
لطیف النساء
بےشمار اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اعمال ہیں مگرہمیں غور سے سمجھ جانا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ
تعالیٰ کا پسندیدہ عمل فرمایا ہےکیونکہ وہی ہماری جنت ہیں اور وہی تمہاری دوزخ... ابن ماجہ کی یہ حدیث ماں باپ کی کتنی اہمیت نمایاں کرتی ہے ۔ اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہمیں ہمیشہ عمل کرتے رہنا ہے ورنہ آج کل دیکھیں بچے اپنے ماں باپ کو صرف مطلب پرستی کیلئےاستعمال کرتے ہیں۔ اپنی ہرجائز نا جائزخواہش منوا لیتے ہیں اورماں باپ محبت کےمارے بچوں کے ہاتھوں بکےجارہے ہیں۔ اگرچہ ماں باپ اوراولاد کی محبت بڑی ہی عظیم اور دلکش ہے مگر پھر بھی ماں باپ اپنے والدین کے ساتھ اگر اپنا رویہ درست رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تا بعداری کریں،انہیں اُف تک نہ کہیں تو ان کی اولادیں صرف یہ دیکھ کرہی بہت کچھ فرما نبرداری سیکھ جاتی ہیں۔ ادب، لحاظ ، تمیز تہذیب بچے ماں باپ سے ہی تو سیکھتے ہیں اور پھرمعاشرے میں اور ہرجگہ ان ہی کی بدولت خوش اخلاق کہلاتے ہیں ومہذب کہلاتے ہیں۔
کتنی خوش قسمتی کی بات ہوتی ہےجب بچوں کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ بچے بڑے اچھے ہیں ان کا خاندان بہت اچھا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر بچے بگڑ جائیں لڑائی جھگڑا،ہڈ دھرمی،نفسانفسی اوراکڑ ہو اورمغرورہوں، مطلب پرستی ہو، خود غرضی ہو، چالبازی اور مکاری ہو یا پھر بچے سست اور کاہل ہوں برعکس چست، چاک وچوبند اور پھرتیلے ہونے کے تو یہ منظر انتہائی تکلیف دہ بن جاتا ہے۔ ہم نے اکثر سنا ہے کہ اگر کسی بچے نے کچھ برا کیا تو کہا جاتا ہے کہ تمہارے ماں باپ نے یہ سکھایاہے؟ میں نے تو ایک صاحب کو یہ کہتے سنا تب ان سے کہا گیا کہ اتنی گالیاں دیتےہو اور بہن بھائیوں کے علاوہ والدین تک سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہو کیوں ؟ تمہیں تمیز نہیں ہے؟ اس نے کہانہیں! پوچھا تمہاری ماں نے تمہیں یہی سکھایا ہے؟ کہنے لگے ہاں! جی ہاں بچپن سے میں نے ماں باپ کی گالیاں سنتےاورانہیں جھگڑتے دیکھا ہے تو مجھے خود بخود یہ سب کرنا آگیا حالانکہ میرا دل نہیں چاہتا مگر مجھے ایسا کر کے تسکین ملتی ہے تو سوچیں شرپسندی کی نوبت کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی؟
آج کل کتنے حالات خراب ہیں ماحول میں اداسی ہے۔ مہنگائی اوربد اخلاقی اور نا انصافی کا دوردورہ ہے۔ اس میں بھی والدین ہی ہیں جو کسی نہ کسی طرح محنت کرکے مشقتیں جھیل کراپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں بعض حلال کام اور کمائی سے اوربعض انتہائی لاچاری اور بے بسی میں تو بعض حرام کام اور حرا م کمائی کرکے اولاد کو خوش بلکہ بہت خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ تینوں صورتوں میں ماں پاپ بچوں کی خواہشات اورزندگیوں کی خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انہیں سکھی رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔صبح ہی صبح دیکھیں کیسےمزدورانتظارمیں بیٹھےہوتے ہیں ۔ کوئی آئے اور دیہاڑی پر لے جائے۔ بلڈ نگوں میں، کارخانوں میں، بسوں میں اندر اوراوپر سڑکوں پر، گٹروں، ندی نالوں میں تک ہردم آپ نےلوگوں کو کام کرتے دیکھاہوگا؟ یہ لوگ کیوں مصروف ہیں صرف اپنا پیٹ پالنے کیلئے نہیں بلکہ اپنی فیملی چلانے کیلئے۔ ہم ساری زندگی ایسے ہی مناظر دیکھتے ہیں۔ لمحوں میں دن گزر جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جب ہم خود والدین بنتے ہیں تو ہمیں اپنے والدین کی قدر آتی ہے خاص کر بیٹے کو باپ بننے کے بعد ہی باپ کی قدرآتی ہے کہ کیسے انہوں نے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا؟ بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے زندہ والدین کی کبھی شکرگزاری نہیں کرتے بلکہ الٹا طعنے دیتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟
