
لطیف النساء
نئی صبح" نیا احساس "کہ میں زندہ ہوں!واقعی ہم سب کو مبارک ہو الحمد للہ کتنے شکر کی بات ہے دنیا بھرمیں ہونے والے ہزارہا حادثات، آفات اور بلیات
کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں نئی زندگی، سورج کی نئی روشنی اورنیا ہجری سال کا محترم مہینہ محرم کا آغار دکھایا! یہ ہجری کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور وہ بھی ان چار احترام والے مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے۔ سبحان اللہ۔ اس مہینے کی کتنی برکات ہیں۔
تاریخ شاہد ہے کتنے اہم واقعات اس ماہ میں ہوئے۔ اسلامی ریاست کے قیام کیلئے کی جانے والی ہجرت کتنی مقبول و معروف کہ ہجری کیلنڈر کا وجود عمل میں آیا۔ ہجرت کوئی معمولی بات نہ تھی کتنی عظیم قربانی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کیلئے ان کے صحابہ کیلئے اور دل شکستہ تمام لوگوں کیلئے جنہوں نے مکہ کی سرزمین کو اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ اور مدینہ کا رخ کیا ۔ گویا یہ تو مسلمانوں کے خون میں شامل ہے۔ کتنا ہی کٹھن مرحلہ ہوتا ہ جو اپنے بسائے گھر بارعزیز و اقارب مانوس ماحول کو خاص کر کعبہ کو چھوڑ کر جانا مگر یہی قربانی اسلامی تاریخ کا سنگ میل بن گئی۔ گویا ہر مشکل اور اہم کام کیلئے قربانی دینی ہوتی ہے۔ آپ نے کیسے لوگوں کو تبلیغ کی اپنے ہر عمل سے کہ اندھی تقلید نہ کرو بلکہ شعوری طور پر رب کی پہچان کرو۔اس لئے ہی آپ نمازِ فجر میں سورۃ الکافرون پڑھتے تھے کہ پہلے شرک کو چھوڑو، کوئی نہیں کوئی نہیں سوائے رب کے جولا شریک ہے عقیدہ مضبوط ہو گا تو "توحید" دلوں پر چھا جائے گی۔ نیکی کی طرف بڑھنا آسان ہو گا۔ کوئی الٰہ نہیں جورب ہے وہی سب ہے۔
آپؐ جانتے تھے کہ بر ائیوں سے جہالت سے رسم و رواج سے غلط عقائد سے بچنا نکلنا آسان نہیں اسی لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں حق کی خاطر، سچ کی خاطریہی در س جگہ جگہ دیا گیا یہ تو مادی ہجرت ہوتی ہےجس میں اتنی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ جسمانی اذیتیں سہنی پڑتی ہیں۔ روحانی ہجرت کا تصور کریں!کتنا مشکل ہوتا ہے باپ داداؤں کی رسم و رواج اور عقیدوں کو ختم کرنا لیکن نہیں جس کے دل میں اللہ،رسولؐ کی محبت ہووہ ہر طرح کی ہجرت کیلئے تیار رہتا ہے۔ شعوری طور پر سوچیں ہم کتنے خوش نصیب ہیں ہمیں بنا بنایا اسلامی ملک ملا! اسلامی جمہوریہ پاکستان!سبحان اللہ لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں؟ دنیا میں ہمارا کیا مقام ہے خود ہماری اپنی نظروں میں ہماری کیا وقعت ہے؟ کیا ہم مسلم فرمانبردار ہیں؟ کیا ہم اب بھی باپ داداؤں کی رسومات اور عقائد میں ملوث نہیں؟ کیا ہم صرف نماز پڑھ کر تھوڑی بہت عبادات کر کے غافل نہیں ہوگئے۔ کیسی کیسی اندھی تقلیدوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ بے جا فیشن اور مغربی تہذیب کی نقالی ترقی کے نام پرکرکے فخر نہیں محسوس کر رہے ہیں ۔