں نہیں نظر آرہا؟ کیوں حکومت اپنے حر اول دستے اُن کی مدد کیلئے نہیں بھیج رہی؟ اور کیوں دیگر اسلامی ممالک تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ان مقدس مہینوں کا سب سے مقدس کام ہی یہ ہے کہ ظالم کا ہاتھ ہر قیمت پر روکا جائے۔ظالم کو اگر دباؤ کے ساتھ نہ روکا گیا تو یہ تو بڑھتا ہی جائیگا پھر تم ہم کوئی نہ بچ سکے گا۔ اپنے ضمیر کو جھنجوڑ یں اور تمام مسلمان بنیان المرصوص بن کر دشمن سے ٹکرائیں۔ پہلا قدم بڑھائیں سچی اور نیک نیت سے جب ہی تو اللہ کی مدد آئیگی۔ اتنا میڈیا دیکھا رہا ہے جبکہ اس سے کہیں زیادہ چھپا رہا ہے عقل مند کو تو اشارہ کافی ہے۔ کیوں نہیں ہماری حکومت اور افواج اور دیگر اسلامی ممالک حکمت عملی سے ان ظالم قوتوں کا منہ توڑ جواب دیتے، کیوں ان جنگلیوں اور بھیڑیوں کے سپرد اپنے ان مٹھی بھر مسلمانوں کونہتا چھوڑ کر تماشادیکھا جا رہا ہے؟بچہ بچہ گربیان پکڑے گا قیامت کے دن! ہمارا ہم کیا جواب دینگے؟
ہمیں اپنی اپنی پڑی ہے۔یاشیخ اپنی دیکھ یہ تو محض دنیا داری اورخود غرضی ہوئی نا! ساتھیوں عید کی خوشیاں، اخراجات، ملبوسات،تقریبات ہمیں کب زیب دینگیں، جب ہمارے مسلمان ساتھی جانوروں کی طرح ذبح ہو رہے ہوں، انکی اس مقدس سر زمین کی اور وہاں رہنے والوں کی زندگی اجیرن کی گئی ہو، بے حرمتی ہورہی ہو؟ ہم کیسے خوشیاں منا سکتے ہیں؟ اپنی سی ہر کوشش کریں، مال سے جان سے دعاؤں سے،تہجد میں رو رو کر رب سے مدد طلب کریں۔ خود جانی،مالی، قلمی، جذباتی، روحانی ہر طرح سے جہاد کریں۔
اللہ تعالیٰ اس کیلئے ہمیں جرأت دے ہماری غیور افواج کو وہ زندہ تمنا دے جو واقعی روح کوتڑپا دے جو قلب کو گرمادے،صرف ہونٹوں کے ہلانے سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں اور بے لوث محبتوں کے ساتھ ایسا عمل دیکھا ئیں جو عالمی طاقتوں کو بھی ہلادے۔ آپ یقین جانئے وقت پر ہی کیا گیا کام قابلِ قبول ہوتا ہے۔ مرنے کے بعدبلا نا بیکار ہے، بے سود ہے۔ کیا چڑیا کی چونچ جتنا پانی بھی نہیں لایا جا سکتا؟ اپنےملک میں کس چیزکی کمی ہے؟ جی ہاں ایمان کی کمی ہے صبر برداشت کی کمی ہے۔ ہمدردی نام کو نہیں، لوٹ مار میں لگے ہوئے لوگ دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ تو ہمارے احتساب اور عمل کا وقت ہے حکومت اور افواج عالمین اور مسلمین سے در خواست ہے خصوصا ًپاکستانی افواج اور حکومتی اداروں اور دیگر فلاحی اداروں سے اپیل ہے کہ خدارا اپنا فرض نبھائیں، مظلوموں کو بچائیں، مسجد اقصیٰ کی حفاظت کریں، زندگی ایک بارہی ملتی ہے اسے کسی اچھے مقصد کیلئے لگا دیں موت تو آتی ہے ہی! تو کیوں نہ اسے امر کر دیں:
بس ایک دیا جلاد وتم کسی صداقت کا
زمانہ عمربھر پھر اسکو ہوائیں دے گا
واقعی درست ہے:
کیا خاک وہ جینا جو فقط اپنے لئے ہو
خودمر کے کسی اور کو مرنے سے بچا لو
ہم سنتے ہیں سر دُھنتے ہیں۔ گاتے ہیں بجاتے ہیں
اے مرد مجاہد جاگ ذرا
پھر وقت شہادت ہے آیا
اللہ اکبر، اللہ کبر
تو ساتھیوں آگے بڑھئے انتظار کیسا؟





