ایک بہن ہیں وہ کہنےلگی کہ میرے بیٹے نے موبائل فون میرے منہ پرمارا، اتنی مشکل سےنوکری ملی مگر اسے قدر نہیں، دوسرے چھوٹے ہیں بھائی کیا سیکھیں گے؟ مجھ سے کہتا ہے کہ تم نے اس آدمی سے شادی ہی کیوں کی؟جس نے ہمارے لئے کچھ نہ رکھا اوراللہ کو پیاراہو گیا؟ گھر کا بڑا بچہ ہے بیوگی کے 16 سال گزارکر میں نے انہیں پاؤں پرکھڑے ہونے کے قابل کیا اور یہ مجھ سے سوال کرتے ہیں؟ مگرآپ ان کا ظرف دیکھیں چندہی دنوں بعد جب دوبارہ ملی توکہنے لگی معصوم ہےبچپنا دکھاتا ہے،غصے میں کردیا۔ اب تو بالکل ٹھیک ہے مجھ سے کہتا ہے کہ میری شادی کروا دو بتاؤ؟ بیچاری ماں کی ممتا! خودد بیمار جیسے تیسے گھر تبدیل کیا اور شادی کی۔ چھ سات مہینے تک صحیح رہا مگر پھر بیوی سے براسلوک کیا تو وہ ماں کے گھرجا بیٹھی اورخلع بھجوا دیا۔ اب ماں کو مزید تنگ کر رہا ہے کہ ماموں کو گھر نہ آنے دو کیونکہ انہوں نے رشتہ لگوایا تھا؟ جس ماموں نے بچوں کی طرح پال پوسنے میں مدد کی لمحے بھر میں انہیں رسوا کر دیا مگر پھر بھی ماں کا ظرف دیکھیں اس کو گھر میں رکھا ہے۔ ہاتھوں سے پکا کر کھلاتی ہیں، کپڑا لتا سب کرتی ہیں مگر بہو کے بچھڑنے کا غم خود کو قصور وارسمجھتی ہیں۔ یہ ماں کی بے لوث محبت نہیں تو اور کیا ہے؟
حکم تو ہے کہ والدین کو اف تک نہ کہو مگر یہ کتنی تذلیل کرتے ہیں انہیں احساس تک نہیں۔ بڑھاپا تو والدین کا کتنا بے چین ہوجاتا ہے اگرا ولاد سکھی نہ ہو مگر سوچنا تو اولاد کو چاہیے کہ کیوں وہ ماں باپ کو دکھ یتے ہیں۔ اگر سکھ نہ دے سکیں تو کم از کم انہیں دکھ بھی نہ دیں کہ یہ سائباں، ٹھنڈی چھاؤں بے لوث چاہنے والے اور تمہیں ترقی کرتے دیکھنے اور چاہنے والے کبھی کہیں اور نہ ملیں گے ماں باپ اور ان کی محبت کے بدلے میں ہم کیا کرتے ہیں سب سے قیمتی وقت انہیں نہیں دیتے جس کے وہ زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ اپنی اپنی جگہوں پر بچوں سے زیادہ بے چین ہوتے ہیں۔ اس وقت کیوں کہ صبر برداشت کم ہوجاتا ہے، بھول جانا عذاب بن جاتا ہے۔ بچے نہیں سمجھتے اور انہیں بڑا ہی سمجھ کر بہت سی با توں کا برامانتے ہیں درگزر نہیں کرتے۔ وہ بالکل بچوں کی طرح کی حرکتیں کرتے ہیں اور بسا اوقات باتیں بھی، بسا اوقات بلاکی حکمت بھری باتیں کرتے ہیں تو دوسری طرف بچوں سے زیادہ ضداور بیوقوفیاں لیکن اب اولاد کی آزمائش ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ آپ وہ وہی کریں گے جو ان کے والدین نےدادی دادا اورنانی نانا سے سلوک کیا جتنا ایمان اور تقویٰ مضبوط ہو گا، بچوں کا عمل خود بخود مشفقانہ اورخالص ہو گا ماحول پرسکون اوردل مطمئین ہوں گے،ورنہ دکھاوے میں نہ برکت ہوگی نہ روح کا قرار، بچے اگرسمجھ جائیں کہ:۔
محبت ماؤں کا آنچل، محبت باپ کی شفقت
محبت رب کی رحمت کا جہاں میں نقش ثانی ہے
محبت حق کا حکمہ ہے محبت چاشنی من کی
محبت روح کا مرہم، دلوں کی حکمرانی ہے
فنا ہوجائیگی دنیا فنا ہو جائیں گے ہم تم
محبت باقی رہ جائے گی، یہ تو جاودانی
محبت کا لحاظ اور کن الفاظ سے ہوگا
محبت تو محبت ہے محبت زندگانی ہے
ماں کی محبت کو اللہ نے اپنی محبت کا پیمانہ بنادیا ہے۔ اس لیے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے تو اسکا قوام باپ بھی کتنا ہی عظیم ہو گاسوچیں؟تو پھر آپکا سلوک انکے ساتھ کیسا ہونا چاہیے؟ یہ کہنے کی نہیں سہنے کی بات ہے اپنی جنت اورجنت کے دروازے کیلئے اس دنیا میں ہی بے لوث اور بے غرض محبت کرنے کا خالص ثبوت دینا ہی دراصل اولاد کا فرض ہے،حق ہے اور ترجیحِ اول ہےتو سمجھیں آپکا مقام خود بخود بلند ہوتا چلا جائے گا دونوں جہاں میں انشا ء اللہ و العزیز۔





