ہمارے کردار، اخلاق، اطوار، لباس، بے حیائی رسومات اورتہوار دیکھیں، جینا مرنا دیکھیں کہاں سے کہاں تک کی تبدیلیاں آگئی ہیں ۔ ہم توزبان سے بھی بے بہرہ ہوتے جا رہے ہیں ۔ بجائے اس کے کہ ہم قرآن کو برکت کی چیز سمجھ کر اس سے گہرا تعلق جوڑیں کہ اس سے ہمارے وقت میں کاروبار میں صحت میں روزگار میں برکت ہی برکت ہوگی۔ہ دوسروں کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ زبان گئی، لباس گیا، انداز گیا،
رہنے سہنے کا اسٹائل گیا۔ فہم رکھتے ہوئے دین میں رہتےہوئےمسلمان ہوتےہوئے ہماری ہجرت کس رخ کی ہے؟سوچاہم نے؟ ہم کہاں جارہے ہیں؟ ہمارے بچے کہاں اغوا ہوگئے ہیں؟ کہاں وقت صلاحیت گنوا رہے ہیں؟ کچھ خبر ہے؟ ہماری ہجرت کا رخ کہاں ہے؟ ہماری ترقی نہ صرف رک گئی ہے بلکہ تیزی سے تنزلی کی طرف گامزن ہے کیونکہ ہم نے اپنی اسلامی تہذیب معاشرت معیشت کو بگاڑ لیا ہے ٹیکنالوجی کے غلام ہوگئے ہیں۔
دین سے دور ی اور قرآن سے تعلق کی مسلسل کمی ہمیں بیمار کئے جارہی ہے اورہم بحیثیت قوم ضعف اور کمزورہوتےجارہے ہیں۔ آج کے دور کی اہم ترین ہجرت کیا ہونی چاہئے؟احتساب کیجئے! اللہ کا شکر ابھی ہم زندگی لئے ہوئے با ہوش و حواس ہیں بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہوا ہے ہمیں بھی ہجرت کرنی پڑے گی۔ الحمدللہ اسلامی سلطنت ہے مسلمان بھائی بہن ماحول ملا ہے لیکن ہمیں دوبارہ کلمے کو زندہ کرنا ہے، قرآن سے جڑنا ہے۔
مستقل اپنے گھروں میں اپنی ذات میں قرآنی فہم ، شریعت اور ترجیح اول دینی ہوگی۔ ہمیں اپنےاسلام سے سبق لیناہوگا نعمتوں کا شکرکرتےہوئے کردار کو ایک صالح اور محنتی بنانا ہوگا، اخلاقی گراوٹ کو ختم کرنا ہوگا، اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچرکو صحیح معنوں میں فروغ دینا ہوگا۔ محنت محبت اور مشقت کو اپنا دستوربناناہو گا، وقت کی قدر کرنی ہوگی۔ انصاف ہر صورت بحال ہو ہر جگہ ہر طرف ہمدردی اور سچی اخوت نبھانی ہوگی۔ ا
للہ کو راضی رکھنا ہوگا اس کیلئے ہمیں پر طرح کی مشغولیات، خرافات اور بےہودہ ٹیکنالوجی کو خدا حافظ کہنا ہوگا اور پلٹ کر بھی ادھر نہ دیکھنا ہوگا۔ ہماری زندگی کتنا عظیم مقصد لئے ہوئے ہے اسے سمجھنا اور اسکے حصول کیلئے جُت جاناہوگا۔ روحانی ہجرت اور جسمانی ہجرت دونوں کو اختیار کرنا ہوگا، بڑی جگہوں، بڑے مقامات، بازار سینما، تھیٹر کو خیر باد کہہ کر صحیح معنوں میں ہمیں تمام تر گناہوں سے ہجرت کرتے ہوئے نیکیوں کی طرف دوڑ نا ہوگا، مساجد اور گھروں کو آباد کرنا ہوگااور اور اپنی تہذیب کیلئے صبح اٹھکر شکرادا کرتے ہوئے سارے کام خوش اسلوبی نیک نیتی سے کرنے ہونگے عبادات کو عادات نہیں عبادات سمجھنا ہوگا۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد کو صحیح معنوں میں سمجھ کر عمل کرتے ہوئے مختصر زندگی کےسفرکو مصروف اور معروف بنانا ہی جہالت کے اندھیروں سے نئی صبح نئی روشنی اور ہدایت کے نور کی طرف ہجرت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہدایت دے۔





































